تازہ ترین

Marquee xml rss feed

بچے کی ولادت دوہری خوشی لائے گی بچے کی ولادت پر ماں کے لیے 6 اور باپ کے لیے 3 ماہ کی چھٹیوں کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا گیا-وزیر اعظم عمران خان 21 نومبر کو ملائشیا کے دورے پر روانہ ہوں گے وزیر اعظم ، ملائشین ہم منصب سے ملاقات کے علاوہ کاروبای شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے-متعدد وزراء کی چھٹی ہونے والی ہے 100 روز مکمل ہونے پر 5,6 وفاقی وزراء اور متعدد صوبائی وزراء اپنی ناقص کارکردگی کے باعث اپنی وزارتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے-نوازشریف،مریم نوازاورکیپٹن(ر)صفدرکی رہائی کےخلاف نیب اپیل کامعاملہ سپریم کورٹ نے نیب اپیل پر لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم جاری کردیا-ڈیرہ اسماعیل خان میں جشن عید میلاد النبی ؐکی تیاریاںعروج پرپہنچ گئیں-آئی جی سندھ نے حیدرآباد میں واقع مارکیٹ میں نقب زنی کا نوٹس لے لیا-عمر سیف سے چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا اضافی چار ج واپس لے لیا گیا-پنجاب کے 10ہزار فنکاروں کے لئے 4لاکھ روپے مالیت کے ہیلتھ کارڈ جاری کئے جائیں گے‘فیاض الحسن چوہان صوبے میں 200فنکاروں اور گلوکاروںمیں ان کی کارکردگی,اہلیت اور میرٹ کی ... مزید-پاکستان میں امیر اور غریب کے درمیان طبقاتی فرق اضافہ ہوگیا ہے ،ْ دن بدن فرق بڑھتا جارہاہے ،ْ ورلڈبینک-وزیراعظم جنوبی پنجاب صوبے سے متعلق جلد اہم اقدامات کا اعلان کرینگے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے وزیراعظم عمران خان اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل کمیٹی ... مزید

GB News

ایم کیو ایم کے فیصلے لندن نہیں پاکستان میں ہوں گے،فاروق ستار

Share Button

کراچی (آئی این پی) متحدہ قومی موومنٹ نے الطاف حسین اور لندن آفس کو پارٹی معاملات سے الگ کرتے ہوئے لاتعلقی کا اعلان کردیا، ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے پارٹی کی کمان سنبھالتے ہوئے واضح کیا ہے کہ متحدہ قائد کا مسئلہ حل کرنے کی ضرورت ہے، ہم پاکستان کی جماعت ہیں یہیں رجسٹرد ہیں یہیں سیاست کرتے ہیں، ایم کیو ایم کے فیصلے آج سے لندن نہیں پاکستان میں ہوں گے ، پاکستان مخالف نعروں اور میڈیا ہاﺅسز پر حملوں کی مذمت اور لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں،عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ایم کیو ایم کا کارکن ہو یا قائد کسی کو ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے ایسا عمل نہیں دہرانے دیں گے، وہاں سے بار بار کہا جاتا ہے کہ ذہنی دباﺅ ہے، اگر ذہنی تناﺅ کی وجہ سے متنازع بات کی گئی تو پہلے یہ کیفیت دور کرنا ہوگی، پاکستان کے خلاف بات کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دے سکتے،ایم کیو ایم ہم ہیں الطاف حسین کے بیان اور پالیسی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں، قائد ایم کیو ایم پہلے اپنی ذہنی حالت درست کریں،پارٹی پالیسی کے خلاف جو بھی بولے گا پارٹی سے نکال دیں گے،کراچی آپریشن یا رینجرز اختیارات کے خلاف نہیں، سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کی سوچ ترک کر دی جائے،نائن زیرو اور دیگر سیل دفاتر کو کھولا جائے۔ وہ منگل کو متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما آصف حسنین، اقبال محمد علی ،شیخ صلاح الدین ، ڈاکٹر فوزیہ ، نگہت مرزا ، غالب مقبول صدیقی، نسرین جلیل، ارشد گوہرا، خواجہ اظہار الحسن ، وقار شاہ، سفیان یوسف، سلمان مجاہد ڈاکٹر عامر لیاقت اور فوزیہ حمید بھی موجود تھیں، ایم کیو ایم کے اراکین جب پریس کلب پہنچے تو کارکنوں نے جیوے جیوے پاکستان کے نعرے لگائے جواباً ایم کیو ایم رہنماﺅں نے بھی پاکستان زندہ آباد کے نعرے لگائے ۔فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، انتظار کرنے پر صحافیوں سے معذرت خواہ ہوں ہماری خواہش تھی کہ پریس کانفرنس گزشتہ روز کریں لیکن افسوس کی بات ہے کہ کل گزشتہ روز ہمیں اپنا مو¿قف پیش نہیں کرنے دیا گیا، پورے پاکستان نے دیکھا کہ کس طرح ہمیں لے جایا گیا، ہمیں موقف دینے کا موقع ملنا چاہیے تھا ، گزشتہ روز کی بات آج کریں گے، انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے خوف یا ڈکٹیشن سے پریس کانفرنس نہیں کر رہے گزشتہ روز سے 8 گھنٹے رینجرز کے دستوںکے پاس رہے تو لامحالہ یہ تاثر جائے گا کہ سیکورٹی اداروں اور ایجنسی کے دباﺅ کی وجہ سے یہ بیان آیا ہے ، میں یہ بات واضح کر رہا ہوں کہ کسی کے خوف یا ڈکٹیشن سے پریس کانفرنس نہیں کر رہے ہم نے جو بات گزشتہ روز کرنی تھی وہی آج کرنے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز جو ہوا وہ اچھا نہیں ہوا اور ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کبھی ایسا بھی ہوگا ، گزشتہ روز جس طرح کے نعرے لگے ،پاکستان کے خلاف جو باتیں ہوئیں، یہ ہرگز نہیں ہونی چاہیے تھیں۔ریاستکے خلاف باتیں قبول نہیں، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اور پاکستان کے آئین اور قانون کو مانتی ہے، اسی کی بالادستی چاہتی ہے اور پاکستان میں ہی بات کررہی ہے، ایم کیو ایم کا پورا نام متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ہے، متحدہ کی پہلے دن سے پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی پالیسی رکھتی ہے،ایم کیو ایم عام پاکستانیوں کو متحد رکھنے کا عمل ہے،پاکستان مخالف نعروں سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں،میڈیا ہاﺅسز پر حملوں اور پاکستان مخالف نعروں سے متحدہ مکمل لاتعلقی کا اعلان،مذمت اور اظہار ندامت کرتی ہے،میڈیا ہاﺅسز پر حملے ایم کیو ایم کی پالیسی نہیں،تشدد کے ذریعے مقاصد کا حصول بھی متحدہ کی پالیسی نہیں،ایم کیو ایم کے ورکرز مشتعل ہوئے اور تخریب کاروں کو موقع ملا،تخریب کار ایم کیو ایمکو بیک فٹ پر لے جانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ ہمارے لیے صرف پاکستان زندہ باد ہے،کل میں تن تنہا ایم کیو ایم کا مقدمہ لڑ رہا تھا،کچھ نعرے نا قابل معافی و تلافی ہیں،اب ہم مزید یہ گفتگو نہیں سن سکتے،ہم ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ کھڑے ہیں،ایم کیو ایم بتائے گی پاکستان زندہ باد کے نعرے کیسے لگائے جاتے ہیں،یہ پلین فائیو فارمولا ہے۔
ثابت ہوگیاصوبائی حکومت

Facebook Comments
Share Button