تازہ ترین

Marquee xml rss feed

حب کول فائر پاور پلانٹ اگست 2019ء میں پوری طرح چالو ہو جائے گا ،چیئرمین تعمیراتی کمپنی پاکستانی قومی گرڈ میں سالانہ 9بلین کلوواٹ بجلی شامل کرے گا تعمیر کے دوران مقامی ... مزید-یوم پاکستان ; آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے میڈیا کا شکریہ ادا کردیا-فیصل موورز نے لاہور تا اسلام آباد پریمئیر بس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا-پانامہ کا فیصلہ مارچ کے آخری دنوں میں آجائے گا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود-مینار پاکستان میں پنجاب پولیس کا شہری سے ناروا سلوک، پنجاب حکومت نے نوٹس لے لیا پولیس حکام کو اس طرح عوام سے بد تمیزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ترجمان پنجاب حکومت-پانامہ کا فیصلہ انشااللہ اگلے ہفتے آ جائے گا۔ عمران خان سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایک نیا دور شروع ہو گا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کیا فیصلہ ہوا ہے۔ عمران خان کی لاہور آمد پر میڈیا ... مزید-ملک میں سیاسی فسادی زیادہ ہیںجو ملک کی ترقی کوہضم نہیں کر پا ررہے ، عابد شیر علی وہ چا ہتے ہیں کہ ملک میں افرا تفری پھیلی رہے اور امن نہ رہے، عمران خان اور اُسکے حواریوں ... مزید-پاکستان اور سری لنکا مل کر سارک کے اہداف حاصل کرسکتے ہیں،وزیراعظم-پاکستان افغانستان بارے ماسکو میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کر یگا ،ترجمان دفتر خارجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ بتدریج جاری ،بھارت کی مقبو ضہ کشمیر میں ... مزید-وزیراعظم نے گھوڑا گلی میں فاریسٹ سروسز اکیڈمی کا افتتاح کردیا فاریسٹ سروسز اکیڈمی گرین پاکستان پروگرام کے تحت قائم کی گئی ‘ اکیڈمی کے ذریعے محکمہ جنگلات کے افسران اور ... مزید

GB News

امن کاقیام اور علمائے کرام کی ذمہ داریاں

edi

وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاہے کہ امن وامان حکومت کی اولین ترجیح ہے حکومت کی مثبت پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہتر کارکردگی اور علما ء و سول سوسائٹی کے تعاون سے صوبے میں امن قائم ہوا ہے۔ پاکستان کی مخالف قوتیں ملک کی ترقی کیخلاف سازشیں کرسکتی ہیں لہذا علمائے کرام اور سول سوسائٹی کی بھی ذمہ داری ہے کہ صوبے میں قائم امن اور بھائی چارے کے ماحول کو قائم و دائم رکھنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریںتاکہ علاقے کے امن کو خراب کرنے اور تعمیر و ترقی کا راستہ روکنے والوں کے عزائم کو ناکام بنایاجاسکے۔علمائے کرام نے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کو یقین دلایا کہ صوبے میں امن وامان کو بھائی چارے کے ماحول کو مزید فروغ دینے کیلئے اپنا بھرپور کردار اد اکریں گے۔ماضی میں دہشتگردوں اور امن دشمنوں نے بے گناہ اور معصوم لوگوں کا خون بہایا ۔امن قائم رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے جس کیلئے حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے تاکہ ہمارا علاقہ ایک مثالی، پرامن اور ترقی یافتہ علاقہ بن سکے۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ علمائے کرام ہی معاشرے کے سدھار اوربہتری و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔امن کا قیام علمائے کرام ہی کا مرہون منت ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اگر علماء اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ نہ بن سکے۔علماء کا کام ہے کہ وہ ایسے باضمیر، باعقیدہ، با ایمان، باحوصلہ اور باہمت فضلاء پیدا کریں جو اس ضمیر فروشی،اصول فروشی اور اخلاق فروشی کے دور میں روشنی کے مینار کی طرح قائم رہیں کہ وہ کہیں نہیں جاتا اپنی جگہ پر کھڑا رہتاہے، راستہ بتاتا ہے۔ جیسے قبلہ نما کہ آپ کہیں بھی ہوں وہ آپ کو قبلہ بتادے گا۔ یہ عالم کا کام ہے کہ وہ ہر زمانے میں ہر جگہ قبلہ نما بنا رہے۔ہمارے ہاں سچ کو جھوٹ’ جھوٹ کو سچ کہنے، مکروفریب کو دیانت وامانت کے پیرہن میں پیش کرنے اورنیک کو بد، بد کو نیک کے روپ میں ملفوف کرنے کا گورگھ دھندا روز افزوں ترقی پر ہے۔ اس غلط پروپیگنڈے اور تزویری ڈھنڈورے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج راہنمایان ملت وقوم کی کردارکشی اور ان کی خدمات جلیلہ ومفیدہ سے صرف نظر کرکے ان کے وجود مسعود پر انگشت نمائی کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ہمارے اسلاف اپنے بعد نورتوحید کی ضیاء پاشی کے لیے نفوس قدسیہ کی ایسی کھیپ وجماعت تیار کرگئے، جن کے علم کی قندیلوں سے قندیلیں روشن ومنور ہوتی رہیں، جن کے دم سے جہالت کی شب تاریک کے افق پر معرفت کی صبح صادق طلوع ہوتی رہی۔ماضی میں علمائے کرام کے چشمہ صافی سے نکلنے والی تشنہ سیر نہروں نے اپنے آب شیریں سے چار دانگ عالم کو سیراب کیا۔ پیاسوں کو تشنگی کا سامان، بھٹکے ہوں کو منزلوں کا پتا اور ضلالت کی تاریکیوں میں شب بسر کرنے والوں کو نور ہدایت کی نوید ملی۔ہمارے مجتہدین اور علمائے ربانیین کی نتیجہ خیز کوششوں اور کاوشوں نے دین اسلام کی ابدی ودائمی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کی۔انہوں نے اپنے اپنے معاشروں اور ادوار میں پائے جانے والے عقائد ورسوم کے مابین حق وباطل، صدق وکذب اور کھرے وکھوٹے کا فرق و امتیاز لیل ونہار کے تضاد کی طرح دنیا کے سامنے آشکارا کیا۔ برصغیر کے ماضی پر طائرانہ نظر ڈالیں تو اس بت کدہ سرزمین پر اسلام کا پھریرا بلند کرنے والے علماء ہی تھے جن کے ایمان وایقان، اخلاص وللہیت، حریت فکر اور یقیں محکم کی بدولت دنیا بھر میں سینکڑوں مسلمان آج بھی دین ومذہب سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ اہل مساجد ومدارس اور ارباب خانقاہ اپنے اوپر عائد ہونے والی نیابت کی ذمہ داریوں کا نہ صرف کماحقہ ادراک رکھتے تھے بلکہ اپنی عملی، علمی اور فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر چراغ سے چراغ جلانے کا عمل پوری آب وتاب سے برقرار رکھے ہوئے تھے۔اس میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ دین مبین کی نشر واشاعت، حفاظت و صیانت اور موثر دعوت کے لیے ایسے رجال کار کا ہونا ناگزیر وضروری ہے جو معاشرے اور سماج کو شرکے اوہام باطلہ و خیالات فاسدہ کے تعفن سے بچا کر خیر کے افکار ونظریات صحیحہ کی خوشبو اور مٹھاس سے روشناس کراسکیں۔ جو باطل کی ملمع سازی کا لباس حق کی شمشیر فاصل سے چاک کرسکیں۔ جن کے کردار میں میانہ روی، راست بازی اور صداقت شعاری کی شمع فروزاں ہو۔ امت کی چودہ سو سالہ نوشتہ تاریخ اس پر شاہد ہے کہ ان وارثین علم نے زمان ومکان اور حالات کی ادلتی بدلتی اور الٹتی پلٹتی ہوائوں کے دوش بہ دوش چلنے کی بجائے قبلہ نما بن کر ملت کی گاڑی کو شاہراہ ہدایت کی جانب گامزن کرنے کا فریضہ مکمل استقامت و عزیمت، تندہی وجانفشانی اور ہمت وشجاعت کے ساتھ سر انجام دیا ہے۔ہمارے اسلام خیرو شر میں تمیز کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے اب بھی علماء کرام پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں امن کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ باوجود بہت سے اختلافات کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی علمائے کرام کی بات کو توجہ اور دھیان سے سنتی ہے اس لیے وہ اس صورتحال کو معاشرتی امن کے قالب میں ڈھال سکتے ہیں۔

Share Button