تازہ ترین

Marquee xml rss feed

انسداد دہشت گردی پولیس سے مقابلے میں بدنام زمانہ کالعدم لشکر جھنگوی کا سربراہ آصف چھوٹو مارا گیا-فیصل آباد، مسلح موٹر سائیکل سوار وںنے فائرنگ کرکے نوجوان کوقتل کردیا-فیصل آباد،بھٹہ انڈسٹری ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے،رانا ثنا ء اللہ بھٹہ انڈسٹری کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے ،صوبائی وزیر قانون-بہاولپور، صوبائی وزیر اور ایم ڈی چولستان درمیان اختلافات ، ایم ڈی کی خدمات واپس ،چولستان کی ترقی سیاست کی بھینٹ چڑھ گی-ملائیشیاء سے ڈی پورٹ ساٹھ افراد کا لاہور ائیرپورٹ پر احتجاج-کراچی،ایف آئی اے نے خاتون کو بلیک میل کرنیوالے ملزم کو حراست میں لے لیا-رضا ربانی، ایاز صادق، خورشید شاہ ، مولانا فضل الرحمان ودیگر کے بینک اکاؤنٹس میں جعلی ٹرانزیکشن کا انکشاف ایف آئی اے اور سٹیٹ بنک کو تحقیقات کی ہدایت-سینٹ ، قومی احتساب ترمیمی آرڈیننس2017ء کو کثرت رائے سے منظور اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا، حق میں 33، مخالفت میں 21ووٹ پڑے رضاکارانہ ... مزید-پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ایف بی آر کی ریٹائرمنٹ کے باعث ملتوی-خبیب فائو نڈیشن کا ترک رفاہی تنظیم آئی ایچ ایچ کے ساتھ شامی پناہ گزینوں کی امداد کا معاہدہ

GB News

کیا کبھی آپ نے دنیا کو الٹا دیکھا ہے ؟ دیکھنا چاہتے ہیں ؟ گلگت بلستان آئیے۔

بشکریہ : فیصل ظفر

زندگی میں اگر کبھی یہ منظر دیکھنے کا موقع ملا ہو تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ کیسے آپ کے ذہن پر اثر انداز ہوتا ہے۔

تاہم اگر آپ کو حقیقت میں ایسا کچھ دیکھ کر دنیا کے الٹ پلٹ ہونے کا احساس نہیں ہوا تو یہاں ایسی ہی چند تصاویر حاضر ہیں جو آپ کو یہ دنیا ایک نئی روشنی سے دیکھنے میں مدد فراہم کریں گی۔

ان تصاویر میں خوبصورت مناظر کا عکس پانیوں میں دیکھ کر ہوسکتا ہے کہ آپ کا دل بھی وہاں جانے کو مچل ہی جائے۔

یہ تصاویر آپ کو یہ بھی یاد دلائیں گی کہ قدرت کے خزانوں میں ایسا بہت کچھ ہے جو ہم دیکھ نہیں پاتے مگر دیکھ سکتے ہیں۔

 نلتر جھیل، گلگت بلتستان

 

فوٹو سید مہدی بخاری

فوٹو سید مہدی بخاری

گلگت سے ڈھائی گھنٹے کے فاصلے پر وادی نلتر اپنی رنگین جھیلوں کی وجہ سے مشہور ہے، یہاں کی رنگ بدلتی جھیلیں ہمارا قومی اثاثہ ہیں۔ چھوٹی چھوٹی یہ جھیلیں کناروں سے سبز اور درمیان سے نیلے رنگ جھلکاتی ہیں۔ یہ جھیلیں اپنے سحر میں ایسا جکڑتی ہیں کہ مسافر کو قدم اٹھانا بھاری لگتا ہے اور انہیں الوداع کہتے دل بھی بھاری ہو جاتا ہے۔

شنگریلا ریزورٹس

فوٹو قمر وزیر

فوٹو قمر وزیر

قراقرم ہائی وے کو جگلوٹ کے مقام سے تھوڑا آگے چھوڑتی ہوئی ایک تنگ بھربھری اور خشک پہاڑوں کے درمیاں بل کھاتی سڑک اسکردو کی طرف مڑ جاتی ہے۔ سات گھنٹے کی اس مسافت میں کئی بستیاں، پہاڑی نالے اور خوش اخلاق لوگ مسافر کا استقبال کرتے ہیں۔ دریائے سندھ پر بنا لکڑی کا قدیم پل عبور کرتے ہی ایک سڑک سیاحوں کی جنت شنگریلا کی راہ لیتی ہے جہاں شنگریلا ریزورٹس کے چیئرمین عارف اسلم صاحب نے برف پوش پہاڑوں کے بیچ ایک دلکش دنیا سجا رکھی ہے۔

شیوسر جھیل، دیوسائی گلگت بلتستان

فوٹو سید مہدی بخاری

فوٹو سید مہدی بخاری

شیوسر جھیل گلگت بلتستان کے دیوسائی قومی پارک میں واقع ہے، یہ جھیل سطح مرتفع تبت کے سر سبز میدان میں 4142 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 203 کلو میٹر، چوڑائی 1.8 کلو میٹر اور اوسطاً گہرائی 40 میٹر ہے۔ یہ جھیل دنیا کی بلند ترین جھیلوں میں سے ایک ہے، گہرے نیلے پانی، برف پوش پہاڑیوں، سرسبز گھاس اور رنگ برنگے پھولوں کے ساتھ یہ منفرد جھیل خوبصورتی میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ گہرے نیلے پانی اپنے پس منظر میں برف پوش پہاڑیوں اور پیش منظر میں سرسبز گھاس اور رنگ برنگے جنگلی پھولوں کے ساتھ موسمِ گرما میں ایسا نظارہ پیش کرتے ہیں کہ آنکھ حیرت زدہ پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہے۔

کچوراجھیل

فوٹو سید مہدی بخاری

فوٹو سید مہدی بخاری

کچورا جھیل صاف پانی کی جھیل ہے جس کی گہرائی تقریباً 70 میٹر ہے، دریائے سندھ اس کے قریب ہی قدرے گہرائی میں بہتا ہے، گرمیوں میں دن کے وقت یہاں کا درجہ حرارت 10 سے 155 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے جبکہ سردیوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بہت نیچے گر جاتا ہے ۔

دریائے شیوک

 

فوٹو سید مہدی بخاری

فوٹو سید مہدی بخاری

شیوک کے لفظی معنی موت کا دریا ہیں۔ سیاچن گلیشیئر کے ہمسائے ریمو گلیشیئر لداخ سے نکلتا یہ دریا گانچھے کے مقام مچلو سے آگے بلتستان کی حدود میں داخل ہوتا ہے اور دریائے سندھ میں جاگرتا ہے۔

پھنڈر جھیل، غزر گلگت بلستان

فوٹو سید مہدی بخاری

فوٹو سید مہدی بخاری

رنگ بدلتی خوبصورت جھیل پھنڈر آپ کو دعوت نظارہ دیتی ہے۔ وادی پھنڈر گلگت کے ضلع غذر کی تحصیل گوپس کا علاقہ ہے۔ وادی پھنڈر پہنچنے کے لیے آپ کو پہلے گلگت شہر پہنچنا ہوتا ہے۔

کٹوال جھیل، حراموش گلگت بلستان

Kutwal Lake

وادی حراموش کے آخری سرے میں موجود کٹوال جھیل کی خوبصورتی اور رعنائی اس وادی کو دوسری وادیوں سے منفرد مقام دلانے میں اہم حصہ رکھتی ہے۔ یہ جھیل حراموش پیک کے سائے میں موجود ہے۔
یہ جھیل سطح سمندر سے تقریبا 3260میٹر بلند ہے۔ وادی حراموش کی پہچان اسی جھیل سے ہے جس کا صاف و شفاف نیلگوں پانی آنکھوں کو خیرہ کر دینے کے لیے کافی ہوتا ہے اور انسان اللہ کی ثناء بیان کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
کٹوال جھیل چاروں طرف سے بلند و بالا پہاڑی گلیشئرز اور گھنے الپائن کے دیو قامد جنگلات میں گھری ہوئی ہے ان جنگلات میں نایاب جانوروں کی کثرت ہے۔ جس میں مشہور مارخور قابل ذکر ہیں۔

 

Share Button