GB News

ترکی، ریفرنڈم میں عوام نے صدارتی نظام کے حق میں فیصلہ دے دیا

Share Button

انقرہ (آئی این پی)ترکی میں ملکی تاریخ میں ساتویں مرتبہ آئینی ترمیمکیلئے ہونے والے تاریخی ریفرینڈم میں عوا م نے صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دیدیاجس کیبعد صدر رجب طیب اردوگان کو ملک میں حکومت کرنے کی مکمل طاقت مل گئی اور اب وہ 2029 تک اپنے عہدے پر قائم رہیں گے،ترک صدر نے وزیراعظم اورنیشنلسٹ اپوزیشن لیڈرکوفون کرکے نتائج پر مبارکباد دی جبکہ اپوزیشن پارٹی نے 60 فیصد سے زائد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کامطالبہ کردیا،ادھر ترک صدر کی فتح پر حامیوں نے جشن منایا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکی میں ملکی تاریخ میں ساتویں دفعہ آئینی ترمیم کیلئے ریفرینڈم کا انعقاد کیا گیا جس میں 51.4 فی صد ووٹ صدارتی نظام کے حق میں،48.6 فی صد مخالفت میں ڈالے گئے۔ ریفرینڈم کی منظوری کے بعد ترک صدر 2029 تک اپنے عہدے پر قائم رہیں گے۔ترک صدر نے وزیراعظم اورنیشنلسٹ اپوزیشن لیڈرکوفون کرکے نتائج پر مبارکباد دی جبکہ اپوزیشن پارٹی نے 60 فیصد سے زائد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کامطالبہ کردیا۔ترک صدر کی فتح پر حامیوں نے بھرپور جشن منایا۔طیب اردگان کا کہنا تھاکہ ترک ریفرنڈم میں عوام نے صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دے دیا ہے ۔ریفرینڈم کے نتائج صدر اردوگان کے حق میں آنے کے بعد انھیں کابینہ کے وزرا، ڈگری جاری کرنے، سینیئر ججوں کے چنا ئو اور پارلیمان کو برخاست کرنے کے وسیع اختیار حاصل ہو گئے ہیں۔ریفرینڈم کیلئے 81 اضلاع میں ایک لاکھ 67 ہزار 140 بیلٹ بک لگائے گئے تھے اور انتخابات میں 55 ملین 3 لاکھ 19 ہزار 222 رائے دہندگان نے اپنے ووٹوں کا استعمال کیا۔

Facebook Comments
Share Button