تازہ ترین

Marquee xml rss feed

قومی اسمبلی میں پارلیمانی سیکرٹریٹ برائے پائیدار ترقیاتی اہداف کے قیام کو ایک سال مکمل ہوگیا،رکن قومی اسمبلی و وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات وقومی ورثہ ایم این اے ... مزید-وفاقی دارالحکومت کے پولی کلینک اسپتال میں کامیاب آپریشن کے ذریعے 13سالہ لڑکی کی جنس تبدیل ، عطیہ نامی لڑکی کا نام جنس بندلنے کے بعد عدنان رکھ دیا گیا میڈیکل کے لحاظ سے ... مزید-سیالکوٹ ،بھارتی سیکیورٹی فورسز کی سرحدی گائوں پر فائرنگ سے 54 سالہ خاتون شہید رینجرز حکام کے بی ایس ایف سے مذاکرات ،خاتون کی نعش واپس کر دی ، رینجر زحکام نے لو احقین ... مزید-ایف آئی اے نے اسلام آباد سے انسانی اسمگلر گرفتار کر لیا ،ملزم نے شہریوں کو بیرون ملک کا جھانسا دے کر لاکھوں روپے بٹورے-وزیر اعلیٰ پنجاب کاراولپنڈی میں پتنگ بازی اور ہوائی فائرنگ کے واقعات کا سخت نوٹس، اے ایس پی اور ایس ایچ او تھانہ صدر راولپنڈی کو فوری معطل کرنے کا حکم-پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کا ہرفیصلہ قبول کریں گے ‘ عدالت کے خلاف نہیں جائیں گے ‘ وزیر اعظم ترکی میں بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ‘ افغانستان سے فوجی انخلاء ... مزید-پشاو: بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے پر تعمیراتی کا م کا آغاز کرکیکم سے کم مدت میں مکمل کیا جائے،پرویز خٹک ْمنصوبے کے تینوں پیکیجز کاٹینڈر30 اپریل تک جاری کیا جائے، منصوبے کو ایک ... مزید-پشاور:صوبائی حکومت نے ہر فیصلے میں عام آدمی کو مد نظر رکھنیکی وجہ سیتحریک انصاف پر عوام کا اعتماد روز بروز بڑھتا جارہا ہے، پرویز خٹک تحریک انصاف گزشتہ تین سالوں سے نظام ... مزید-پشاور: مردان میں جاری ترقیاتی سکیموں کو بروقت مکمل کیا جائے،پرویز خٹک تحصیل کاٹلنگ کی عمارت 31مارچ تک مکمل کرکے متعلقہ حکام کے حوالے جبکہ کاٹلنگ میں ریسکیو 1122کے لئے اراضی ... مزید-آپریشن ردالفساد پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا،مقررین کا سیمینار سے خطاب

GB News

منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈائون

2

وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت میںمنشیات کے خلاف محکمہ پولیس کی جانب سے کریک ڈائون اور کامیاب کارروائیوں پر محکمہ پولیس کی بہترکارکردگی پرکہا ہے کہ منشیات کیخلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ معاشرے سے منشیات کی لعنت کا مکمل خاتمہ کیاجاسکے۔وزیراعلی نے کہا گلگت بلتستان کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے حکومت پرعزم ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل منشیات کی لعنت سے بچ سکے۔منشیات فروشوں کے خلاف پولیس کا کریک ڈائون یقینا ایک مثبت پیش رفت ہے کیونکہ وہ منشیات کا زہر نوجوانوں کی رگوں میں اتارنے میں مصروف ہیں ایسے عناصر کو کیفرکردار تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے کولاحق خطرات میں سب سے بڑا خطرہ منشیات کا خطرہ ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہوں یا غیر ترقی یافتہ، سب کے سب اپنے شہریوں کو منشیات سے بچانے کے لیے سرگرم نظر آتے ہیں۔ منشیات نے ایک وبا کا روپ اختیار کر لیا ہے اور یہ وبا تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے’اس وبا کا اصل ماخذ ہمارا پڑوسی ملک افغانستا ن ہے۔ اس کی سمگلنگ شدہ منشیات پاکستان بھر میں استعمال ہوتی اور دیگر کئی ممالک میں بھی پھیلتی ہیں۔ اس طرح سے منشیات کا دھندہ اور اسکا بڑھتا ہوا استعمال ایک چیلنج کی صور ت اختیار کر گیا ہے۔منشیات کے عادی لوگوں میں 60فیصد لوگوں کی عمر 15تا 30سال کے درمیان ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت کس طرح ہماری نوجوان اور آنے والے نسلوں کے لئے زہر قاتل ثابت ہورہی ہے۔ ہمارے ہاںنشہ کیلئے زیادہ ترچرس ،کیمیائی ادویات جیسے ڈائیزاپام ،ہیروئن اور گٹکا وغیرہ کا استعمال ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ نشہ کے عادی لوگوں کی ایک کثیر تعداد ٹیکہ کے ذریعے ادویات کا استعمال کرتی ہے۔وہ آپس میں مشترکہ سرنج کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے یرقان اور ایڈز کے امراض لاحق ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں تقریبا ایک لاکھ کے قریب ایچ آئی وی ایڈز کے مریض ہیں جن میں سے 27فیصد ٹیکہ کے ذریعہ نشہ آور ادویات کا استعمال کرنے والے ہیں۔ٹیکہ کا استعمال جسم کے اہم اعضاجیسے گردہ اورجگر وغیرہ کو بھی متاثر کرتاہے اور ٹیکے کے ذریعے نشہ آور ادویات کا استعمال کرنے والے تھوڑے ہی عرصہ میں معمول کی زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہتے۔کوئی بھی شخص پیدائشی طور پر منشیا ت کا عادی نہیں ہوتا۔ اکثر لوگ برے دوستوں کی صحبت میں اس کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ یہ برے دوست اکثر فیشن کے طور پر منشیات کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ذہنی پریشانی، دبائو، ڈپریشن وغیرہ بھی بعض اوقات انسان کو نشے کے استعمال کی جانب لے جاتی ہیں۔ وہ لوگ جو فلموں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور نفسیاتی طور پر اس کے اچھے یا برے کرداروں کی پیروی کرتے ہیں ، وہ بھی نشے کی لت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ بہت سے مما لک میں نشہ آور ادویات ، اور منشیات کا استعمال ناقابلِ معافی جرم ہے جب کہ بہت سے ممالک کے قوانین میں اس میں لچک موجود ہے۔ نشے کی عام دستیابی بھی اس کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے۔ اگر عوام الناس کو منشیات سے بچانا ہے تو ضروری ہے کہ حکومتی قوانین کو مضبوط بنایا جائے’ اس کی ایک عام مثال خلیجی ممالک کی ہے جہاں منشیات کا استعمال ناقابلِ معافی جرم ہے۔ بعض اوقات طبی نقطہ ضروریات کے مطابق بہت سی نشہ آور ادویات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ میڈیکل سٹورز پر سختی سے اس بات پر عمل کروانا چاہیے کہ یہ نشہ آور ادویات عوام الناس تک نہ پہنچیں۔ بچوں کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے ۔ بری صحبت انسان کو نشے کی جانب کھینچ سکتی ہے جس سے اس میں غصیلہ پن، امتحانات میں فیل ہونا، غیر حاضر رہنا،جسمانی ساخت میں تبدیلی آجانا،سونے کی عادات میں تبدیلی آجانا،رقم کی طلب وغیرہ اس کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔والدین کو چاہیے کہ بچے کے معمولات کی سختی سے نگرانی کریں اور بری صحبت سے بچائیں۔ چونکہ ہمارے قانون نافذکرنے والے ادارے اور ایجنسیاں گلیوں اور بازاروں میں عام لوگوں تک نشہ آور ادویات کی سپلائی کو کنٹرول کرنا مشکل ہے تو سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے علاقہ اور قرب وجوار میںنشہ کی ترسیل اور استعمال کرنے والوں پر نگاہ رکھیں اور اس کی خرید وفروخت کو روکیں۔ہم اپنے فرائض ادا کر کے نوجوان نسل کو نشہ کے مضر اثرات سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔اس لعنت کے سدباب کیلئے ہمہ جہت کاوشوں کی ضرورت ہے کیونکہ منشیات کی عادت نہ صرف عادی افراد کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے معاشرے کا تانا بانا بھی بکھر جاتا ہے۔ منشیات کے عادی افراد کے دماغ، جسم اور روح پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس عادت کے سادہ سے اثرات بھی انتہائی گمبھیر ہیںاس کے مضر اثرات سے متاثرہ فرد کو زندہ رہنے کیلئے منشیات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ نشے کی عادت ایک سنگین مسئلہ ہے حتی کہ اگر عادی فرد نشہ آور ادویات بھی استعمال کر رہا ہو پھر بھی مضر اثرات انتہائی نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ منشیات کی لعنت کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب حکومت اس کے لئے حکمت عملی سے انتظامی اور قانونی اقدامات کرے۔ لوگوں کو اس حوالے سے درست انداز میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بیماری کی صورت میں بھی وہ ضرورت سے زیادہ استعمال سے بچیں اور طبی پیچیدگیوں کا شکار نہ ہوں۔ نشے کی عادت کے مضر اثرات کو برداشت کرنا بہت مشکل ہے اس لئے متاثرہ فرد کو جتنا جلد ہو سکے طبی امداد دی جانی چاہیے۔ ان لوگوں کو تو کسی قیمت پہ معاف نہیں کیا جانا چاہیے جو نوجوان نسل کی تباہی کے ذمہ دار ہیں حکومت پہ لازم ہے کہ وہ منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈائون کا سلسلہ جاری رکھے اور اس کیلئے ایسی سزائیں مقرر کرے کہ کسی کو منشیات فروخت کرنے کی جرات نہ ہو۔

Share Button