تازہ ترین

Marquee xml rss feed

مشیرِوزیراعظم کا اختیارات سے تجاوز؛ اہل خانہ کا رعایتی ٹکٹوں پرمختلف ممالک کا مفت سفر-ہیواوے نے نیا چار کیمروں والا انتہائی سستا اسمارٹ فون متعارف کرا دیا-دوسری شادی کرنیوالے شوہر کو6ماہ قید و ایک لاکھ جرمانے کی سزا-گوجرخان، وارڈ نمبر 14صندل روڈ پر قتل کی واردات ، 36سالہ شخص کی لاش گھر سے بر آمد-گوجرخان، ہونہار طالب علم حسیب بٹ کا اعزاز-گوجرخان، گورنمنٹ امجد عنایت جنجوعہ شہید ہائی سکول بھاٹہ کا اعزاز-گورنمنٹ بوائز ہا ئی سکول زرعی فارم راولپنڈی کے ہونہار طالب علم حیان علی خان کی مقابلہ حسن قرائت میں راولپنڈی ڈویژن میں پہلی پوزیشن-مرکزی قبرستان کی سڑک کی تعمیر کیلئے فنڈزفراہم کرنے پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبر حافظ احمد رضا قادری ایڈووکیٹ کا شکریہ-ْلاہور کے احتجاجی جلسے میں عمران خان او رشیخ رشید نے جو پارلیمنٹ کیخلاف بازاری اور گھٹیا زبان استعمال کی،شدید مذمت کرتے ہیں،پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے وا لے اسی پارلیمنٹ ... مزید-سپریم کورٹ کے حکم پر میونسپل کارپوریشن مری نے آپریشن کیلئے تیاریوں کو حتمی شکل دے دی

GB News

منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈائون

Share Button

وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت میںمنشیات کے خلاف محکمہ پولیس کی جانب سے کریک ڈائون اور کامیاب کارروائیوں پر محکمہ پولیس کی بہترکارکردگی پرکہا ہے کہ منشیات کیخلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ معاشرے سے منشیات کی لعنت کا مکمل خاتمہ کیاجاسکے۔وزیراعلی نے کہا گلگت بلتستان کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے حکومت پرعزم ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل منشیات کی لعنت سے بچ سکے۔منشیات فروشوں کے خلاف پولیس کا کریک ڈائون یقینا ایک مثبت پیش رفت ہے کیونکہ وہ منشیات کا زہر نوجوانوں کی رگوں میں اتارنے میں مصروف ہیں ایسے عناصر کو کیفرکردار تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے کولاحق خطرات میں سب سے بڑا خطرہ منشیات کا خطرہ ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہوں یا غیر ترقی یافتہ، سب کے سب اپنے شہریوں کو منشیات سے بچانے کے لیے سرگرم نظر آتے ہیں۔ منشیات نے ایک وبا کا روپ اختیار کر لیا ہے اور یہ وبا تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے’اس وبا کا اصل ماخذ ہمارا پڑوسی ملک افغانستا ن ہے۔ اس کی سمگلنگ شدہ منشیات پاکستان بھر میں استعمال ہوتی اور دیگر کئی ممالک میں بھی پھیلتی ہیں۔ اس طرح سے منشیات کا دھندہ اور اسکا بڑھتا ہوا استعمال ایک چیلنج کی صور ت اختیار کر گیا ہے۔منشیات کے عادی لوگوں میں 60فیصد لوگوں کی عمر 15تا 30سال کے درمیان ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت کس طرح ہماری نوجوان اور آنے والے نسلوں کے لئے زہر قاتل ثابت ہورہی ہے۔ ہمارے ہاںنشہ کیلئے زیادہ ترچرس ،کیمیائی ادویات جیسے ڈائیزاپام ،ہیروئن اور گٹکا وغیرہ کا استعمال ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ نشہ کے عادی لوگوں کی ایک کثیر تعداد ٹیکہ کے ذریعے ادویات کا استعمال کرتی ہے۔وہ آپس میں مشترکہ سرنج کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے یرقان اور ایڈز کے امراض لاحق ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں تقریبا ایک لاکھ کے قریب ایچ آئی وی ایڈز کے مریض ہیں جن میں سے 27فیصد ٹیکہ کے ذریعہ نشہ آور ادویات کا استعمال کرنے والے ہیں۔ٹیکہ کا استعمال جسم کے اہم اعضاجیسے گردہ اورجگر وغیرہ کو بھی متاثر کرتاہے اور ٹیکے کے ذریعے نشہ آور ادویات کا استعمال کرنے والے تھوڑے ہی عرصہ میں معمول کی زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہتے۔کوئی بھی شخص پیدائشی طور پر منشیا ت کا عادی نہیں ہوتا۔ اکثر لوگ برے دوستوں کی صحبت میں اس کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ یہ برے دوست اکثر فیشن کے طور پر منشیات کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ذہنی پریشانی، دبائو، ڈپریشن وغیرہ بھی بعض اوقات انسان کو نشے کے استعمال کی جانب لے جاتی ہیں۔ وہ لوگ جو فلموں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور نفسیاتی طور پر اس کے اچھے یا برے کرداروں کی پیروی کرتے ہیں ، وہ بھی نشے کی لت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ بہت سے مما لک میں نشہ آور ادویات ، اور منشیات کا استعمال ناقابلِ معافی جرم ہے جب کہ بہت سے ممالک کے قوانین میں اس میں لچک موجود ہے۔ نشے کی عام دستیابی بھی اس کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے۔ اگر عوام الناس کو منشیات سے بچانا ہے تو ضروری ہے کہ حکومتی قوانین کو مضبوط بنایا جائے’ اس کی ایک عام مثال خلیجی ممالک کی ہے جہاں منشیات کا استعمال ناقابلِ معافی جرم ہے۔ بعض اوقات طبی نقطہ ضروریات کے مطابق بہت سی نشہ آور ادویات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ میڈیکل سٹورز پر سختی سے اس بات پر عمل کروانا چاہیے کہ یہ نشہ آور ادویات عوام الناس تک نہ پہنچیں۔ بچوں کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے ۔ بری صحبت انسان کو نشے کی جانب کھینچ سکتی ہے جس سے اس میں غصیلہ پن، امتحانات میں فیل ہونا، غیر حاضر رہنا،جسمانی ساخت میں تبدیلی آجانا،سونے کی عادات میں تبدیلی آجانا،رقم کی طلب وغیرہ اس کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔والدین کو چاہیے کہ بچے کے معمولات کی سختی سے نگرانی کریں اور بری صحبت سے بچائیں۔ چونکہ ہمارے قانون نافذکرنے والے ادارے اور ایجنسیاں گلیوں اور بازاروں میں عام لوگوں تک نشہ آور ادویات کی سپلائی کو کنٹرول کرنا مشکل ہے تو سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے علاقہ اور قرب وجوار میںنشہ کی ترسیل اور استعمال کرنے والوں پر نگاہ رکھیں اور اس کی خرید وفروخت کو روکیں۔ہم اپنے فرائض ادا کر کے نوجوان نسل کو نشہ کے مضر اثرات سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔اس لعنت کے سدباب کیلئے ہمہ جہت کاوشوں کی ضرورت ہے کیونکہ منشیات کی عادت نہ صرف عادی افراد کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے معاشرے کا تانا بانا بھی بکھر جاتا ہے۔ منشیات کے عادی افراد کے دماغ، جسم اور روح پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس عادت کے سادہ سے اثرات بھی انتہائی گمبھیر ہیںاس کے مضر اثرات سے متاثرہ فرد کو زندہ رہنے کیلئے منشیات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ نشے کی عادت ایک سنگین مسئلہ ہے حتی کہ اگر عادی فرد نشہ آور ادویات بھی استعمال کر رہا ہو پھر بھی مضر اثرات انتہائی نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ منشیات کی لعنت کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب حکومت اس کے لئے حکمت عملی سے انتظامی اور قانونی اقدامات کرے۔ لوگوں کو اس حوالے سے درست انداز میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بیماری کی صورت میں بھی وہ ضرورت سے زیادہ استعمال سے بچیں اور طبی پیچیدگیوں کا شکار نہ ہوں۔ نشے کی عادت کے مضر اثرات کو برداشت کرنا بہت مشکل ہے اس لئے متاثرہ فرد کو جتنا جلد ہو سکے طبی امداد دی جانی چاہیے۔ ان لوگوں کو تو کسی قیمت پہ معاف نہیں کیا جانا چاہیے جو نوجوان نسل کی تباہی کے ذمہ دار ہیں حکومت پہ لازم ہے کہ وہ منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈائون کا سلسلہ جاری رکھے اور اس کیلئے ایسی سزائیں مقرر کرے کہ کسی کو منشیات فروخت کرنے کی جرات نہ ہو۔

Facebook Comments
Share Button