GB News

گلگت بلتستان کیلئے دو اور فاٹا کیلئے ایک ایئر ایمبولینس فراہم کر رہے ہیں،برجیس طاہر

Share Button

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان چوہدری محمد برجیس طاہر نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کشمیر کی ترقی و خوشحالی کیلئے ترقیاتی فنڈز 11 ارب روپے سے بڑھا کر 21 ارب روپے کر دیئے ہیں، اسی طرح کشمیر میں دو ایئر ایمبولینس، گلگت بلتستان میں دو اور فاٹا میں ایک ایئر ایمبولینس دیں گے، وفاقی حکومت آزاد کشمیر کی ترقی، سڑکوں کی بہتری اور انفراسٹرکچر میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے،کشمیر کونسل کے بارے میں 1974ء کا ایکٹ موجود ہے، کشمیری اگر اس ایکٹ میں ترامیم کرنا چاہتے ہیں وہ کر سکتے ہیں۔ وہ منگل کو یہاں وزارت امور کشمیر میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے کشمیر کے عام انتخابات میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں الیکشن مہم میں لوگوں سے وعدے کئے تھے، ہم نے وہاں پر انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، اس کامیابی کے بعد وزیراعظم محمد نواز شریف نے چار مرتبہ اجلاس میں کشمیر کے ایشو کے حوالہ سے بات چیت کی جس کے نتیجہ میں کشمیریوں کی ڈیمانڈ پر ایک پیکیج تیار کیا۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے آزاد کشمیر کی ترقی و خوشحالی کے معاملہ پر خصوصی دلچسپی لی ہے، وہ کشمیر کو بھی پاکستان کی طرح خوشحال اور ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ کشمیر کے وزیراعظم نے اپنے وزراء کے ساتھ ایک اجلاس میں کہا تھا کہ کشمیر کا ترقیاتی 11 ارب روپے کا فنڈ بہت کم ہے جس پر وزیراعظم محمد نواز شریف نے کشمیر کے ترقیاتی فنڈ کو 11 ارب سے بڑھا کر 21 ارب روپے کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم آزاد کشمیر کیلئے دو ایئر ایمبولینس، گلگت بلتستان کیلئے دو اور فاٹا کیلئے ایک ایئر ایمبولینس فراہم کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر کی ترقی، سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے وفاقی حکومت خصوصی دلچسپی لے رہی ہے، کشمیر کے جو بھی معاملات ہیں اسے خوش اسلوبی سے حل کریں گے، ہم کشمیر کے ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کو بہتر کریں گے، برہان وانی کی شہادت نے جذبہ آزادی کو اجاگر کیا، کشمیری آج بھی اپنا حق مانگ رہے ہیں جبکہ بھارتی حکومت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حق تلفی کر رہی ہے، کشمیری بھارت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے سلامتی کونسل کی قراردادیں کے مطابق اس کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے، پاکستان اس حوالہ سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری محمد برجیس طاہر نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے 2013ء سے لے کر 2016ء تک چار مرتبہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھایا ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کی خارجہ پالیسی واضح ہے، وزیراعظم نے کشمیر کیلئے جو ترقیاتی فنڈز بڑھائے ہیں یہ وزیراعظم اور وزراء کی صوابدید ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اور کشمیر ایک ہیں، پاکستان جتنا کشمیر کو خوشحال اور ترقی یافتہ دیکھنا چاہتا ہے اتنا گلگت بلتستان کو بھی دیکھنا چاہتا ہے، اس میں کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ شونٹر پاس پراجیکٹ کو سی پیک میں شامل کر رہے ہیں، کشمیر میں انفراسٹرکچر اور ہوائی اڈوں کو بھی توسیع دیں گے، وزیراعظم نے چار گھنٹے کشمیری قیادت سے تفصیلی ملاقات کی۔ کیونکہ آج تک کسی بھی وزیراعظم نے کشمیر کی ترقی کے حوالہ سے اجلاس کی صدارت نہیں کی۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ کشمیر کونسل کے بارے میں 1974ء کا ایکٹ موجود ہے جس کے تحت کشمیر کے معاملات چلائے جاتے ہیں، اس ایکٹ کے مطابق کشمیر کونسل ایک ادارہ ہے، کشمیری اگر اس ایکٹ میں ترامیم کرنا چاہتے ہیں وہ کر سکتے ہیں، پاکستان نے بھی 1973ء کے آئین میں 23 مرتبہ ترامیم کی ہیں اور 24ویں آئینی ترمیم پر کام جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کشمیریوں سے محبت رکھتے ہیں۔

Facebook Comments
Share Button