تازہ ترین

Marquee xml rss feed

عمران خان اور بشریٰ مانیکا کی شادی، ایک روز بعد ہی علیحدگی ہو جانے کی پیشن گوئی بھی کر دی گئی-چیئرمین چکوال پریس کلب خواجہ بابر سلیم کی سی آر شمسی کوقومی روز نامہ سماء اسلام آباد کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہونے پر مبارکباد-سعداحسن قاضی اسلامی جمعیت طلبہ حیدرآباد کے ناظم منتخب-تحصیل ہیڈ کوارٹر حضرو میں ہفتہ صحت میلہ کے حوالے سے کیمپ لگایا گیا،افتتاح انجینئر اعظم خان اور احسن خان نے کیا-ایم فل ڈگری پروگرامز 2018ء کے تحت داخلے کے لیے ٹیسٹ میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز 26 فروری کو ہوں گے-ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عمر جہانگیر کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کا اچانک معائنہ،مریضوں کے مسائل دریافت کیے-اپنا چکوال اور شان پروڈکشن کی مشترکہ پیش کش مزاحیہ ڈارمہ عقل وڈی کے مج مکمل فروری کی شب اپنا چکوال چینل پر پیش کیا جائیگا-مقدمات کی تفتیش کے مد میں 55 لاکھ روپے جاری کردیئے گئے-پٹرولنگ پولیس دلیل پور نے کار میں غیر قانونی اور غیر معیاری سی این جی سلنڈر نصب کرنے پر ڈرائیور کوگرفتار کر لِیا-ڈاکٹر خادم حسین قریشی کا ٹنڈو الہیار ، ٹنڈو جام ، شاہ بھٹائی اسپتال لطیف آباد ، تعلقہ اسپتال قاسم آباد ، نوابشاہ اور ہالا میں ہیپاٹائٹس سینٹر ز کا دورہ

GB News

سینٹ،اپوزیشن جماعتوں کاوزیرداخلہ کے ریمارکس پرواک آئوٹ

Share Button

اسلام آباد(آئی این پی ) اپوزیشن جماعتیں دہشت گردی اور فرقہ وارایت کے بارے میں وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کے مبینہ قابل اعتراض ریمارکس کے خلاف سینٹ سے واک آئوٹ کر گئیں۔ منگل کو ایوان بالا میں وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان پر ان کے تفصیلی بیان کے بعد اپوزیشن لیڈر چودھری اعتزاز احسن نے ان پر بلاواسطہ طور پر فرقہ وارانہ و کالعدم تنظیموں سے واسطہ تعلق کا الزام عائد کیا جس پر نکتہ وضاحت پر چودھری نثار علی خان نے کہا کہ ان کے کہنے سے کوئی بات سچ تو نہیں ہو سکتی، ان کی عادت ہے کہ یہ ہر چیز کو حکومت کے گلے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ،اپوزیشن سچ بھی بولے جہاں تک کالعدم تنظیمو ں کا معاملہ ہے تو دہشت گردی اور فرقہ واریت کو الگ الگ دیکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ ضرب عضب آپریشن کی کامیابی سب کی کامیابی ہے اور اس حوالے سے ریکاردڈ ایوان میں پیش کیا تھا ۔اگر حقائق کے منافی ہوا تو میں ایوان میں آکر معذرت کر لوں گا اور اگر یہ غلط ثابت ہوں اور معذرت نہ کر سکیں تو کم ازکم دل ہی دل میں شرمندگی محسوس کریں۔ جب تو کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ وزیرداخلہ کے اس بیان کے بعد چیئرمین سینٹ نماز مغرب کے لئے وقفے کا اعلان کرنے لگے تو اپوزیشن لیڈر چودھری اعتزاز احسن نے وزیرداخلہ کے بعض ریمارکس پر اعتراض کیا اورواک آئوٹ کا اعلان کیا جس پر اپوزیشن اراکین ایوان سے باہر چلے گئے ۔ چیئرمین سینٹ نے قائد ایوان کو ہدایت کی کہ وہ انہیں منا کر لے آئیں۔

Facebook Comments
Share Button