تازہ ترین

Marquee xml rss feed

نیب نے اسحاق ڈار کے تمام اثاثے منجمد کرنے کی درخواست کر دی-میکسیکو میں 7عشارئیہ1 شدت کا زلزلہ۔-محرم الحرام میں امن قائم رکھنا سب کی ذمہ داری ہے،چوہدری سرفراز افضل-کو آپریٹو ہاوسنگ سوسائٹز کی انتظامیہ ڈینگی کے سدباب کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرے،رجسٹرارکوآپریٹوز پنجاب مرزا محمود الحسن کا سیمینار سے خطاب-نیب نے کرپشن کے مختلف مقدمات میں ملوث 10اشتہاریوں کی فہرست جاری کر دی-راولپنڈی،ریس کو رس کے علاقے پپلز کالونی میںفائرنگ سے خاتون قتل، شوہر شدید زخمی-حکومت بر ما میں مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم کا معاملہ اقوام متحدہ ،اوآئی سی میں اُٹھائیں،جماعت اسلامی بلوچستان-میثاق جمہوریت کے نام پرمک مکاکرنے والے آصف زرداری اورنوازشریف ملک کے دشمن ہیں،عمران خان بلاول نے کیاکمال کیاکہ پارٹی کاچیئرمین بن گیا،بھٹوکی طرح ہاتھ ہلانے سے کوئی ... مزید-بیگم کلثوم نواز(کل)تیسری سرجری کیلئے ہسپتال میں داخل ہونگی-عمران خان کی حیدر آباد میں جلسے کے دوران پیپلزپارٹی پر تنقید کے بعد پیپلزپارٹی کا ردعمل سامنے آگیا

GB News

پاکستان کو دوبارہ آسٹریلیا میں نہ بلایا جائے، آی این چیپل نے حکام کو مشورہ دے دیا

Share Button

آسٹریلیا کے سابق کپتان ای این چیپل نے ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ شکست سے دوچار ہونے والی پاکستانی ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آسٹریلین کرکٹ حکام کو آئندہ پاکستانی ٹیم کو اپنے ملک نہ بلانے کا مشورہ دیا ہے۔ابتدائی ٹیسٹ میچ میں بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کرنے والی پاکستانی ٹیم بقیہ دونوں ٹیسٹ میچوں میں بدترین شکستوں سے دوچار ہو کر سیریز 3-0 سے ہار گئی۔

آئن   چیپل نے پاکستان کی آسٹریلیا میں ناقص فارم کا تذکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب آسٹریلیا میں لگاتار 12 ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے اور کرکٹ آسٹریلیا کو کہنا چاہیے کہ اگر کارکردگی میں بہتری نہ آئی تو ہم دعوت دینا چھوڑ دیں گے۔سابق آسٹریلین کپتان نے کہا کہ میلبرن ٹیسٹ میں پاکستان کی فیلڈنگ سے اندازہ ہو گیا تھا کہ بقیہ سیریز کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ مستقل خراب کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔ آپ بری گیندیں نہیں کر سکتے. وہی روایتی فیلڈنگ اور فیلڈنگ میں غلطیاں کر کے آپ آسٹریلیا میں جیتنے کی توقع نہیں رکھ سکتے۔

اس موقع پر انہوں نے ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کی مستقل جدوجہد کی ایک بڑی وجہ یہ تھی ٹیم قائدانہ صلاحیتوں سے بالکل عاری تھی، مصباح سے پاکستانی ٹیم کو کوئی تحریک نہیں مل رہی تھی لہٰذا پاکستان میں چیزیں بدلنے کی ضرورت ہے۔مصباح کے مستقبل کے بارے میں سوال پر سابق آسٹریلین بلے باز نے کہا کہ اگر سلیکشن کا اختیار میرے پاس ہوتا تو بطور کپتان مصباح کا دور ختم ہو جاتا لیکن پاکستان میں بہت عجیب و غریب چیزیں ہو جاتیں لہٰذا میں یقین سے کوئی بات نہیں کہہ سکتا۔

Facebook Comments
Share Button