تازہ ترین

Marquee xml rss feed

قومی احتساب بیورو میں افسران کی خلاف ضابطہ تقرریوں کا معاملہ، نیب لاہور کے چار سینئر افسران نے استعفیٰ دیدیا-سابق ادوار میں کیشنگی کے نام پر کروڑوں کی کرپشن کی گئی،میر غلام دستگیر بادینی عوام کو مصنوعی طورپر پسماندہ رکھنے والوں کے مکروہ چہرے آشکارہوچکے ہیں،رکن بلوچستان اسمبلی-آئندہ الیکشن میں پیپلزپارٹی بھرپور کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائے گی،ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ-پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر عاجز دھامرہ کا شیخوپورہ کے قریب ریلوے حادثے پر اظہار افسوس-ماہ رجب کی رویت کا شرعی فیصلہ کرنے کے لیے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا، مفتی منیب الرحمن-مسلم لیگ(ن)آئندہ الیکشن میں مخالف جماعتوں کاصفایاکردے گی،شہبازشریف پیپلزپارٹی پہلے کراچی کاکچراصاف کرے پھرپنجاب کی بات کرے،میٹروکوجنگلابس کہنے والوں نے فوائددیکھے ... مزید-کراچی ،ناظم آباد میں بس پر فائرنگ پولیس اہلکار نے کی ، معمہ حل پولیس اہلکار واقعے کے بعد جائے حادثہ سے غائب ، شک پڑنے پر حراست میں لے لیا گیا ، مقدمہ درج کر کے تفتیش کا ... مزید-اوور لوڈنگ یا چھتوں پر مسافروں کو سوار کرنے والی بسوں، وینز یا کوچز کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے،آئی جی سندھ-امتحانات کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کی جائے،جام مہتاب حسین ڈھر-طلبا ملکی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں،بلاول بھٹو

GB News

سیاحت کاسیزن آنے کوہے۔۔۔تیاری کہاں ہے؟

edi

عوامی حلقوںکی جانب سے شکایات سامنے آرہی ہیں کہ سیاحتی مقامات کی تشہیرسیاحوںکی سیکورٹی اورخراب انفراسٹرکچرکوٹھیک کرنے کیلئے حکومتی سطح پراقدامات اورپالیسی کافقدان ہے،گلگت بلتستان میں سیاحت کاسیزن شروع ہوچکا ہے گزشتہ چندبرسوںسے امن وامان کے قیام اورحکومتی سطح پربعض اقدامات کی وجہ سے ملکی اورغیرملکی سطح پرسیاحوں کااعتماد بحال ہوا جس کااعتراف گزشتہ مہینے ایک برطانوی جریدے نے بھی کیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران گلگت بلتستان میں7لاکھ سیاح آئے جن میں اکثریت ملکی سیاحوںکی تھی،گلگت بلتستان کی60فیصدآبادی کاذریعہ معاش سیاحت سے وابستہ ہے،اب بھی کئی معاملات حل طلب ہیں مثلاً گلگت بلتستان کے اہم سیاحتی مقامات کوملکی اورعالمی سطح پراجاگرکرنے کیلئے کوئی قابل ذکراقدامات سامنے نہیں آئے،حکومتی اورمحکمانہ سطح پر سنجیدگی کا فقدان نظرآتا ہے جس کی واضح مثال اس وقت سامنے آئی جب برلن میں دنیاکاسب سے بڑاسیاحتی میلہ ہورہا تھااوراس میلے میں گلگت بلتستان کی نمائندگی برائے نام تھی برلن میلے میں حکومت سے زیادہ ٹورآپریٹرزنے کارکردگی دکھائی،یہ میلہ ہرسال ہوتا ہے اورسیاحت کوپرموٹ کرنے کیلئے اہم ترین پلیٹ فارم تصورکیاجاتا ہے ہوناتویہ چاہیے تھا کہ اس قسم کے پلیٹ فارم کوبھرپوراورمؤثرطریقے سے استعمال میںلانے کیلئے جامع منصوبہ بندی کے ذریعے گلگت بلتستان کی متاثرکن تشہیرکی جاتی،گلگت بلتستان کے اہم مقامات کی ڈاکومنٹری فلم بنائی جاتی،سال میں اہم مقامات کی تشہیرکے ساتھ ساتھ علاقے کی ثقافت اورسیاحت کے حوالے سے بریفنگ کااہتمام بھی کیاجاتااورگلگت بلتستان کی اصل شناخت غیرملکیوں کودکھائی جاتی تویقینا خطے کے بارے میں عالمی سطح پرایک بہترین تشخص ابھرتا اورغیرملکی سیاحوں کی دلچسپی بھی بڑھ جاتی،بدقسمی سے برلن میلے میں گلگت بلتستان کی برائے نام نمائندگی ہوئی اورحاضری لگاکرواپسی ہوئی ،ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے عالمی سطح کے میلوں میںشرکت کیلئے پہلے سے ہی منصوبہ بندی مکمل کی جانی چاہیے،محکمہ سیاحت آخرکس چیزکانام ہے،محکمہ سیاحت کے ذمہ داروں کی ڈیوٹی لگائی جانی چاہیے کہ وہ سیاحت کے فروغ کیلئے منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی کرے،ماہانہ ،سہ ماہی اورشش ماہی بنیادوںپران کی کارکردگی چیک ہونے کے ساتھ ساتھ بازپرس بھی ہونی چاہیے،سیاحت کے شعبے سے وابستہ ملکی سطح کے ماہرین کاخیال ہے کہ گلگت بلتستان سیاحت کے لحاظ سے عالمی سطح پرمثالی خطہ بن سکتا ہے بشرطیکہ حکومت باتوںاوردعوؤںسے زیادہ عملی اقدامات کرکے دکھائے اورجامع فیصلہ کن منصوبہ بندی کرے،پوری دنیامیںسوئٹرزلینڈسیاحت کے اعتبارسے بہترین ملک تصورکیاجاتا ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق سالانہ6کروڑسے زائدغیرملکی سیاح آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سوئٹرزلینڈفی کس آمدنی کے لحاظ سے دنیاکاامیرترین ملک ہے،سوئٹرزلینڈکی آمدنی کا80فیصدحصہ سیاحت کے شعبے سے حاصل ہوتا ہے ماہرین کاکہنا ہے کہ گلگت بلتستان پرتوجہ دی جائے تو لوگ سوئٹرزلینڈکوبھول جائیں گے کیونکہ مخصوص جغرافیائی حیثیت کا حامل ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کو کسی بھی عالمی سیاحتی مقامات پرفوقت حاصل ہے مثلاً سوئٹرزلینڈمیںتمام مقامات کومصنوعی طریقے سے سجایاگیا ہے اورسیاحوںکوسہولیات کی ہرممکن فراہمی یقینی بنائی گئی ہے گلگت بلتستان کودیکھاجائے تواس خطے کوایسی خصوصیات حاصل ہیں جوسوئٹرزلینڈکوحاصل نہیںمثلاً گلگت بلتستان دنیاکے اہم ترین پہاڑی سلسلوں کاسنگم ہے۔یہاں دنیاکی آٹھ بلندترین چوٹیاںواقع ہیں،سوئٹرزلینڈمیںکوئی بھی قابل ذکرچوٹی موجود نہیں،گلگت بلتستان میں خشکی پرموجود دنیاکابڑاگلیشئریعنی سیاچن گلیشئرموجودہے یہ امتیازی حیثیت دنیاکے کسی بھی حصے یاخطے کوحاصل نہیں ہے اس خطے میں سطح سمندرسے بلندترین میدان یعنی دیوسائی واقع ہے یہ خصوصیت گلگت بلتستان کودنیاسے ممتازبناتی ہے دوسری جانب اگرہم نیپال کودیکھیںتوان کے پاس صرف ایک ماؤنٹ ایورسٹ ہے اگرنیپال سے ماؤنٹ ایورسٹ کونکال دیاجائے توکہاجاتا ہے کہ یہ ملک دیوالیہ ہوجائے گا اعدادوشمار کے مطابق نیپال کے جی ڈی پی میںصرف ماؤنٹ ایورسٹ کاحصہ40فیصدہے ہمارے یہاں بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری معیشت میںسیاحت کاحصہ ایک فیصدبھی نہیں وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان تمام نعمتوںسے فائدے اٹھانے کی کوشش نہیں کی ضرورت اس امرکی ہے کہ صوبائی حکومت کوسیاحت کے شعبے کی ترقی کیلئے وفاق سے خصوصی گرانٹ کامطالبہ کرناچاہیے کیونکہ سیاحت کا پوٹینشل بہت زیادہ ہے لیکن وسائل کی بہت زیادہ کمی ہے وفاق میں چونکہ مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اس لیے صوبائی حکومت کووفاق کوراضی کرنے کیلئے مسئلہ درپیش نہیں آئے گا،ہوٹل انڈسٹری کوفروغ دینے کیلئے خصوصی قرضوںکااجرا ہوناچاہیے اس عزم کااظہار وزیراعلیٰ کی جانب سے پہلے کیاجاچکا ہے کہ ہوٹل انڈسٹری کوفروغ دینے کیلئے آسان شرائط پرقرضے دیئے جائیں گے لیکن ان کے اس وعدے اوردعوے پرعمل ہوتا ہوادکھائی نہیں دے رہا،وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت قرضوں کی واپسی نہیں ہورہی تھی،غورطلب بات یہ ہے کہ قرضوں کی واپسی کامیکنیزم حکومت نے طے کرناہے اورعمل بھی،وزیراعظم لون سکیم تک عام افرادکی رسائی ممکن اورآسان بنائی جائے توگلگت بلتستان میںہوٹل انڈسٹری کوفروغ مل سکتا ہے کیونکہ لمبے عرصے تک آسان شرائط پرقرضے ملنے سے لوگوں کواپنے کاروبار کوپھیلانے اورسنبھالنے کاموقع ملے گا صوبائی حکومت کواس پرسنجیدگی سے غورکرنے کی ضرورت ہے ہم سمجھتے ہیں کہ سیاحت گلگت بلتستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس شعبے پرتوجہ دی جائے توخطے کے70فیصدعوام کوروزگارمل جائے گا ،خطہ ترقی کرے گااوربیروزگاری کی شرح میںنمایاں کمی ہوگی۔

Share Button