تازہ ترین

Marquee xml rss feed

عمران خان اور بشریٰ مانیکا کی شادی، ایک روز بعد ہی علیحدگی ہو جانے کی پیشن گوئی بھی کر دی گئی-چیئرمین چکوال پریس کلب خواجہ بابر سلیم کی سی آر شمسی کوقومی روز نامہ سماء اسلام آباد کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہونے پر مبارکباد-سعداحسن قاضی اسلامی جمعیت طلبہ حیدرآباد کے ناظم منتخب-تحصیل ہیڈ کوارٹر حضرو میں ہفتہ صحت میلہ کے حوالے سے کیمپ لگایا گیا،افتتاح انجینئر اعظم خان اور احسن خان نے کیا-ایم فل ڈگری پروگرامز 2018ء کے تحت داخلے کے لیے ٹیسٹ میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز 26 فروری کو ہوں گے-ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عمر جہانگیر کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کا اچانک معائنہ،مریضوں کے مسائل دریافت کیے-اپنا چکوال اور شان پروڈکشن کی مشترکہ پیش کش مزاحیہ ڈارمہ عقل وڈی کے مج مکمل فروری کی شب اپنا چکوال چینل پر پیش کیا جائیگا-مقدمات کی تفتیش کے مد میں 55 لاکھ روپے جاری کردیئے گئے-پٹرولنگ پولیس دلیل پور نے کار میں غیر قانونی اور غیر معیاری سی این جی سلنڈر نصب کرنے پر ڈرائیور کوگرفتار کر لِیا-ڈاکٹر خادم حسین قریشی کا ٹنڈو الہیار ، ٹنڈو جام ، شاہ بھٹائی اسپتال لطیف آباد ، تعلقہ اسپتال قاسم آباد ، نوابشاہ اور ہالا میں ہیپاٹائٹس سینٹر ز کا دورہ

GB News

پاکستان کو دوبارہ آسٹریلیا میں نہ بلایا جائے، آی این چیپل نے حکام کو مشورہ دے دیا

Share Button

آسٹریلیا کے سابق کپتان ای این چیپل نے ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ شکست سے دوچار ہونے والی پاکستانی ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آسٹریلین کرکٹ حکام کو آئندہ پاکستانی ٹیم کو اپنے ملک نہ بلانے کا مشورہ دیا ہے۔ابتدائی ٹیسٹ میچ میں بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کرنے والی پاکستانی ٹیم بقیہ دونوں ٹیسٹ میچوں میں بدترین شکستوں سے دوچار ہو کر سیریز 3-0 سے ہار گئی۔

آئن   چیپل نے پاکستان کی آسٹریلیا میں ناقص فارم کا تذکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب آسٹریلیا میں لگاتار 12 ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے اور کرکٹ آسٹریلیا کو کہنا چاہیے کہ اگر کارکردگی میں بہتری نہ آئی تو ہم دعوت دینا چھوڑ دیں گے۔سابق آسٹریلین کپتان نے کہا کہ میلبرن ٹیسٹ میں پاکستان کی فیلڈنگ سے اندازہ ہو گیا تھا کہ بقیہ سیریز کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ مستقل خراب کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔ آپ بری گیندیں نہیں کر سکتے. وہی روایتی فیلڈنگ اور فیلڈنگ میں غلطیاں کر کے آپ آسٹریلیا میں جیتنے کی توقع نہیں رکھ سکتے۔

اس موقع پر انہوں نے ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کی مستقل جدوجہد کی ایک بڑی وجہ یہ تھی ٹیم قائدانہ صلاحیتوں سے بالکل عاری تھی، مصباح سے پاکستانی ٹیم کو کوئی تحریک نہیں مل رہی تھی لہٰذا پاکستان میں چیزیں بدلنے کی ضرورت ہے۔مصباح کے مستقبل کے بارے میں سوال پر سابق آسٹریلین بلے باز نے کہا کہ اگر سلیکشن کا اختیار میرے پاس ہوتا تو بطور کپتان مصباح کا دور ختم ہو جاتا لیکن پاکستان میں بہت عجیب و غریب چیزیں ہو جاتیں لہٰذا میں یقین سے کوئی بات نہیں کہہ سکتا۔

Facebook Comments
Share Button