تازہ ترین

Marquee xml rss feed

گوجرانوالہ میں پاک فوج اور عدلیہ کے حق میں ریلی ، نعرے بھی لگائے گئے-حکمران عوام کی حالت زار بدلنے کے معاملے پر ڈنگ ٹپائو پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں ‘ مسرت چیمہ عوام نے موقع دیا تو صحت اور تعلیم سمیت بنیادی ضروریات کی فراہمی اولین ترجیح ہو ... مزید-عروج کے دنوں میں شوبز کو چھوڑنا میرے لیے باعث فخر ہے ‘ اداکارہ زاریہ بٹ-کسی بھی فلم کی کامیابی کیلئے سکرپٹ کا اچھا اور معیاری ہونا لازمی ہے‘ صائمہ نور-گلوکارہ حمیرا چنا سیرو تفریح کے لئے دبئی روانہ-عالمی شہرت یافتہ اداکار وکمپیئر معین اختر کی ساتویں برسی (آج )منائی جائے گی-اداکارہ شیزہ بٹ پر فیصل آباد میں قاتلانہ حملے کے ملزمان تاحال گرفتار نہ ہوسکے پولیس کی پراسرار خاموشی /پاکستان میں فن اور فنکاروں کی جان و مال کی کوئی قدر نہیں‘ شیزہ ... مزید-انعامی بانڈ زپر ٹیکس کی شرح کم کی جائے ‘ پی ٹی آئی کی پنجاب اسمبلی میں قرارداد-حکومتی پالیسیوں سے آئی سی یو میں پڑی معیشت کی سانسیں بحال ہو ئی ہیں‘ (ن) لیگ ٹریڈرز ونگ تاجروں نے نا مساعد حالات کے باوجود ٹیکسز کی ادائیگی کر کے معیشت میں کلیدی کردار کو ... مزید-ملک کو مثبت سمت میں آگے لیجانے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کا ایک پیج پر ہونا نا گزیر ہے ‘آل پاکستان انجمن تاجران معیشت کو درپیش مسائل کے حل ،قومی معاملات میں اتفاق رائے کیلئے ... مزید

GB News

خوش آئند قرارداد

Share Button

گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی نے ایک قرارداد کی متفقہ طورپر منظوری دی ہے جس میں سکردو ائیر پورٹ کو قومی ہیرو کوہ پیما حسن سد پارہ مرحوم کے نام پر منسوب کرنے کی سفارش کی گئی ہے،قرارداد میںکہاگیا ہے کہ گلگت بلتستان کی پہچان و قومی ہیرو عظیم کوہ پیما حسن سد پارہ کی قومی خدمات کو یہ مقتدر ایوان شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتا اورسفارش کرتا ہے کہ سکردو ائیر پورٹ کو اس عظیم کوہ پیما کے نام سے منسوب کیا جائے’عظیم کوہ پیما کے نام سے سکردو ائر پورٹ کو منسوب کرنے کی قرارداد بلاشبہ نہایت اہمیت کی حامل ہے جس پہ فوری عملدرآمد کیا جانا چاہیے’مرحوم کی خدمات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہم انہیں اگر ان کی زندگی میں وہ مقام نہیں دے سکے جس کے وہ حقدار تھے تو ان کی موت کے بعد تو ہمیں ان کی صلاحیتوں’کردار اور خدمات کو سراہانے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ہم ویسے بھی قبر پرست معاشرے کے باسی ہیں جوعظیم لوگوں کو ان کی زندگی میں ان کی اہمیت کے مطابق مقام دینے سے گریز کرتے ہیں لیکن مرنے کے بعد ان کی قدرو قیمت کا اندازہ لگاتے ہیں۔حسن سدپارہ کا تعلق سکردو سے کچھ فاصلے پر واقع سدپارہ گائوں سے تھا’ انہوں نے کوہ پیمائی کا آغاز1994میں کیا اور1999سے پیشہ وارانہ کوہ پیمائی شروع کی تھی۔ 2007تک انہوں نے پاکستان میں واقع آٹھ ہزار میٹر سے بلند پانچ چوٹیاں آکسیجن کی مدد کے بغیر سر کر لی تھیں۔کوہ پیمائی میں اعلی کارکردگی پر حکومتِ پاکستان نے حسن سدپارہ کو2008میں تمغہ حسن ِ کارکردگی سے بھی نوازا تھا۔حسن سدپارہ نے1999میں قاتل پہاڑ کے نام سے پہچانے جانے والے نانگا پربت،2004میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو،2006میں گیشا بروم ون اور گیشا بروم ٹو جبکہ 2007میں براڈ پیک کو سر کیا۔براڈ پیک سر کرنے کے بعد، حسن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر مجھے تعاون حاصل ہو تو میں فخر سے اپنا جھنڈا مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی تک لے کر جائوں اور چار سال بعد حسن سدپارہ کا یہ خواب اس وقت پورا ہوا جب مئی2011میں حسن نے مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کی اور یہ پہاڑ سر کرنے والے وہ دوسرے پاکستانی بنے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسمبلی قرارداد کے مطابق سکردو ائر پورٹ کو ان کے نام سے منسوب کرنے میں تاخیر سے کام نہ لیا جائے۔

Facebook Comments
Share Button