تازہ ترین

Marquee xml rss feed

احسان الل� احسان،معاوی� کاقریبی دوست جبک� رازا�شاں کرنےکی شرط پرواپس آیا احسان الل� احسان نے 6�روری کوچمن کے قریب پاک ا�غان سرحدپراپنی ا�لی� اور بیٹے سمیت خود کوسکیورٹی ... مزید-عالمی ولادت حضرت امام حسین کان�رنس (آج ) راولپنڈی میں �وگی-انٹرنیشنل اچیومنٹ ایوارڈ تقریب 10اگست کو ترکی میں �و گی پاکستانی تجارتی اداروں کو اعلی کارکردگی پر خصوصی ایوارڈ دیئے جائیں گے-راول ایکسپو میڈیا کان�رنس کل �و گی-ضلع راولپنڈی میںگندم کی خریداری کا عمل (آج )سے شروع کیا جائیگا گندم خریداری پالیسی کے تحت ضلع راولپنڈی میں خریداری کا �د� 300ٹن مقرر-گندم کو ذخیر� کرتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ،محکم� زراعت-برصغیر پاک و �ند میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں بزرگان دین اولیاء کاملین و مشائخ عظام کا کلیدی کردار �ے ،ْچو�دری طارق �اروق رومی کشمیر حضرت میاں محمد بخش ؒ ایک بڑے صو�ی ... مزید-عمران خان سے بیرسٹر سلطان محمود چو�دری کی ملاقات مسئل� کشمیر بین الاقوامی �ورم پر اٹھانے کی �دایت-آزاد کشمیر کے صدر سے کمانڈر نیول سٹرٹیجک �ورس کمانڈ وائس ایڈمرل شا� س�یل مسعود کی ملاقات ،ْ پیش� واران� امور پر تبادل� خیال گوادر سی پورٹ کے آپریشنل �ونے کے بعد سمندری ... مزید-چی� جسٹس بلوچستان �ائیکورٹ محمد نور مسکانزئی کا جسٹس نعیم اختر ا�غان کے �مرا� زیر تعمیر خاران جوڈیشل کمپلیکس کا دور�

GB News

پانامہ کیس کا فیصلہ اور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے مزید تحقیقات کیلئے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ایف آئی اے کے اعلی افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے کورٹ روم نمبر ایک میں پاناما لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا، جو اسی سال23فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔فیصلے میں تین ججز ایک طرف جبکہ دوججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد خان نے اختلافی نوٹ لکھا اور وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے اتفاق کیا۔سات دن کے اندر جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو دوماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر دوہفتے بعد سپریم کورٹ بنچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی میں ایف آئی اے، قومی احتساب بیورو ‘سٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، انٹرسروسز انٹیلی جنس اور ملٹری انٹیلی کا نمائندہ شامل کیا جائے۔عدالت نے وزیراعظم نواز شریف کے وکلا کی جانب سے سماعت کے دوران بطور ثبوت پیش کیے گئے قطری خطوط کو مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ اس بات کی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ رقم قطر کیسے منتقل ہوئی۔پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد مسلم لیگ نون کے رہنمائوں نے اسے اپنی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سرخرو ہوئے ہیں،جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون اور عدالتی فیصلے پر عمل کیا جائے گا۔آج ثابت ہوگیا کہ وزیراعظم صادق بھی ہیں اور امین بھی جبکہ نون لیگ کے سیاسی مخالفین کا کہنا کہ انہیں صرف ساٹھ روز کی مہلت ملی ہے۔یہ کیس آف شور کمپنیوں کی بنیاد پہ قائم کیا گیا تھا’کسی بھی دوسرے ملک میں آف شور بینک اکائونٹس اور دیگر مالیاتی لین دین کے نگران اداروں سے یا ٹیکس سے بچنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔کمپنیاں یا شخصیات اس کے لیے عموما شیل کمپنیوں کا استعمال کرتی ہیں جس کا مقصد اصل مالکان کے ناموں اور اس میں استعمال فنڈز کو چھپانا ہوتا ہے۔پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اس وقت ہلچل مچائی، جب گزشتہ سال اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے آف شورمالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔
پاناما انکشافات کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ صورت حال اختیار کرگئے تھے اور وزیراعظم کے بچوں کے نام پاناما لیکس میں سامنے آنے پر اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم سے استعفی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس سلسلے میں وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرنے کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں بھی خطاب کیا اور پاناما لیکس کے معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اعلی سطح کا تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کیلئے رضامند ہیں، تاہم اس کمیشن کے ضابطہ کار پر حکومت اور حزب اختلاف میں اتفاق نہیں ہوسکا۔بعدازاں پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں دی گئی تقریر کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں ان کے خلاف نااہلی کی پٹیشن دائر کردی، ان کا موقف تھا کہ نواز شریف نے ایوان میں متضاد بیانات دیے، چنانچہ اب وہ صادق اور امین نہیں رہے۔پی ٹی آئی کے علاوہ جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے بھی پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔ابتدا میں سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر اعتراضات لگاکر انہیں واپس کردیا، تاہم بعدازاں27ستمبر کو عدالت عظمی نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے دائر تمام درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرلیں۔پھر سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے خلاف دائر درخواستوں پر وزیراعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحق ڈار، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن رصفدر، بیٹوں حسن نواز، حسین نواز، ڈی جی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایف بی آراور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت دوہفتوں کے لیے ملتوی کردی تھی، بعد ازاں اس کی سماعت کے لیے یکم نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی۔پہلے پہل سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے پاناما لیکس کی درخواستوں پر سماعت کی، تاہم31دسمبر2016کو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس ثاقب نثار نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا اور پاناما کیس کی سماعت کے لیے نیا لارجر بینچ تشکیل دیا گیا۔رواں برس سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بننے والے پانچ رکنی نئے لارجر بینچ نے پاناما کیس کی درخواستوں کی سماعت کی، بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن شامل تھے۔جج جسٹس آصف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 23فروری کو محفوظ کیا تھا، جو کل سنایا گیا۔ اس فیصلے کو عوام کے سامنے لانے میں 57دن کا وقت لگا ہے۔
کورٹ کے فیصلے کے بعد یقینا وہ صورتحال ختم ہو جانی چاہیے جو گزشتہ کافی عرصے سے ماحول میں تنائو پیدا کرنے کا موجب بنی رہی ‘المیہ یہ ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں اور سیاستدان جو برملا اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کریں گے لیکن فیصلہ آنے کے بعد اب وہ تسلسل کے ساتھ تنقید میں مصروف ہیں اور فیصلے کو درست ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں’یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جس طرح ہم نے دیگر اداروں کو تباہی کے کنارے پہ پہنچا دیا ہے اسی طرح وہ عدلیہ کو بھی متنازع بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور انہیں اس بات کی ذرا برابر پروا نہیں ہے کہ اداروں کی تباہی کا نتیجہ پوری قوم بھگت رہی ہے مگر وہ اپنی ہی ڈگر پہ رواں دواں ہیں’وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے پاناما فیصلے پر وزیراعظم نوازشریف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے مخالفین کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب کہ ترقی و خوشحالی کے مخالفین، دھرنوں اور گھیرائو کی طرح مخالفین کی ایک اورسازش ناکام ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی قیادت میں حکومت عوام سے کیے تمام وعدے پورے کرے گی اور 2018میں بھی عوام کی حمایت سے جیت کر ترقی کا ایجنڈا مکمل کریں گے۔اب جبکہ فیصلہ آ گیا ہے امید ہے کہ بے جا قیاس آرائیوں اورچہ مگوئیوں کا سلسلہ ختم ہو جانا چاہیے لیکن حالات اور واقعات بتاتے ہیں یہ معاملہ زیر بحث رہے گا ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک ایسے وقت میں جب الیکشن قریب ہیں ملک میں بدامنی و بے چینی پیدا کرنے کی بجائے اپنی توجہ انتخابات کی تیاریوں کی جانب مبذول کر لینی چاہیے گزشتہ چار سال کے دوران جو کیفیت پیدا ہوتی رہی اس کے تناظر میں یہ احساس شدت سے بیدار ہوتا ہے کہ ملک و قوم کی بہتری و ترقی کا دعوی کرنے والوں کو ملک و قوم کی ذرا برابر بھی فکر نہیں ہوتی سب اپنے ذاتی وجماعتی فوائد کے اسیر ہیں حالانکہ انہیں اجتماعی طور ملکی مفاد کے ضمن میں اپنے مخالفین کی حمایت کرنے پر غور کرنا چاہیے’پوری دنیا میں پاکستان شاید واحد ملک ہے جس کے رہنما ہی اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں لگے ہیں حالانکہ ان کے دعوے اور وعدے قطعی برعکس ہوتے ہیں۔

Share Button