تازہ ترین

Marquee xml rss feed

سابق وزیراعظم نوازشریف کل نیب میں تفتیش کے لیے پیش ہونگے، سینئر تجزیہ کار کادعویٰ-حکومت کے گزشتہ چار سال کے دوران موثر اقدامات کے تحت ریلوے کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہی,ریلوے اراضی کی 95 فیصد ڈیجیٹلائزیشن مکمل کرلی ہے‘ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی ... مزید-ایف آئی اے اور پی ٹی اے نے عائشہ گلالئی کے عمران خان پر الزامات کی فرانزک تحقیقات کو ناممکن قرار دے دیا-بدعنوانی کی روک تھام اور لوٹی گئی رقم کی وصولی نیب کی اولین ترجیح ہے، چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری-معیشت مضبوط نہ ہو تو ایٹم بم بھی آزادی کی حفاظت نہیں کر سکتے، سیاسی استحکام معیشت کی مضبوطی کا واحد راستہ ہے دوسروں کی جنگیں لڑتے لڑتے ہم نے اپنے معاشرہ کو کھوکھلا ... مزید-مولانا فضل الرحمان کا آرٹیکل 62,63کو آئین سے نکالنے کی حمایت سے انکار صادق اور امین کی بنیادی شقوں کو نکالنا آئین سے مذاق ہے-احتساب عدالت ، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کرپشن کیس میں دلائل مکمل ، فیصلہ محفوظ-عمران خان کا خیبرپختونخواہ کے خوبصورت علاقے کوہستان کا دورہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل، تحریک انصاف کے سربراہ نے دنیا بھر کے سیاحوں کو پاکستان آنے کی دعوت دے دی-میاں صاحب اپنی عقلمندی کی وجہ سے آج یہ دن دیکھ رہے ہیں، خورشید شاہ ملک میں کوئی سیاسی بحران نہیں صرف ایک جماعت میں بحران ہے، چیئرمین نیب کی تقرری کیلئے بطور اپوزیشن لیڈر ... مزید-تاثردرست نہیں کہ فوج کے تمام سربراہوں کے ساتھ مخالفت رہی، محمد نوازشریف قانون کی حکمرانی پریقین رکھتاہوں،کبھی بھی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی نہیں اپنائی،سپریم ... مزید

GB News

پہلی مرتبہ رواں سال پاکستان میں کوئی صحافی قتل نہیں ہوا، سی پی جے

Share Button

پیرس(آئی این پی) گزشتہ 15 سالوں میں پہلی مرتبہ رواں سال پاکستان میں کسی صحافی کو فرائض کی انجام دہی کی پاداش میں قتل نہیں کیا گیا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق دنیا بھر میں آزادی صحافت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی آزاد تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے اپنی خصوصی رپورٹ میں کہا کہ 15 سال میں یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان میں کسی صحافی کو فرائض کی انجام دہی کی پاداش میں قتل نہیں کیا گیا۔تنظیم نے کسی صحافی کو اس کے کام سے براہ راست تعلق کے باعث قتل کو صحافی کی ٹارگٹ کلنگ قرار دیا، چاہے وہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو یا بلا ارادہ۔سی پی جے نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ 1992 کے بعد سے اب تک 33 صحافیوں کو فرائض کی انجام دہی کی پاداش میں قتل کیا گیا۔تاہم اس صورتحال کے پیش نظر متعدد صحافیوں نے سنگین خطرات سے بچنے کے لیے صحافت کے پیشے سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

Share Button