تازہ ترین

Marquee xml rss feed

مشیرِوزیراعظم کا اختیارات سے تجاوز؛ اہل خانہ کا رعایتی ٹکٹوں پرمختلف ممالک کا مفت سفر-ہیواوے نے نیا چار کیمروں والا انتہائی سستا اسمارٹ فون متعارف کرا دیا-دوسری شادی کرنیوالے شوہر کو6ماہ قید و ایک لاکھ جرمانے کی سزا-گوجرخان، وارڈ نمبر 14صندل روڈ پر قتل کی واردات ، 36سالہ شخص کی لاش گھر سے بر آمد-گوجرخان، ہونہار طالب علم حسیب بٹ کا اعزاز-گوجرخان، گورنمنٹ امجد عنایت جنجوعہ شہید ہائی سکول بھاٹہ کا اعزاز-گورنمنٹ بوائز ہا ئی سکول زرعی فارم راولپنڈی کے ہونہار طالب علم حیان علی خان کی مقابلہ حسن قرائت میں راولپنڈی ڈویژن میں پہلی پوزیشن-مرکزی قبرستان کی سڑک کی تعمیر کیلئے فنڈزفراہم کرنے پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبر حافظ احمد رضا قادری ایڈووکیٹ کا شکریہ-ْلاہور کے احتجاجی جلسے میں عمران خان او رشیخ رشید نے جو پارلیمنٹ کیخلاف بازاری اور گھٹیا زبان استعمال کی،شدید مذمت کرتے ہیں،پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے وا لے اسی پارلیمنٹ ... مزید-سپریم کورٹ کے حکم پر میونسپل کارپوریشن مری نے آپریشن کیلئے تیاریوں کو حتمی شکل دے دی

GB News

سکردوروڈکی تعمیر میں تاخیرکیوں؟

Share Button

تحریک انصاف کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات تقی اخونذادہ نے کہا ہے کہ مارچ گزررہا ہے سکردوگلگت روڈپرکام کب شروع ہوگا۔اب لگتا ہے کہ حکمران عوام کوبیوقوف بنارہے ہیں۔تقی اخونذادہ کا کہناتھا کہ سکردوگلگت روڈاورپانچ آر سی سی پلوں کی تعمیربلتستان کے عوام کے لئے شہہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ سکردوشاہراہ کی خستہ حالی کے باعث عوامی اورسیاحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افرادکی معیشت کمزورہورہی ہے،بیانات دیئے جارہے ہیں لیکن عملی طورپربھی اقدامات نظرنہیں آرہے۔یہ حقیقت ہے کہ گلگت سکردوروڈبلتستان بلکہ پورے خطے کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے یہ روڈنہ صرف عوام کے لئے بلکہ سیاحتی اور سٹریٹجک اعتبارسے مسلمہ حیثیت اوراہمیت رکھتا ہے اس سے پہلے حکومت کی جانب سے دعویٰ کیاجاتارہا ہے کہ سکردوگلگت روڈپرمارچ میں کام شروع ہوگا۔وزیراعلیٰ اور سپیکر قانون سازاسمبلی کی جانب سے بھی کئی مرتبہ واضح کیاجاچکا ہے کہ مارچ میں ہرصورت میں کام شروع ہوگا لیکن تحریک انصاف کے رہنما کایہ کہنا درست ہے کہ مارچ گزررہا ہے کہیں سے بھی عملی اقدامات کاکوئی بھی اشارہ نہیں مل رہا۔اس وجہ سے عوام میںتشویش پائی جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمہ اہمیت کی حامل شاہراہ کوسیاست اورذاتی مفادات سے بالاترہوکر دیکھناہوگا کیونکہ گزشتہ دورحکومت میں سکردوروڈکے معاملے پرسیاست زیادہ ہوئی اور پائپ لائن میں آنے والامنصوبہ دوبارہ سے نکل گیا پھرکوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔موجودہ دورمیں وزیراعظم کے دوٹوک اعلان اورپھرٹینڈر کاعمل مکمل ہونے کے بعدعوام میں روڈکی تعمیر کی امیدروشن ہوگئی اور لوگ مطمئن ہوگئے کہ روڈکاکام شروع ہوگا اورعوام کادیرینہ مطالبہ پوراہوگا۔یوں شہریوں کو بہت بڑے عذاب اور ہروقت موت کی لٹکتی ہوئی تلوار سے نجات ملے گی۔سکردوروڈپرماہانہ کے تناسب سے کوئی نہ کوئی حادثہ رونماہوتا رہتا ہے۔ روڈکی حالت بھی انتہائی دگرگوں ہوچکی ہے۔خستہ حالی نے عوام نے بڑے عذاب میںمبتلا کرکے دکھ دیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنے وعدوں کی تکمیل میں سنجیدگی دکھائے کیونکہ عوام کے ساتھ ماضی میں بہت سے وعدوں نے دھوکادیا۔سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے اعلانات اورسابق صدرزرداری کے وعدوں کاحشربھی عوام دیکھ چکے ہیں۔حالیہ دورمیں وعدوں اورنعروں سے عوام کو بہلانے کاطریقہ کارگرنہیں رہا۔لوگ کام دیکھتے ہیں باتیں سنناپسندنہیں کرتے روڈکاٹینڈربھی مکمل ہوچکا اوردیگر معاملات بھی فائنل ہیںپھر بھی روڈکی تعمیر میںتاخیر سے کئی سوالات اورخدشات جنم لے سکتے ہیں۔روڈ کی تعمیر میں تاخیر سے سیاسی لوگ پوائنٹ سکورنگ کے لئے معاملے کواچھالیں گے اور پھر معاملہ بگڑبھی سکتا ہے۔سیاست سے بالاتر ہوکر شاہراہ کی تعمیر میں سنجیدگی دکھانے اور فوری کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔اگرکہیں ٹیکنیکل پہلورکاوٹ بنی ہوئی ہے یاکاغذی کارروائی لٹکی ہوئی تو ذمہ داروں کے ساتھ مل کرحل نکالنے کی ضرورت ہے۔ بلتستان میں عوام حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں اورمعاملے کابخوبی تجزیہ کررہے ہیں۔حکومتی نمائندوں کوبھی دیکھنے اورسمجھنے کی ضرورت ہے کہ منصوبے میں غیرضروری تاخیر خودان کی صحت کے لئے اچھی نہیں ہے کیونکہ بلتستان کے عوامی نمائندوں کوعوام نے اسی روڈ کی تعمیر کے وعدے پر ہی منتخب کیا ہے۔ نمائندوں پر اس اہم منصوبے کی تعمیر ایک قرض ہے اور اس قرض کو ہرحال میںچکاناہے۔ عوامی نمائندوں کوچاہیے کہ وہ انفرادی اوراجتماعی سطح پرروڈکی تعمیر ممکن بنانے کے لئے کرداراداکریں اور عوام کوبھی اعتماد میں لیں۔منصوبے پرکام شروع ہونے میں تاخیر کی وجوہات بیان کریں۔اس طرح عوام میں پائی جانے والی بے چینی اورمایوسی کی فضاختم ہوگی اور حکومت کے بارے میں بھی عوامی سطح پراچھاتاثرابھرے گا۔
خواتین کیلئے خودروزگار سکیم کا حوصلہ افزاء معاہدہ
گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور اے کے آر ایس پی کے مابین خواتین کیلئے خودروزگار سکیم کے منصوبے کے معاہدے پر دستخط کئے گئے جس کے تحت صوبائی حکومت 36ملین اور اے کے آر ایس پی 30ملین روپے فراہم کرے گی اس منصوبے کے تحت گلگت بلتستان کے خواتین کو خود روزگار بنانے کیلئے سیبکتھان، اون اور لکڑی کی کشادہ کاری کی خصوصی تربیت دی جائے گی۔معاہدے کی تقریب سے وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارنٹر شپ کے انتہائی مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں جس کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اس منصوبے کی پارنٹر شپ اے کے آر ایس پی کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس منصوبے کی کامیابی اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا نظام متعارف کرایا جائے گا جو پروجیکٹ کی کامیابی اور شفافیت کے حوالے سے اپنی رپورٹ دے گا۔ مختلف سیکٹرز میں کام کرنے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارنٹر شپ کو ترجیح دی جارہی ہے صوبے میں بیروزگاری پر قابو پانے کیلئے انٹر پنیور شپ کو فروغ دیا جارہاہے۔ گلگت بلتستان میں زرعی اور ڈیری کے شعبے کو فروغ دے کر قوم کو خودانحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ اے کے آر ایس پی کے تعاون سے مائیکرو ہائیڈرل پاور پروجیکٹس کے تحت دور دراز علاقوں میں بجلی کے منصوبے لگائے جائیں گے جس سے 30میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی۔ گلگت بلتستان کو مثالی صوبہ بنائیں گے جس کیلئے بھرپور اقدامات کررہے ہیں۔خواتین کو باروزگار بنانے کا معاہدہ انتہائی اہم اور حوصلہ افزاء ہے ،معاہدے کی روح کے مطابق عمل ہونے کی صورت میں خواتین کو باروزگار بنانے کا بہترین موقع ہاتھ آئے گا،کسی بھی معاشرے میں خواتین کے کردار سے انکار ممکن نہیں ہمارے ہاں خواتین میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں،ہنزہ کی مثال ہمارے سامنے ہیں ،ہینڈی کرافٹ اور لکڑی کی مصنوعات کے حوالے سے وہاں کی خواتین نے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بیرونی ممالک میں بھی اپنی نمایاں پہچان بنائی ہے ،سکردواور دوسرے علاقوں میں بھی کئی ایسی خواتین کی مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں جن کی شبانہ روز محنت اور گھریلوصنعت کے زریعے باعزت طریقے سے اپنے خاندان کی کفالت بخوابی کررہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کی خواتین کو بھرپور موقع فراہم کیاجائے۔معاہدے کے حوالے سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا نظام بھی حوصلہ افزاء ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا،منصوبے کی شفافیت یقینی ہوگی،ضروری ہے کہ تھرڈ پارٹی بھی غیر جانبدار ہو تمام سٹیک ہولڈرز کا اعتماد حاصل ہو،منصوبے پر شفاف اور دلچسپی کے ساتھ عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ گلگت بلتستان کی تعمیر وترقی میں خواتین کو اپنے کردار ادا کرنے کا موقع حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ بیروزگاری کی شرح میں نمایاں کمی ہوسکے۔

Facebook Comments
Share Button