GB News

غذر میں دہشت گردی کے خدشات

Share Button

صوبائی وزیر سیاحت فدا محمد خان نے کہا ہے کہ گلگت سے غذر جانے والی گاڑیوں کی خصوصی چیکنگ ہونی چاہیے’شاہراہ غذر ہی وہ واحد راستہ ہے جہاں سے دہشت گرد داخل ہو سکتے ہیں۔دہشت گردی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اگرچہ آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور وہ چوہوں کی طرح کونے کھدروں میں چھپے ہوئے ملک دشمنوں کی ایما پہ وقتا فوقتا دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے بے گناہوں کا خون بہا کر اپنی موجودگی کا ثبوت دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ باقی ماندہ دہشت گرد بھی جلد کیفر کردار کو پہنچنے والے ہیں۔گلگت بلتستان میں دہشت گردوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیاں نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہیں ان دہشت گردوں کو جنہوں نے مبینہ طور پہ یہ دھمکیاں دی ہیں انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا لائحہ عمل متعین کیا جانا چاہیے ۔اگر شاہراہ غذر کے ذریعے دہشت گردوں کے داخلے کے امکانات ہیں تو اس شاہراہ پہ سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے چاہیں تاکہ دہشت گرد کسی بھی صورت علاقے میں داخل نہ ہو سکیں۔سابق ممبر قانون ساز اسمبلی ایوب شاہ نے بھی یہ مطالبہ کیا ہے کہ غذر کے داخلی راستوں پہ پاک فوج کے دستے تعینات کیے جائیں ان کا کہناہے شندور ‘اشکومن اور درکور کے بارڈر سے دہشت گردوں کے گھسنے کے خدشات ہیں توضرورت اس بات کی ہے کہ ان علاقوں پہ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کوزیادہ مربوط و منظم بنایا جائے اور ضرورت کے مطابق پاک فوج کے دستوں کی تعیناتی پہ بھی غور کیا جائے۔

Facebook Comments
Share Button