تازہ ترین

Marquee xml rss feed

احسان الل� احسان،معاوی� کاقریبی دوست جبک� رازا�شاں کرنےکی شرط پرواپس آیا احسان الل� احسان نے 6�روری کوچمن کے قریب پاک ا�غان سرحدپراپنی ا�لی� اور بیٹے سمیت خود کوسکیورٹی ... مزید-عالمی ولادت حضرت امام حسین کان�رنس (آج ) راولپنڈی میں �وگی-انٹرنیشنل اچیومنٹ ایوارڈ تقریب 10اگست کو ترکی میں �و گی پاکستانی تجارتی اداروں کو اعلی کارکردگی پر خصوصی ایوارڈ دیئے جائیں گے-راول ایکسپو میڈیا کان�رنس کل �و گی-ضلع راولپنڈی میںگندم کی خریداری کا عمل (آج )سے شروع کیا جائیگا گندم خریداری پالیسی کے تحت ضلع راولپنڈی میں خریداری کا �د� 300ٹن مقرر-گندم کو ذخیر� کرتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ،محکم� زراعت-برصغیر پاک و �ند میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں بزرگان دین اولیاء کاملین و مشائخ عظام کا کلیدی کردار �ے ،ْچو�دری طارق �اروق رومی کشمیر حضرت میاں محمد بخش ؒ ایک بڑے صو�ی ... مزید-عمران خان سے بیرسٹر سلطان محمود چو�دری کی ملاقات مسئل� کشمیر بین الاقوامی �ورم پر اٹھانے کی �دایت-آزاد کشمیر کے صدر سے کمانڈر نیول سٹرٹیجک �ورس کمانڈ وائس ایڈمرل شا� س�یل مسعود کی ملاقات ،ْ پیش� واران� امور پر تبادل� خیال گوادر سی پورٹ کے آپریشنل �ونے کے بعد سمندری ... مزید-چی� جسٹس بلوچستان �ائیکورٹ محمد نور مسکانزئی کا جسٹس نعیم اختر ا�غان کے �مرا� زیر تعمیر خاران جوڈیشل کمپلیکس کا دور�

GB News

نیا عالمی منظرنامہ اورپاکستان

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے خطے کے لئے ایک امتیازی جوہری پالیسی اختیار کی بش انتظامیہ کی جانب سے بھارت کے ساتھ سول جوہری معاہدے سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ گیا ہے۔یہ درست ہے کہ امریکہ خطے میں بے جا طور پر بھارت کو نوازنے کی پالیسی پہ گامزن ہے’سول جوہری معاہدہ اس کی اہم ترین مثال ہے حالانکہ پاکستان نے اس حوالے سے بارہا امریکہ کو کہا ہے کہ طاقت کا توازن پیدا کرنے کیلئے پاکستان کے ساتھ بھی یہ معاہدہ کیا جائے لیکن پاکستان کو صاف جواب دیا جاتا رہا’اب امریکہ اپنی سپر میسی کیلئے طاقت کے بے جا مظاہر سے کام لے رہا ہے شمالی کوریا کے ساتھ تنائو پیدا کرنے کے علاوہ اس نے افغانستان پہ بموں کی ماں کا حملہ کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیروشیما اور ناگاساکی میں انسانیت کی تباہی کے بعد بھی اس کے طرزعمل میں تبدیلی نہیں آئی۔ جنگی ہتھیار فوج کی دنیا کا ایک اہم ترین حصہ ہوتے ہیں اور یہ جتنے زیادہ جدید اور طاقتور ہوتے ہیں دشمن بھی اتنا ہی زیادہ دبائو شکار ہوجاتا ہے۔ لمحوں میں انسان وبستیاں صفحہ ہستی سے مٹا نے کی طاقت سے سرشارعصر حاضر کی سپر پاورامریکہ نے افغانستان میں نان نیو کلیئر بم مدر آف آل بم داغا۔دوروز قبل امریکہ نے دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف نیوکلیئر بم کے بعدسب سے بڑے بم جی بی یو ۔43کو افغانستان کی سرزمین پراستعمال کیا۔پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع ایچن کی پہاڑیوں پر گیارہ ٹن بارودی مواد سے داعش کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا،داغے گئے بم کو عرف عام میں مدر آف آل بمزکہتے ہے جب کہ فضائیہ میں اسے میسو آرڈیننس ایئر بلاسٹ بم کہا جاتا ہے۔ امریکا نے جی بی یو 43 بم کا عراق جنگ سے قبل2003 میں پہلی مرتبہ کامیاب تجربہ کیا تھا ،تجربے کے دوران 32 کلومیٹر دور تک آسمان پر گہرے بادل چھا گئے تھے ۔دوسری جانب افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن کا کہنا ہے کہ نان نیوکلیئر بم پہاڑیوں پر داعش کے ٹھکانوں پر گرایا گیا اور داعش کے خلاف جارحانہ اقدامات اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے یہ مناسب قدم ہے۔داعش کے مذکورہ ٹھکانے سے امریکی افواج اور مشیروں پر حملے کیے جاتے رہے ہیں،یہ بم امریکی فضائیہ کے سی 130 طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے گرایا گیا، ہدف کیلئے جی پی ایس کو استعمال کیا گیا،اس خطے میں کئی ہفتوں سے امریکی افواج موجود تھیں،گزشتہ ہفتے داعش سے لڑائی میں ایک امریکی فوجی بھی مارا گیا تھا،سی این این کے مطابق جس علاقے میں یہ بم گرایا جائے وہاں لگتا یہی ہے کہ کوئی ایٹم بم گرایا گیا ہے،یہ تین سومیٹر تک ہر چیز کو اڑانے کی صلاحیت کا حامل ہے ‘ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس بم حملے میں بارہ غیر ملکی بھی مارے گئے،ان کی شہریت سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں،امریکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل نکلسن نے اس بم حملے کی منظوری جنرل جوزف ووٹل سے لی تھی۔امریکی صدر ٹرمپ نے اس حملے پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک اور کامیاب مشن تھا،جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا یہ حملہ شمالی کوریا کیلئے پیغام ہے؟تو انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،شمالی کوریا مسئلہ ہے اور اس سے نبٹنا ہوگا۔ گزشتہ آٹھ ہفتے پچھلے آٹھ برسوں سے بہت مختلف ہیں، فوج کو بااختیار بنا دیا۔اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ آدھے افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہے جس سے امریکہ کا اپنی طویل ترین جنگ سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے،امریکہ کی فوج کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو پاکستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران فرار ہو کر داعش کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں،امریکی فوج نے جی پی ایس سسٹم سے گائیڈ کئے جانے والے اس بم کو بنانے کے لئے تین سو چودہ ملین ڈالر خرچ کئے لمبی دوری تک پرواز کرنے والے بوئنگ کمپنی کیاسٹراٹوفورٹس بی باون اور نورٹروپ گرامن کمپنی کے بمبار بی ٹو اس بم کے ذریعے اپنے ہدف کو نشانہ بناسکتے ہیں۔رپورٹوں سے پتہ چلتاہے کہ واشنگٹن نے مشرق وسطی کے ممالک کو مسلح کرنیکی کوششیں تیز کر دی ہیں اور دنیا کے اس اہم حصے میں اسلحے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔امریکہ نے ابھی حال ہی میں متحدہ عرب امارات کو براہ راست مشترکہ یلغار کے لئے 4900جنگی ساز و سامان اور دوسرے اسلحے بیچنے کی پیشکش کی ہے۔سابق امریکی صدر باراک اوباما کی حکومت نے اسی طرح حالیہ برسوں کے دوران سعودی عرب بحرین عمان قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیج فارس کے عرب ملکوں کے ساتھ دسیوں ارب ڈالر کے فوجی معاہدے کیے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ استبدادی اور ڈکٹیٹر حکومتوں کی حمایت اور انہیں فوجی ہتھیاروں کی فروخت علاقے میں جمہوریت کی حمایت میں امریکی دعووں سے تضاد رکھتی ہے۔آج پوری دنیا میں کوئی ملک ایسانہیں ہے جو امریکا کی وار ٹیکنالوجی کی برابری کا دعوی کرسکے۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہی امریکہ پوری دنیا کو اپنی کالونی بنا چکا ہے۔کون نہیں جانتا کہ جس ملک کی دفاعی پوزیشن مستحکم ہے، جس کے پاس دفاعی طاقت زیادہ ہے وہ اس دنیا کا اکیلا بادشاہ ہے جب کہ امت مسلمہ کی حالت زار یہ ہے کہ 58 اسلامی ملک اور ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی ہونے کے باوجود صرف ایک پاکستان ہی ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے۔ جو بین الاقوامی سطح پر ایٹمی ملک ڈکلیئر ہے۔گزشتہ ہفتے 7 اپریل 2017 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ملک شام پر حملہ کیاگیا۔یہ حملہ شام کے شہر حمص کے قریب شعیرات ہوائی اڈے پر کیا گیا اور شام کا یہ علاقہ کئی سال سے دہشت گرد داعش، القاعدہ اور جبہ النصرہ سمیت احرار الشام جیسی دہشت گرد تنظیموں کے قبضے میں ہے جبکہ شعیرات کا ہوائی اڈہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف استعمال ہو رہا تھا جب کہ گزشتہ روزامریکہ نے پاکستان سے ملحقہ سرحد کے قریب افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع ایچن کی پہاڑیوں پر نان نیوکلیئر بم داعش کے ٹھکانوں اور پہاڑیوں پر گرایا جس سے متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔مذکورہ دونوں کارروائیاں کسی صورت بھی معمولی نہیں سمجھی جاسکتیں ۔دونوں کارروائیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شام اور اب افغانستان پر امریکی حملہ ایک مکمل پلان کا حصہ ہے جس سے امریکہ نے درپردہ دوسرے ممالک پر اپنی فوجی برتری جتانے کا عندیہ دیا ہے۔یہ امر پیش نظر رہے کہ یہ حملہ ماسکو میں شروع ہونے والی کانفرنس سے ایک روز قبل کیا گیا۔ یہ کانفرنس افغانستان میں پائیدار قیام امن کیلئے گزشتہ روز سے شروع ہو چکی ہے۔ اس میں پاکستان، افغانستان، چین ، ایران، روس اور طالبان نمائندوں کے درمیان مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ کانفرنس میں شرکت کی امریکہ کو بھی دعوت دی گئی تھی مگر اس نے اسے قبول نہیں کی۔اسی دوران امریکی صدر ٹرمپ کے مشیر برائے سلامتی امور مسٹر ماسٹرز اسلام آباد، کابل اور پھر نئی دہلی کے دورے کا آغاز کر چکے ہیں۔ہمارے خیال میں بہتر ہے کہ جن جن طاقتوں اور ممالک کے مفادات افغانستان کے ساتھ وابستہ ہیں، وہ افغان حکومت اور افغان طالبان دونوں کو کسی قابل عمل سمجھوتے پر آمادہ کرنے کے لیے عملی مساعی بروئے کار لائیں۔ ایک ایسا سمجھوتہ جس میں افغان عوام کی تمام آبادیوں ، علاقوں اور نسلوں کے نمائندوں کو شریک کیا جائے اور اس کی کوکھ سے افغان قومی اتحاد کی مظہر حکومت وجود میں آئے ورنہ امریکہ سولہ برس سے وہاں دنیا کے ہر تباہ کن بم ، میزائل اور کیمیائی ایجنٹ کا استعمال کر چکا ہے۔اگر مسلمان متفق نہ ہوئے تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

Share Button