تازہ ترین

Marquee xml rss feed

نیب نے اسحاق ڈار کے تمام اثاثے منجمد کرنے کی درخواست کر دی-میکسیکو میں 7عشارئیہ1 شدت کا زلزلہ۔-محرم الحرام میں امن قائم رکھنا سب کی ذمہ داری ہے،چوہدری سرفراز افضل-کو آپریٹو ہاوسنگ سوسائٹز کی انتظامیہ ڈینگی کے سدباب کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرے،رجسٹرارکوآپریٹوز پنجاب مرزا محمود الحسن کا سیمینار سے خطاب-نیب نے کرپشن کے مختلف مقدمات میں ملوث 10اشتہاریوں کی فہرست جاری کر دی-راولپنڈی،ریس کو رس کے علاقے پپلز کالونی میںفائرنگ سے خاتون قتل، شوہر شدید زخمی-حکومت بر ما میں مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم کا معاملہ اقوام متحدہ ،اوآئی سی میں اُٹھائیں،جماعت اسلامی بلوچستان-میثاق جمہوریت کے نام پرمک مکاکرنے والے آصف زرداری اورنوازشریف ملک کے دشمن ہیں،عمران خان بلاول نے کیاکمال کیاکہ پارٹی کاچیئرمین بن گیا،بھٹوکی طرح ہاتھ ہلانے سے کوئی ... مزید-بیگم کلثوم نواز(کل)تیسری سرجری کیلئے ہسپتال میں داخل ہونگی-عمران خان کی حیدر آباد میں جلسے کے دوران پیپلزپارٹی پر تنقید کے بعد پیپلزپارٹی کا ردعمل سامنے آگیا

GB News

پیوٹن اور ٹرمپ ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت بڑھانے کے خواہش مند

Share Button

نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی برتری کو واضح کرنے کے لیے کہا ہے کہ جوہری پروگرام اس قدر مضبوط بنایا جائے کہ دنیا اس کی طاقت کو تسلیم کرے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں آیا، جب انہوں نے ایک دن پہلے ہی وائٹ ہاس میں مقرر ہونے والے قومی سلامتی کے مشیر ائیکل فلین سے ملاقات کی تھی۔نومنتخب صدر نے جوہری پروگرام کو وسعت دینے کی بات ٹوئٹ کرتے ہوئے کہی، ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں کارروائیوں کو وسعت دینے کی بات نہیں کی تاہم انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ امریکا کو دنیا بھر کے مسائل پر نظر رکھنی چاہئیے۔ٹرمپ کی ٹیم کی ویب سائٹ کے مطابق منتخب صدر کوجوہری ہتھیاروں اور سائبر حملوں سے متعلق دھمکیوں کا احساس ہے، اس لیے وہ جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانا چاہتے ہیں، جب کہ وہ امیدوار کی حیثیت سے یا منتقلی کے دورانیے میں اس حوالے سے کچھ تفصیلات بھی پیش کر چکے ہیں۔انتخابی مہم کے دوران ہیلری کلنٹن کی جانب سے متعدد بار ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کہ وہ ایک ایسی قسم کی سربراہی نہیں کر سکتے جو جوہری طاقت کی حامل ہو، جبکہ 10 سابق میزائل آپریٹرز کی جانب سے بھی یہ لکھا گیا کہ ٹرمپ کے پاس مستقل مزاجی، سفارت کاری کا تجربہ اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں کہ جس سے کو جوہری جنگ کو روک سکیں۔نو منتخب امریکی صدر نے گزشتہ روز جنوبی فلوریڈا میں مشیروں سے مشورے لینے سمیت ممکنہ نامزدگیوں کے لیے انٹرویو کیے، انہوں نے وائٹ ہاس کے علاوہ بھی اپنے دیگر اسٹاف کو وسعت دی، انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی مہم مینجر کیلینی کنوائے ویسٹ ونگ میں مشیر کے طور پر شامل ہوں گی۔دوسری جانب روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی جمعرات کو اپنے ایک بیان میں فوجی جوہری صلاحیت بڑھانے پر زور دیتے ہوئے شام میں روسی فوج کی مہم کی تعریف کی۔رواں برس روس کی فوج کی سرگرمیوں کی تعریف کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا تھا کہ فوج کی صلاحیتوں اور تیاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کو مزید بہتر بنایا جائے، ہم کسی بھی فوجی دھمکیوں کے خطرے کو بے اثر بنانے کو یقینی بنائیں گے۔صدر پیوٹن کا مزید کہنا تھا کہ روس کو مزید فوجی اسٹریٹجک جوہری قوت حاصل کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ میزائل کے شعبے میں خصوصی طور پر تحقیق کی ضرورت ہے، جس کے ذریعے ہم کسی بھی محفوظ دفاعی نظام میں گھس اور نکل سکتے ہیں۔پیوٹن کے مطابق ہمیں محتاط طریقے سے عالمی طاقت کےتوازن اور دنیا میں سیاسی و عسکری تبدیلیو ں کی حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، خصوصی طور پر ہمیں روس کےسرحدی علاقوں پر توجہ دینے اور ملک کو درپیش خطروں کی ہنگامی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ولادی میر پیوٹن کے مطابق روس کی فوج نے شام میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، ٹیکنالوجی کے بھر پور استعمال سے شامی فوج کو پیش قدمی کرنے میں مدد ملی۔

Facebook Comments
Share Button