GB News

سکردومیں پھرمظاہرے

Share Button

سکردو(چیف رپورٹر) بجلی کے طویل ترین بریک ڈاؤن کے خلاف سکردو میں جگہ جگہ پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے تاجروں اور شہریوں نے مختلف مقامات پر ٹائرجلا کر سڑکیں بلاک کر دیں جس کے باعث علمدار چوک، حسینی چوک ، یادگار چوک ، بے نظیر چوک کے علاقے میں ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا مختلف مقامات پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی یادگار چوک پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انجمن تاجران کے عہدیداروں غلام حسین اطہر ،عباس سبزواری ، پی پی کے رہنما عبداللہ حیدری ،نجف علی اور دیگر مقررین نے کہا کہ سکردو شہر ان دنوں بجلی کے سنگین بحران سے دوچار ہے مگر وزیر پانی وبجلی جھوٹ کی سیاست کر رہے ہیں واپڈا کو ایک ارب سے زائد رقم فراہم کرنے کے بجائے صوبائی وزیر پانی وبجلی دعویٰ کر رہے ہیں کہ واپڈاکو 2018تک کے بقایا جات ادا کردیئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ واپڈا کے تمام پاور ہاوسز بیٹھ گئے ہیں حکومت تماشائی بن گئی ہے انہوں نے کہاکہ بجلی کی طویل ترین بندش کے باعث معمولات زندگی رہم برہم ہوگئے ہیں اور تاجروں کو بڑے مسائل درپیش ہیں انہوں نے کہاکہ جب بجلی بحال نہیں کر سکتی ہے تو حکومت صا ف صاف بتا دے ہم اپنا بندوبست خود کریں گے انہوں نے کہاکہ سکردو شہر کے مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں کسی کو ہمارے مسائل کا کوئی خیال نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ہم پر امن لوگ ہیں ہمیں امن پسندہونے کی سزا دی جارہی ہے ہم پچھلے کئی عرصے سے احتجاج نہیں کر رہے تھے مگر تنگ آکر سڑکوں پر آنا پڑا انہوں نے کہاکہ بجلی بحران پر قابو پانے میں حکومت ناکام ہو گئی واپڈا اور محکمہ برقیات کی جنگ نے عوام کو ذہنی مریض بنادیا گورنر معاملے کا نوٹس لیں اور حکومت کو بحران ختم کرانے کا حکم دیں انہوں نے کہاکہ سکردو میں تجارت تباہ ہو گئی ہے لیکن حکومت سیر سپاٹوں میں مصروف ہے عوام کے پیسے وزرا اپنی عیاشیوں پر خرچ کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ سکردو میں بحران روز بروز بڑھتا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ سکردو میں یکم جنوری سے بحران روز بروز بڑھ رہا ہے واپڈا کے تمام بجلی گھر خراب ہو گئے ہیں۔

Facebook Comments
Share Button