تازہ ترین

Marquee xml rss feed

انسداد دہشت گردی پولیس سے مقابلے میں بدنام زمانہ کالعدم لشکر جھنگوی کا سربراہ آصف چھوٹو مارا گیا-فیصل آباد، مسلح موٹر سائیکل سوار وںنے فائرنگ کرکے نوجوان کوقتل کردیا-فیصل آباد،بھٹہ انڈسٹری ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے،رانا ثنا ء اللہ بھٹہ انڈسٹری کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے ،صوبائی وزیر قانون-بہاولپور، صوبائی وزیر اور ایم ڈی چولستان درمیان اختلافات ، ایم ڈی کی خدمات واپس ،چولستان کی ترقی سیاست کی بھینٹ چڑھ گی-ملائیشیاء سے ڈی پورٹ ساٹھ افراد کا لاہور ائیرپورٹ پر احتجاج-کراچی،ایف آئی اے نے خاتون کو بلیک میل کرنیوالے ملزم کو حراست میں لے لیا-رضا ربانی، ایاز صادق، خورشید شاہ ، مولانا فضل الرحمان ودیگر کے بینک اکاؤنٹس میں جعلی ٹرانزیکشن کا انکشاف ایف آئی اے اور سٹیٹ بنک کو تحقیقات کی ہدایت-سینٹ ، قومی احتساب ترمیمی آرڈیننس2017ء کو کثرت رائے سے منظور اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا، حق میں 33، مخالفت میں 21ووٹ پڑے رضاکارانہ ... مزید-پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ایف بی آر کی ریٹائرمنٹ کے باعث ملتوی-خبیب فائو نڈیشن کا ترک رفاہی تنظیم آئی ایچ ایچ کے ساتھ شامی پناہ گزینوں کی امداد کا معاہدہ

GB News

خوش آئند قرارداد

download-4

گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی نے ایک قرارداد کی متفقہ طورپر منظوری دی ہے جس میں سکردو ائیر پورٹ کو قومی ہیرو کوہ پیما حسن سد پارہ مرحوم کے نام پر منسوب کرنے کی سفارش کی گئی ہے،قرارداد میںکہاگیا ہے کہ گلگت بلتستان کی پہچان و قومی ہیرو عظیم کوہ پیما حسن سد پارہ کی قومی خدمات کو یہ مقتدر ایوان شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتا اورسفارش کرتا ہے کہ سکردو ائیر پورٹ کو اس عظیم کوہ پیما کے نام سے منسوب کیا جائے’عظیم کوہ پیما کے نام سے سکردو ائر پورٹ کو منسوب کرنے کی قرارداد بلاشبہ نہایت اہمیت کی حامل ہے جس پہ فوری عملدرآمد کیا جانا چاہیے’مرحوم کی خدمات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہم انہیں اگر ان کی زندگی میں وہ مقام نہیں دے سکے جس کے وہ حقدار تھے تو ان کی موت کے بعد تو ہمیں ان کی صلاحیتوں’کردار اور خدمات کو سراہانے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ہم ویسے بھی قبر پرست معاشرے کے باسی ہیں جوعظیم لوگوں کو ان کی زندگی میں ان کی اہمیت کے مطابق مقام دینے سے گریز کرتے ہیں لیکن مرنے کے بعد ان کی قدرو قیمت کا اندازہ لگاتے ہیں۔حسن سدپارہ کا تعلق سکردو سے کچھ فاصلے پر واقع سدپارہ گائوں سے تھا’ انہوں نے کوہ پیمائی کا آغاز1994میں کیا اور1999سے پیشہ وارانہ کوہ پیمائی شروع کی تھی۔ 2007تک انہوں نے پاکستان میں واقع آٹھ ہزار میٹر سے بلند پانچ چوٹیاں آکسیجن کی مدد کے بغیر سر کر لی تھیں۔کوہ پیمائی میں اعلی کارکردگی پر حکومتِ پاکستان نے حسن سدپارہ کو2008میں تمغہ حسن ِ کارکردگی سے بھی نوازا تھا۔حسن سدپارہ نے1999میں قاتل پہاڑ کے نام سے پہچانے جانے والے نانگا پربت،2004میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو،2006میں گیشا بروم ون اور گیشا بروم ٹو جبکہ 2007میں براڈ پیک کو سر کیا۔براڈ پیک سر کرنے کے بعد، حسن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر مجھے تعاون حاصل ہو تو میں فخر سے اپنا جھنڈا مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی تک لے کر جائوں اور چار سال بعد حسن سدپارہ کا یہ خواب اس وقت پورا ہوا جب مئی2011میں حسن نے مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کی اور یہ پہاڑ سر کرنے والے وہ دوسرے پاکستانی بنے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسمبلی قرارداد کے مطابق سکردو ائر پورٹ کو ان کے نام سے منسوب کرنے میں تاخیر سے کام نہ لیا جائے۔

Share Button