تازہ ترین

Marquee xml rss feed

بجٹ2017-18ء:4800ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیاگیا ترقیاتی بجٹ کاحجم 1001ارب ،آئندہ مالی سال کیلئے ترقی کاہدف 6فیصداور محصولات کاتخمینہ 5310ارب روپے لگایاگیاہے،جبکہ ... مزید-سپارکو کے جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک ارب روپے کی غیرملکی امداد سمیت 3 ارب 50 کروڑ روپے مختص-کسانوں پرتشددہوا،واقعے پرایوان سے واک آؤٹ کرینگے،اپوزیشن لیڈرخورشیدشاہ-وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال 2017-18ء کی بجٹ اور ٹیکسیشن تجاویز کی منظوری دیدی-وزیر داخلہ سندھ نے گلشن معمار تھانے میں چار بھائیوں کے خلاف درج مقدمے کا نوٹس لے لیا-نیب ہیڈکوارٹرز اور تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے گذشتہ تین ماہ کے دوران نیب کے پراسیکیوشن کی مجموعی کارکردگی 79 فیصد رہی چیئرمین نیب قمر زمان ... مزید-کراچی ،نقل کرانے کا الزام، سپلا نے انٹر کے امتحانات کا بائیکاٹ کردیا سپلا کی جانب سے امتحانا ت کا بائیکاٹ کرنے پر انٹر کے پیپرز پر غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی،طلبہ ... مزید-سند ھ ہائیکورٹ،ڈاکٹرعاصم کی جائیداد اور کاروبار سنبھالنے کے لئے پاور آف اٹارنی ان کے بیٹے کو دینے کی درخواست مسترد-یونان سے 33 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ ، امیگریشن حکام نے گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا ْ33پاکستانی غیر قانونی راستے سے یونان پہنچے تھے ،یورپ جانے کی کوشش میں گرفتار کیا گیا تھا ... مزید-کراچی، مختلف کارروائیوں میں 5ملزمان گرفتار، آوان بم برآمد ڈکیتی مزاحمت پر ایک شخص زخمی ہو گیا ،سرجانی اور بلدیہ سے دو افراد کی لاشیں ملیں

GB News

امریکا کا مسلمانوں کیلئے متنازع رجسٹری پروگرام ختم کرنے کا فیصلہ

امریکا نے مسلمانوں کیلئے متنازع رجسٹری پروگرام ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق امریکا کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے شکار ممالک سے امریکا آنے والے لوگوں کے غیر فعال رجسٹری پروگرام کو ختم کر رہا ہے۔محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے جس پروگرام کی منسوخی کا اعلان کیا یہ اسی طرز کا پروگرام ہے جس پر نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غور کر رہے ہیں۔ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ترجمان نیما حکیم نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی انٹری ۔ ایگزٹ رجسٹریشن سسٹم پروگرام جو این ایس ای ای آر ایس بھی کہلاتا ہے، 2011 میں معطل کردیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پروگرام غیر موثر اور بے کار ثابت ہوا اور اس سے سیکیورٹی میں بھی بہتری نہیں آئی، جس کے باعث ڈیپارٹمنٹ اسے باضابطہ طور پر ختم کر رہا ہے۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سوال کیا گیا کہ کیا وہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی طرح مسلمانوں کی رجسٹری کے پروگرام کی حمایت کریں گے، جس کا انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے کئی ساتھیوں نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس مردہ پروگرام میں دوبارہ جان نہیں ڈالے گی، حالانکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک مشیر نے ہی اس پروگرام کا خیال پیش کیا تھا۔یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب فیس بک، ٹوئٹر اور ایپل سمیت کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں مختلف نیوز تنظیموں کو یہ بتاچکی ہیں کہ وہ مسلم رجسٹری قائم کرنے کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی مدد نہیں کریں گی۔رواں ماہ کے اوائل میں کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ملازمین نے اس آن لائن عہد پر دستخط کیے تھے، جس میں لوگوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نگرانی اور بڑے پیمانے پر بے دخلی میں معاونت کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیٹا رجسٹری کے لیے مدد فراہم نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔اس پروگرام کو ختم کرنے کے اوباما انتظامیہ کے فیصلے کی ناقدین بھی تعریف کر رہے ہیں، جنہوں نے اس پروگرام کو امتیازی قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی تھی۔

Share Button