GB News

کہ بلتستان کے ارکین اسمبلی ایک دوسرے کو تسلیم ہی نہیں کرتے،صوبائی وزیر قاونون ڈاکٹر محمد اقبال کاانکشاف

سکردو (محمد اسحاق جلال) صوبائی وزیر قاونون ڈاکٹر محمد اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ بلتستان کے ارکین اسمبلی ایک دوسرے کو تسلیم ہی نہیں کرتے ہیں جس کے باعث مسائل جنم لے رہے ہیںجب ممبران اسمبلی آپس میں لڑتے اور جھگڑتے رہیں گے تو کبھی حقوق نہیں ملیں گے گلگت شہر میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن بلتستان میں ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنے کی عادت بہت بری ہے جب گلگت میں مجھے وزیر اعلیٰ سے کوئی شکایت ہو تی ہے تو میں ان کے پاس جا تا ہوں اور ان کے سامنے شکایت کرتا ہوں کبھی میں نے اخبار کے ذریعے کسی سے کوئی شکایت نہیں کی لیکن بلتستان کے ارکین اسمبلی ایسا نہیں کرتے ہیں اور اخبارات میں ایک دوسرے کے اوپر الزامات عائد کرتے ہیں جس سے جہاں علاقے کے مفادات داؤ پر لگ جاتے ہیں وہیں پارٹی کی ساکھ بھی متاثر ہو تی ہے کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بلتستان کے ارکین اسمبلی کو یہی مشورہ ہے کہ وہ آپس میں نہ لڑیں بلکہ اتحاد واتفاق پیدا کریں جب تک وہ رنجشیں ختم نہیں کریں گے تب تک ان کے باہمی مسائل حل نہیں ہوں گے جب ہم آپس میں لڑتے رہیں گے تو حقوق کبھی نہیں ملیں گے انہوں نے کہا کہ حاجی ناشاد اور ابراہیم ثنائی کے مابین کس بات پر جھگڑا ہو گیا مجھے کچھ نہیں پتہ دونوں رہنماؤں کو اپنی بات پارٹی کے فورم پر آکر کرنی چاہئے تھی مگر دونوں نے اخبارات کے ذریعے ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے ہیں جس پر مجھے ذاتی طورپر بہت دکھ پہنچا انہوں نے کہا کہ سکردو روڈ کی تعمیر کے لئے ہم سب سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں کیونکہ یہ پورے گلگت بلتستان کا مسئلہ ہے ہم اس روڈ کے منصوبے کو پورے گلگت بلتستان کا اجتماعی منصوبہ سمجھتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم بھی سکردو روڈ پر سفر کرتے رہتے ہیں بہت افسوس ہوتا ہے کیونکہ روڈ بالکل ختم ہو گیا ہے لوگ بڑی مشکلات اور تکالیف سے دوچار ہیں ہماری خواہش ہے کہ بلتستان کے لوگوں کو درپیش مشکلات دور کی جائیں روڈ کی تعمیر کیلئے ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان کو فوری طور پر آئین کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے اور ہمیں بھی وہی حقوق دیئے جائیں جو ملک کے دوسرے حصوں کے عوام کو حاصل ہیں ہمیں اطلاع دی گئی ہے کہ آئینی کمیٹی کے سربراہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اپنی سفارشات وزیر اعظم کو بھجوادی ہیں لیکن حقیقت بات یہ ہے کہ ہمیں یہ نہیں پتہ کہ سفارشات کے اندر کیا کچھ ہے البتہ امید ہے کہ ممکنہ سیٹ اپ موجودہ سیٹ اپ سے ایک قدم آگے بڑھے گا عوام کے مسائل حل ہوں گے سینٹ اور قومی اسمبلی میں بھی نمائندگی ملنے کی امید ہے انہوں نے کہاکہ کہیں کوئی کرپشن ہو رہی ہے اور نہ ہی محکمہ تعمیرات عامہ میں ٹھیکے بک رہے ہیں اگر ٹھیکے فروخت کرنے کے ثبوت کسی کے پاس ہیں تو وہ سامنے لائے میں صحافیوں کے سامنے اپنی وزارت سے مستعفی ہو جاؤں گا انہوں نے کہاکہ مخالفین ہماری کارکردگی دیکھ کر بوکھلاگئے ہیں بعض لوگ کرپشن اور اقرباپروری کار استہ روکنے پر پریشان ہیں ان کی پریشانی آئندہ آنے والے وقتوں میں مزید بڑھ جائے گی ۔

Share Button