تازہ ترین

Marquee xml rss feed

انسداد دہشت گردی پولیس سے مقابلے میں بدنام زمانہ کالعدم لشکر جھنگوی کا سربراہ آصف چھوٹو مارا گیا-فیصل آباد، مسلح موٹر سائیکل سوار وںنے فائرنگ کرکے نوجوان کوقتل کردیا-فیصل آباد،بھٹہ انڈسٹری ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے،رانا ثنا ء اللہ بھٹہ انڈسٹری کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے ،صوبائی وزیر قانون-بہاولپور، صوبائی وزیر اور ایم ڈی چولستان درمیان اختلافات ، ایم ڈی کی خدمات واپس ،چولستان کی ترقی سیاست کی بھینٹ چڑھ گی-ملائیشیاء سے ڈی پورٹ ساٹھ افراد کا لاہور ائیرپورٹ پر احتجاج-کراچی،ایف آئی اے نے خاتون کو بلیک میل کرنیوالے ملزم کو حراست میں لے لیا-رضا ربانی، ایاز صادق، خورشید شاہ ، مولانا فضل الرحمان ودیگر کے بینک اکاؤنٹس میں جعلی ٹرانزیکشن کا انکشاف ایف آئی اے اور سٹیٹ بنک کو تحقیقات کی ہدایت-سینٹ ، قومی احتساب ترمیمی آرڈیننس2017ء کو کثرت رائے سے منظور اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا، حق میں 33، مخالفت میں 21ووٹ پڑے رضاکارانہ ... مزید-پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ایف بی آر کی ریٹائرمنٹ کے باعث ملتوی-خبیب فائو نڈیشن کا ترک رفاہی تنظیم آئی ایچ ایچ کے ساتھ شامی پناہ گزینوں کی امداد کا معاہدہ

GB News

امریکا کا مسلمانوں کیلئے متنازع رجسٹری پروگرام ختم کرنے کا فیصلہ

american-flag-images-12

امریکا نے مسلمانوں کیلئے متنازع رجسٹری پروگرام ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق امریکا کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے شکار ممالک سے امریکا آنے والے لوگوں کے غیر فعال رجسٹری پروگرام کو ختم کر رہا ہے۔محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے جس پروگرام کی منسوخی کا اعلان کیا یہ اسی طرز کا پروگرام ہے جس پر نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غور کر رہے ہیں۔ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ترجمان نیما حکیم نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی انٹری ۔ ایگزٹ رجسٹریشن سسٹم پروگرام جو این ایس ای ای آر ایس بھی کہلاتا ہے، 2011 میں معطل کردیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پروگرام غیر موثر اور بے کار ثابت ہوا اور اس سے سیکیورٹی میں بھی بہتری نہیں آئی، جس کے باعث ڈیپارٹمنٹ اسے باضابطہ طور پر ختم کر رہا ہے۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سوال کیا گیا کہ کیا وہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی طرح مسلمانوں کی رجسٹری کے پروگرام کی حمایت کریں گے، جس کا انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے کئی ساتھیوں نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس مردہ پروگرام میں دوبارہ جان نہیں ڈالے گی، حالانکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک مشیر نے ہی اس پروگرام کا خیال پیش کیا تھا۔یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب فیس بک، ٹوئٹر اور ایپل سمیت کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں مختلف نیوز تنظیموں کو یہ بتاچکی ہیں کہ وہ مسلم رجسٹری قائم کرنے کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی مدد نہیں کریں گی۔رواں ماہ کے اوائل میں کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ملازمین نے اس آن لائن عہد پر دستخط کیے تھے، جس میں لوگوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نگرانی اور بڑے پیمانے پر بے دخلی میں معاونت کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیٹا رجسٹری کے لیے مدد فراہم نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔اس پروگرام کو ختم کرنے کے اوباما انتظامیہ کے فیصلے کی ناقدین بھی تعریف کر رہے ہیں، جنہوں نے اس پروگرام کو امتیازی قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی تھی۔

Share Button