تازہ ترین

Marquee xml rss feed

پاک افغان سرحدی علاقے میں ایک اور امریکی ڈرون حملہ، 2 خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کر دیے جانے کی اطلاعات-مستونگ کے مرکزی بازارمیں دھماکے کی اطلاع-آرمی چیف کا آرمی میڈیکل سنٹرایبٹ آباد کا دورہ،ڈاکٹرزاورمیڈیکل سٹاف کی تعریف یاد گارشہداء پرحاضری اور پھول بھی چڑھائے،دہشتگردکی جنگ میں آرمی میڈیکل کورنے قیمتی جانیں ... مزید-طارق فضل چوہدری کی طرف سے وفاقی دارالحکومت میں ایمبیسی روڈ پر درختوں کی کٹائی کا نوٹس لینے پر سی ڈی اے نے رپورٹ پیش کر دی-عمران خان سیاست میں اناڑی ہیں، انہیں آرام کی ضرورت ہے ،ْ دانیال عزیز فرد جرم عائد ہونے کے بعد نیب ٹیم کون سے ثبوت تلاش کرنے کے لئے لندن گئی ہوئی ہے ،ْ میڈیا سے گفتگو ... مزید-وزیر اعظم کی قندھار میں افغان سکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملہ کی سخت مذمت-ایف آئی اے کی جدید بنیادوں پر تنظیم کی جائے،نئی ٹیکنالوجی سے جرائم پر قابو پانے کی صلاحیت حاصل کی جائے، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے موثر اور عملی اقدامات اٹھائے ... مزید-وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے نیب کو کرپٹ ترین ادارہ قراردے دیا نیب کرپشن ختم کرنے کی بجائے کرپشن کا گڑھ بن چکا،مشرف اور بعد کے ادوارمیں نیب کو سیاسی مقاصدکیلئے استعمال ... مزید-سیکرٹری وزارتِ انسداد منشیات اقبال محمود کا اے این ایف ہیڈکوارٹر راولپنڈی کا دورہ-ن لیگ خیبرپختونخواہ دوست محمد خان نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا

GB News

فیض اللہ فراق

Share Button

گزشتہ کچھ مہینوں سے بعض سیاسی جماعتیں حق ملکیت و حق حاکمیت کے نعرے کے ساتھ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں گلگت بلتستان کے عوام ان جماعتوں کے ماضی کے کردار سے خوب آشنا بھی ہیں 2009ء میں اسوقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ایک آرڈر کے ذریعے گلگت بلتستان کو ایک سیاسی پیکج دیا جو سیاسی حقوق کی منزل کی جانب ایک قدم تسلیم کیاجاسکتاہے اس آرڈر میں سیاسی اصلاحات کے ذریعے گلگت بلتستان کو صوبائی سیٹ اپ سے نوازا گیا جس کے تحت خطے نے پہلی بار وزیراعلیٰ اور گورنر جیسے مناصب سے اپنی ذمہ داریوں کا آغاز کیا ،2009سے 2015تک پانچ سال پاکستان پیپلزپارٹی وفاق اور گلگت بلتستان میں برسراقتدار رہی پی پی پی کی حکومت کا کام کردار اور عمل عوام کے سامنے ہے دیامر بھاشا ڈیم جیسے میگا منصوبوں کیلئے زمین کی خریداری کاعمل بھی سابق حکومت کے دور میں شروع ہوا ،دیامر بھاشا ڈیم کیلئے تقربیاًچھتیس ہزار ایکٹر اراضی لینے کا تخمینہ لگایا گیا جبکہ اس زمانے کی حکومت اور پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی قیادت نے ضلع دیامر کی اٹھارہ ہزار ایکٹر زمین وفاقی حکومت کو مفت فراہم کرنے کا باقاعدہ معاہدہ کیا صرف سترہ ہزار ایکٹر زمین کا معاوضہ ادا کیا گیا جن میں تقریباً گیارہ ہزار ایکٹر اراضی ایسی تھی جن پر لوگوں کے گھر ،مارکیٹیں اور ہری بھری آباد فصلیں تھیں ،عوام کی ملکیتی اٹھارہ ہزار ایکٹر زمین کو مفت وفاقی حکومت اور واپڈا کوفراہم کرتے وقت پیپلزپارٹی کی قیادت کو عوامی حقوق کا کچھ خیال نہیں آیا سابق حکومت اپنے دور حکومت کے پانچ سالوں میں متاثرین ڈیم کے معاوضات کا دس فیصد بھی ادا نہ کرسکی جبکہ 2015ء میں گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہونے کے بعد دیامر بھاشا ڈیم پر ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز کیاگیا اور آٹھ ماہ کے قلیل عرصے میں سوفیصد اراضی معاوضات شفافیت کیساتھ ادا کئے گئے ،گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں اراضی کی الگ الگ پوزیشن ہے گلگت شروع سے بندوبستی علاقہ ہے جبکہ دیامر روز اول سے غیر بندوبستی علاقہ مانا جاتاہے ضلع گلگت کی بنجر اراضی کو اس حدتک نوالاٹ منٹ کی اجازت ہے کہ حکومتی ضروریات کو پورا کیاجائے لیکن پرائیویٹ کسی شخص کو بندوبستی علاقے کی زمین الاٹ کرنے کی سختی سے ممانعت ہے 1986ء سے پہلی بار سرکاری ضرورت کے پیش نظر کچھ ارضیات الاٹ کی گئیں مگر اس عمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پراسرار طورپر بعض پرائیوٹ لوگوں کے نام بھی خسرے الاٹ کئے گئے جس پر 1986میں اسوقت کی حکومت نے ایف آئی اے کے ذریعے ایک انکوائری کمیٹی بنائی اور تحقیقات کی گئیں جس کی روشنی میں پرائیویٹ افراد کو الاٹ کی گئی اراضی کو غیر قانونی قرار دیاگیا بنیادی طورپر گلگت کی زمینوں سے دیامر کی ارضیات کی پوزیشن یکسر مختلف ہے ،ان تمام تر حقائق کے باوجود دیامر کی بندوبستی زمین کا اٹھارہ ہزار ایکٹر کو پیپلزپارٹی نے واپڈا کو مفت فراہم کرنے کا معاہدہ کیا اس وقت پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کی قیادت حق ملکیت کے نام پر عوام کو بیوقوف بنارہی ہے حالانکہ جب یہ لوگ اقتدار میں تھے تو عوامی حقوق کو انہوں نے نیلام کیا ،دیامر بھاشا ڈیم چونکہ عوامی و قومی نوعیت کا منافع بخش منصوبہ ہے اس منصوبے کی کامیاب تکمیل سے گلگت بلتستان اپنے پائوں پر کھڑا ہوسکتا ہے اس لئے مفت اراضی کی فراہمی قومی نوعیت کے منصوبے کی تعمیر کیلئے گھاٹے کا سودا نہیں ہے جب ہم زمین ہی فراہم نہیں کرینگے تو میگا منصوبے کیسے تعمیر ہونگے ضلع دیامر میں ہزاروں کنال پر مشتمل داسیس آج بھی حکومت اور عوام کے مابین متنازعہ ہے اور تمام فریقین عدالتوں میں ہیں اس کے باوجود مذکورہ ارضیات کا متنازعہ ایوارڈ بناکر قومی نوعیت کے بڑے منصوبے پر کام کا آغاز ہونے جارہا ہے۔ ضلع گلگت بندوبستی علاقہ ہے مگر اس کے باوجود عوا م ارضیات کیخلاف عدالتوں میں ہیں چھلمس داس کا معاملہ دیامر کے ایشوز سے یکسر مختلف ہے چھلمس داس کے معاملے پر بعض عوامی طبقات اور سرکار کے درمیان عدالتوں میں کیس چل رہا ہے جبکہ دوسری طرف سی پیک کے تناظر میں تمام صوبوں میں معاشی زونز بن جائیں گے جس کیلئے گلگت بلتستان میں بھی ایک اکنامک زون منظورہوا ہے جس کیلئے 250ایکٹر اراضی گلگت شہر کے نواحی علاقہ مقپون داس کی نشاندہی ہوچکی ہے معاشی زون کیلئے تمام صوبوں میں مفت اراضی فراہم کی جارہی ہے لیکن مقپون داس اور چھلمس داس کامعاملہ عدالتوں میں ہے اس لئے مذکورہ اراضی کا متنازعہ ایوارڈ بناکر معاشی زون پر کام شروع کیاجاسکتا ہے کیونکہ نلتر پاور پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے واضح موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی نہیں ہوگی چھلمس داس کا معاملہ عدالتوں میں ہے اگر عدالت نے عوام کے حق میں فیصلہ دیا تو ارضیات کے عوام کو حکومت معاوضات ادا کریگی ،پیپلزپارٹی عوامی حقوق کا دفاع نہیں بلکہ اپنی سیاسی تنہائی کو دور کرنے کیلئے کھوکھلے نعروں کے ذریعے عوام کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہی ہے اگر یہ لوگ عوام سے محبت کرنیوالے ہوتے تو دیامر بھاشا ڈیم کیلئے دیامر کی بندوبستی اراضی نیلام نہ کرتے ،موجودہ حکومت گلگت بلتستان کے عوامی ووٹوں سے منتخب ہوئی ہے اس لئے عوامی جائز حقوق کا دفاع بھی موجود ہ حکومت کرسکتی ہے چلے ہوئے کارتوس عوام کیلئے کیا کرینگے ، پی پی پی کی قیادت حق حاکمیت کا نعرہ آخر کس لئے لگارہی ہے؟ کس نے ان سے حاکمیت چھینی ہے ؟یہ لوگ تو پانچ سال اقتدار کا لطف لیتے رہے اور 2015ء میں عوام نے ان کا اصل چہرہ بے نقاب ہونے پر انہیں رد کرتے ہوئے مینڈیٹ مسلم لیگ ن کو دیا ہے پی پی پی کا حق حاکمیت کا منطق بھی عوامی جذبات کو مجروح کرنے کا منصوبہ ہے ۔

Facebook Comments
Share Button