تازہ ترین

Marquee xml rss feed

قومی احتساب بیورو میں افسران کی خلاف ضابطہ تقرریوں کا معاملہ، نیب لاہور کے چار سینئر افسران نے استعفیٰ دیدیا-سابق ادوار میں کیشنگی کے نام پر کروڑوں کی کرپشن کی گئی،میر غلام دستگیر بادینی عوام کو مصنوعی طورپر پسماندہ رکھنے والوں کے مکروہ چہرے آشکارہوچکے ہیں،رکن بلوچستان اسمبلی-آئندہ الیکشن میں پیپلزپارٹی بھرپور کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائے گی،ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ-پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر عاجز دھامرہ کا شیخوپورہ کے قریب ریلوے حادثے پر اظہار افسوس-ماہ رجب کی رویت کا شرعی فیصلہ کرنے کے لیے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا، مفتی منیب الرحمن-مسلم لیگ(ن)آئندہ الیکشن میں مخالف جماعتوں کاصفایاکردے گی،شہبازشریف پیپلزپارٹی پہلے کراچی کاکچراصاف کرے پھرپنجاب کی بات کرے،میٹروکوجنگلابس کہنے والوں نے فوائددیکھے ... مزید-کراچی ،ناظم آباد میں بس پر فائرنگ پولیس اہلکار نے کی ، معمہ حل پولیس اہلکار واقعے کے بعد جائے حادثہ سے غائب ، شک پڑنے پر حراست میں لے لیا گیا ، مقدمہ درج کر کے تفتیش کا ... مزید-اوور لوڈنگ یا چھتوں پر مسافروں کو سوار کرنے والی بسوں، وینز یا کوچز کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے،آئی جی سندھ-امتحانات کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کی جائے،جام مہتاب حسین ڈھر-طلبا ملکی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں،بلاول بھٹو

GB News

سی پیک اور گلگت بلتستان کی خوشحالی

edi

وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان اورچائنہ کی دوستی کا ایک اہم باب ہے جس سے پاکستان اور چائنہ ترقی کی نئی منزلیں طے کریں گے۔ سی پیک کے منصوبوں میں گلگت چترال ایکسپریس وے، رائیکوٹ تا تھاکوٹ سیکشن کی تعمیر سمیت دیگر پاور پروجیکٹس سے گلگت بلتستان میں خوشحالی آئے گی۔ بلاشبہ سی پیک کا منصوبہ گلگت بلتستان کی خوشحالی کا پیامبر ثابت ہو گا اور اس کے ذریعے خطے کی تمام محرومیوں کا ازالہ ممکن ہو سکے گا۔ہم جانتے ہیں کہ چین نے اپنے منصوبے کے تحت پاکستان سے مشاورت اور اہم اجلاس کے بعد 46 ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، اسے سی پیک کا نام دیا گیا۔اب اس اہم منصوبے میں شمولیت کے لیے ایران ترکی اور روس بھی مشتاق ہیں۔ترکی کے رہنما سی پیک منصوبے میں شمولیت کیلئے چینی صدر شی چن پنگ سے ملاقات کر چکے ہیں۔ چین اور ترکی دونوں ہی ملک پاکستان کے گہرے دوست، غمگسار اور ہمدرد ہیں اور پاکستان بھی ان ممالک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، چین و ترکی اس وقت پاکستان کی اقتصادی ترقی میں برابر کے شریک ہیں۔ چین اور ترکی نے اس خلا کو بھی پاٹنے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے یورپی ممالک جاپان، امریکا اور عرب کی طرف سے آنیوالی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی تھی۔سی پیک ایک بڑے ون بیلٹ، ون روڈ منصوبے کا حصہ ہے، جس میں ساٹھ سے زائد ممالک شامل ہیں، جو چھ مختلف راہداریوں کے ذریعے ایک نئے عالمی نظام سے منسلک ہونیوالے ہیں۔ سی پیک کی افادیت دوسرے ممالک میں بھی بڑھتی جا رہی ہے اور اب برطانیہ بھی سی پیک کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ دوسرے ممالک بھی اقتصادی راہداری کے حصے دار بنیں گے۔اقتصادی راہداری کو گیم چینجر اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا اور دوسرے ملکوں نے مل کر جو نظام بنایا تھا اب موجودہ حالات کے تناظر میں اس کی اہمیت وہ نہیں رہی، جو ماضی میں تھی، اس کی وجہ سے دوسرے ملکوں نے اس نظام کو اپنالیا انہی میں چین بھی شامل ہے۔ اس نے اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے بعد عالمی منڈیوں تک تجارت کو فروغ دیااور اب اس نے مزید ترقی اور فوائد کے لیے پاکستان کے راستے اقتصادی راہداری کا منصوبہ بنایا۔ اس سے یہ ہوگا کہ چین کو کئی ہزار کلومیٹر بحری سفر کی بچت ہوگی۔بے شک زندہ قومیں، زندہ لوگ اسی طرح ترقی کا سفر کرتی اور دوسروں کو بھی شرکت کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ہمارے اپنے ملک پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے، اگر مقتدر حضرات میں قومی حمیت ہوتی تو آج پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوتا لیکن اپنے طور پہ کچھ بھی کرنے کی سعی نہیں کی گئی۔سی پیک کی مستقل کامیابی تو اسی وقت ممکن ہے جب مخالف قوتوں کا خاتمہ ہو، ہمارے اپنے ہی لوگوں میں میر و جعفر موجود ہیں، ان کی نشاندہی اور ان پر گرفت بے حد ضروری ہے۔ بیرون ملک کی طرف نگاہ اٹھائیں تو اس وقت سب سے بڑا مخالف ملک بھارت ہے۔ جی ٹوئنٹی سربراہی کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ملاقات کے دوران چینی صدر شی چن پنگ سے اپنے دلی بغض و عناد بھرے اعتراضات کیے لیکن پاکستان کے دوست چینی صدر نے برجستہ جواب مرحمت فرمایا کہ سی پیک منصوبہ ہر حال اور ہر قیمت میں پایہ تکمیل کو پہنچے گا، لہذا ہمیشہ کی طرح بھارت کو منہ کی کھانا پڑی، وہ اپنی شکست کا بدلہ سرحدوں پر معصوموں کی جان لے کر کر رہا ہے۔ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے سیاسی حالات بہتر ہوں، بلوچستان کے سرداروں کو بھی مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، اگر وہ محب وطن ہیں، بلوچستان کے عوام کی رہنمائی کے لیے مثبت اصول اور ذرائع روزگار کے مواقع مہیا کرنے کی اشد ضرورت ہے، بلوچستان میں بھارت کی مداخلت زہر قاتل ثابت ہو رہی ہے، سابقہ جنرل راحیل شریف کی حکمت عملی نے باغی بلوچوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا اور اب کچھ بہتری کی صورتحال نے جنم لیا۔اب چین کے تحت پاکستان کی بدحالی اور اداروں کی خستہ حالی کو درست کرنے کا وقت آگیا ہے، اور اب ہمیں ملک بھر میںچینی ورکروں اور افسران سے واسطہ پڑے گا، اس کے لیے چینی زبان سیکھنا بھی ناگزیر ہے کہ اپنے دوست سے معاشرتی امور کے سلسلے میں گفت و شنید کی ضرورت تو ضرور پیش آئے گی۔ اکنامک کوریڈور پر تیزرفتاری سے کام کا آغاز کردیا گیا ہے اوراس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جارہی ۔ ہمیں آج کے چیلنجز سے نمٹنے ہوئے مستقبل کی جانب تیزی سے بڑھنا ہے اورپاکستان کی ترقی اور معیشت کے فروغ کے لئے صنعت کاری کے عمل کو مضبوط کرناہے اور اس مقصد کے لئے توانائی درکار ہے ۔سی پیک کے تحت 36ارب ڈالرتوانائی کے منصوبوں پر صرف کیے جارہے ہیں اوران منصوبوں کی تکمیل سے نیشنل گرڈ میں ہزاروں میگاواٹ بجلی شامل ہوگی دیامر بھاشا ڈیم اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرے گا۔یہ امرقابل ذکر ہے کہ سی پیک صرف 46 ارب ڈالر کا پیکج نہیں بلکہ یہ پاکستان اور چین کی بے مثال دوستی کاآئینہ دار ہے اور چینی قیادت کی پاکستان کے ساتھ مخلصانہ محبت اورایثار کا بین ثبوت ہے ۔ چینی قیادت نے یہ عظیم تحفہ پاکستان کو بغیر کسی شرط کے دیا ہے ۔ توانائی بحران سے نمٹے بغیرترقی کے اہداف حاصل نہیں ہوسکتے، یہی وجہ ہے کہ توانائی کے منصوبوں پر انتہائی تیزرفتاری کے ساتھ کام کا آغاز ہوچکا ہے اورسی پیک کے منصوبوں میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جارہی ۔کیونکہ یہ منصوبے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہیں۔ 2017۔18 تک سی پیک کے منصوبوں سے چھ سے سات ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی جس سے توانائی بحران میں کمی آئے گی۔ سی پیک کے تحت جتنے بھی منصوبے لگائے جارہے ہیں وہ اس سے عام آدمی کی حالت بدلے گی اورپاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا۔گلگت بلتستان میں بھی اس منصوبے اور اس کے ثمرات کے حوالے سے پیش بندی کی ضرورت ہے تاکہ اس سے پورے طور پہ مستفید ہوا جا سکے۔

Share Button