تازہ ترین

Marquee xml rss feed

قومی احتساب بیورو میں افسران کی خلاف ضابطہ تقرریوں کا معاملہ، نیب لاہور کے چار سینئر افسران نے استعفیٰ دیدیا-سابق ادوار میں کیشنگی کے نام پر کروڑوں کی کرپشن کی گئی،میر غلام دستگیر بادینی عوام کو مصنوعی طورپر پسماندہ رکھنے والوں کے مکروہ چہرے آشکارہوچکے ہیں،رکن بلوچستان اسمبلی-آئندہ الیکشن میں پیپلزپارٹی بھرپور کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائے گی،ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ-پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر عاجز دھامرہ کا شیخوپورہ کے قریب ریلوے حادثے پر اظہار افسوس-ماہ رجب کی رویت کا شرعی فیصلہ کرنے کے لیے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا، مفتی منیب الرحمن-مسلم لیگ(ن)آئندہ الیکشن میں مخالف جماعتوں کاصفایاکردے گی،شہبازشریف پیپلزپارٹی پہلے کراچی کاکچراصاف کرے پھرپنجاب کی بات کرے،میٹروکوجنگلابس کہنے والوں نے فوائددیکھے ... مزید-کراچی ،ناظم آباد میں بس پر فائرنگ پولیس اہلکار نے کی ، معمہ حل پولیس اہلکار واقعے کے بعد جائے حادثہ سے غائب ، شک پڑنے پر حراست میں لے لیا گیا ، مقدمہ درج کر کے تفتیش کا ... مزید-اوور لوڈنگ یا چھتوں پر مسافروں کو سوار کرنے والی بسوں، وینز یا کوچز کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے،آئی جی سندھ-امتحانات کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کی جائے،جام مہتاب حسین ڈھر-طلبا ملکی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں،بلاول بھٹو

GB News

بجلی بحران کے مستقل حل کی ضرورت

edi

واپڈا کے تمام پاور ہائوسز میں فنی خرابی کے باعث سکردو شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی ہے کہا جا رہا ہے کہ بجلی گھروں میں پیدا ہونے والی خرابی دور کرنے میں چار سے پانچ روز لگ سکتے ہیں، بجلی کی طویل ترین بندش کے باعث سکردو میں کاروبار اور دیگر معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں ۔ سول سوسائٹی کی جانب سے بجلی کے طویل ترین بریک ڈائون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا اور ٹائر جلا کر سکردو یادگار چوک کو بلاک کر دیا گیا ۔بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ درحقیقت واپڈا اور محکمہ برقیات کے مابین لین دین کا ہے واپڈا محکمہ برقیات سے پیسے مانگ رہا ہے لیکن صوبائی حکومت واپڈا کو پیسے دینے کیلئے تیار نہیں ہے واپڈا اب تک 80 سے 90 کروڑ روپے کی بجلی فراہم کر چکا ہے لیکن اس کو ابھی تک کوئی پیسہ نہیں ملا جس کے باعث واپڈا اور محکمہ برقیات کے درمیان جھگڑا شدید ہو گیا ہے ان کا کہنا ہے کہ فیز فور کو فوری طور پر چلایا جاتا تو سکردو اور مضافاتی علاقوں میں بجلی بحران ختم ہو سکتا تھا لیکن فیز فور ناقص ڈیزائننگ اور تعمیر کی وجہ سے چلنے کے قابل ہی نہیں رہا ہے اس لئے متعلقہ حکام اپنی عزت بچانے کیلئے واپڈا فیز فورتھ کو چلانے کیلئے تیار نظر نہیں آتے ہیں بتایا گیا ہے کہ حکومت جب تک واپڈا کو ادائیگی نہیں کرے گی تب تک مسئلہ حل نہیں ہو گا۔بجلی کے طویل بریک ڈائون کی وجوہات خواہ کچھ بھی ہوں یہ ارباب اختیار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا جلد از جلد حل نکال کر عوام کو اس اذیت سے بچائیں ہمارے ہاں بجلی کے طویل بریک ڈائونز کی تاریخ ہے دنیا بھر میں بھی ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں لیکن وہ اس صورتحال کے تدارک کا اہتمام کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھتے لیکن ہم ڈنگ ٹپائو پالیسیوں سے کام لیتے ہوئے معاملات کو وقتی طور پہ حل کرنے کی سعی کرتے ہیں اور مستقل حل کی جانب توجہ نہیں دیتے یہی وجہ ہے کہ وقتا فوقتا ایسی صورتحال درپیش رہتی ہے۔دنیا بھر میں حکومتیں ہر معاملے میں متبادل اور بیک اپ کے حوالے سے سوچتی ہیں وہ امور جو پہلے درپیش آچکے ہوں ان کے اعادے کو تو ہر قیمت پہ روکا جاتا ہے مگر ہمارا قبلہ ہی درست نہیں ہے ۔ہمیں لوگوں کی تکالیف کا خیال ہی نہیں رہتا کیونکہ ان کے مسائل طبقہ اشراف کے نزدیک مسائل ہیں ہی نہیں۔بجلی کے ممکنہ بحران کا خاتمہ حکومتوں کی ذمہ داری تھا لیکن انہوں نے اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اس کے باوجود ان سے باز پرس کا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا حالانکہ اپنی ذمہ داریوں میں ناکامی پہ ان سے پوچھ گچھ کی جانی چاہیے کیونکہ ان کے اقدامات براہ راست عوام کو متاثر کرتے ہیں۔ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں گرفتار کرنے کے باوجود کوئی حکمران اپنی اس کوتاہی کو قبول کرنے پہ آمادہ نہیں حالانکہ یہ ان کے بنیادی فرائض میں شامل ہے کیونکہ قوم ان کے اللے تللے پورے کرنے کیلئے اپنے خون پسینے کی کمائی دیتی ہے وہ قومی خزانے سے کچھ نہ کرنے کے باوجود لاکھوں روپے تنخواہیں وصول کرتے ہیں ٹی اے ڈی اے اور میڈیکل کی مد میں بل وصول کیے جاتے ہیں لیکن عوامی مسائل کے حل کے ضمن میں ان کی کارکردگی صفر ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ اس کے لیے کسی کو جوابدہ بھی نہیں بلکہ بڑی آسانی سے یہ کہہ کر بچ نکلتے ہیں کہ عوام الیکشن میں ان کا احتساب کرے گی لیکن ان کی غلطیوں سے جو نقصان ملک و قوم کو پہنچ چکا ہوتا ہے وہ اس سے خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں۔عوام انہیں اسی لیے منتخب کرتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل حل کریں گے لیکن وہ عوام ہی کو نظر انداز کر کے اپنے لیے دن رات کوشاں رہتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں بیڈ گورننس ہی توانائی کے بحران کی بڑی وجہ ہے۔ملک میں پہلے پندرہ فیصد بجلی چوری ہو رہی تھی اب بیس فیصد ہو رہی ہے۔ جو لوگ بل ادا کرتے ہیں وہ ان لوگوں کا بل کیوں ادا کریں جو بجلی چوری کرتے ہیں۔ بجلی کی تقسیم کا نظام جو انتہائی جدید ہونا چاہئے وہ بھی فرسودہ ہے حالانکہ اب دنیا میں سمارٹ گرڈ سٹیشنز متعارف کرائے جا چکے ہیں جس سے بجلی کے کھمبوں تاروں کے گنجل اور ٹرانسفارمرز سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں پن بجلی، سمندری لہروں اور شمسی توانائی سے بھی ہزاروں میگاواٹ بجلی بنائی جا سکتی ہے جو ہوا پاکستان سے گزر کر بھارت جاتی ہے بھارت نے تو اس سے بجلی پیدا کر لی مگر ہم اس سے بجلی نہیں بنا سکے۔علاوہ ازیںواپڈاوتقسیم کار کمپنیوں میں نااہل اور کرپٹ لوگ بھی بھرتی ہو چکے ہیں جو حالات کی سنگینی کا سبب ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں بجلی کا بحران خود ساختہ ہے جس کی وزارت پیداوار، وزارت خزانہ، وزارت پانی و بجلی اور وزارت پٹرولیم ذمہ دار ہیں۔ سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک نوے کی دہائی سے چیخ رہے ہیں کہ بجلی پیدا کرو، ہائیڈل منصوبے شروع کرو لیکن کسی نے نہیں سنا۔ پانی سے ایک روپیہ چوون پیسوں میں بجلی پیدا کی جا سکتی ہے لیکن ہم تیل سے ساڑھے سولہ روپے میں بجلی پیدا کرتے رہے ہیں۔گلگت بلتستان تو بجلی کی پیداوار کا سب سے موزوں علاقہ ہے لیکن یہیں کے لوگ بدترین بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔اگر حالیہ معاملہ واپڈا اور حکومت کے مابین واجبات کا ہے تو اس کی سزا عوام کو کیوں دی جا رہی ہے اگر واپڈا کو ادائیگی نہیں کی گئی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام سے بجلی کے بلوں کی مد میں جو رقم وصول کی گئی وہ کہاں گئی اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو فوری طور پہ حل کر عوام کو مذکورہ بحران سے نجات دلانے کے علاوہ اس کا مستقل حل تلاش کرنے پہ بھی توجہ دی جائے۔

Share Button