تازہ ترین

Marquee xml rss feed

انسداد دہشت گردی پولیس سے مقابلے میں بدنام زمانہ کالعدم لشکر جھنگوی کا سربراہ آصف چھوٹو مارا گیا-فیصل آباد، مسلح موٹر سائیکل سوار وںنے فائرنگ کرکے نوجوان کوقتل کردیا-فیصل آباد،بھٹہ انڈسٹری ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے،رانا ثنا ء اللہ بھٹہ انڈسٹری کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے ،صوبائی وزیر قانون-بہاولپور، صوبائی وزیر اور ایم ڈی چولستان درمیان اختلافات ، ایم ڈی کی خدمات واپس ،چولستان کی ترقی سیاست کی بھینٹ چڑھ گی-ملائیشیاء سے ڈی پورٹ ساٹھ افراد کا لاہور ائیرپورٹ پر احتجاج-کراچی،ایف آئی اے نے خاتون کو بلیک میل کرنیوالے ملزم کو حراست میں لے لیا-رضا ربانی، ایاز صادق، خورشید شاہ ، مولانا فضل الرحمان ودیگر کے بینک اکاؤنٹس میں جعلی ٹرانزیکشن کا انکشاف ایف آئی اے اور سٹیٹ بنک کو تحقیقات کی ہدایت-سینٹ ، قومی احتساب ترمیمی آرڈیننس2017ء کو کثرت رائے سے منظور اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا، حق میں 33، مخالفت میں 21ووٹ پڑے رضاکارانہ ... مزید-پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ایف بی آر کی ریٹائرمنٹ کے باعث ملتوی-خبیب فائو نڈیشن کا ترک رفاہی تنظیم آئی ایچ ایچ کے ساتھ شامی پناہ گزینوں کی امداد کا معاہدہ

GB News

فلسطینی کا قتل، نیتن یاہو کا ملزم فوجی کو معاف کرنے کا مطالبہ

An Israeli soldier uses his rifle to indicate the direction as he tells a Palestinian boy to leave the scene following a knife attack attempt by a Palestinian man against an Israeli soldier at a nearby checkpoint in the  West Bank city of Hebron, Wednesday, Aug. 26, 2009. The Palestinian man was shot and injured by soldiers at the checkpoint, Palestinians said. (AP Photo/Nasser Shiyoukhi)

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے فوج کے اس معاملے سے نمٹنے کے طریقہ کار کا دفاع کیا لیکن اس کے ساتھ ہی سارجنٹ عازاریہ کے گھر فون کر کے ان کے خاندان کے ساتھ افسوس کا بھی اظہار کیا۔ نیتن یاہو نے انھیں معاف کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا۔
20 سالہ اسرائیلی فوجی، سارجنٹ الور عازاریہ نے 21 سالہ فلسطینی عبدالفتح الشریف کو اس وقت سر میں گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔ جب عبدالفتح الشریف سڑک پر پڑے ہوئے تھے اور وہ ہلنے کے قابل بھی نہیں تھے،، عدالت میں استغاثہ کا کہنا تھا کہ سارجنٹ عازاریہ نے عبدالفتح الشریف کو گولی مارنے کا قدم انتقام کے جذبے سے اٹھایا۔ یہ واقعہ غرب اردن کے قصبے الخلیل (ہیبرون) میں مارچ 2016 میں پیش آیا تھا ۔ایک فلسطینی نے جائے وقوعہ کی ویڈیو بنائی جس میں شریف کو زندہ دیکھا جا سکتا تھا، جبکہ سارجنٹ “ایزاریا “نے زخمی فلسطینی پر فائرنگ کرنے سے پہلے اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا کہ’ میرے دوست پر حملہ کرنے والا موت کا حق دار ہے۔

Share Button