تازہ ترین

Marquee xml rss feed

شہبازشریف بغیر پروٹوکول ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چنیوٹ پہنچے آپ کے دوروں سے ڈاکٹروں اورعملے کے روئیے میں مثبت تبدیلی آئی ہے مریضوں اوران کے لواحقین کی وزیراعلیٰ ... مزید-صوبائی حکومت نے اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کی جس سے اداروں کی کارکردگی میں نکھار آیا ،پرویزخٹک ادارے اب ڈیلیور کرنے لگے ہیںاور خواص کی تابع فرمانی کی بجائے عوام کی ... مزید-پاکستان گھومنے گئی تھی ،جب برا وقت آتا ہے تو دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے‘ عظمیٰ احمد ایسا کچھ تھا نہیں کہ ہم اتنی جلدی شاد ی کر لیں گے ، بس یہی خیال تھا پاکستان دیکھنا ہے ... مزید-وزیراعظم نواز شریف تلاوت قرآن پاک شروع ہوتے ہی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے ایوان میں پہنچ گئے-وفاقی بجٹ صرف الفاظ کا ہیر پھیر ہے جس سے عوام کو دھوکہ دیا گیا ہے‘اعجاز چوہدری نواز حکومت نے عوام دشمن بجٹ پیش کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہیں غریب اور عام آدمی کی کوئی ... مزید-وزیراعلیٰ پنجاب کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چنیوٹ کابغیر پیشگی اطلاع اور بغیر پروٹوکول اچانک دورہ، انتظامیہ لاعلم رہی ایمرجنسی اوردیگر وارڈکا معائنہ،مریضوں کی عیادت ... مزید-دیپیکا پڈوکون فلم ’’بدلاپور2 ‘‘ میں مرکزی کردار ادا کریں گی-ایشوریہ رائے بچن فلمساز مانی رتنم کی نئی فلم میں کام کریں گی-کراچی:کراچی ملک کا معاشی حب اور ترقی کا پیمانہ ہے ، شہر کی ترقی پورے ملک کی خوشحالی کی ضمانت ہے،محمد زبیر مجموعی قومی آمدنی میں سب سے زیادہ حصہ دینے والے کراچی کو عالمی ... مزید-کراچی:وفاقی حکومت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں مزید اضافہ کررہی ہے،محمد زبیر جس سے تعلیم کے فروغ اور تحقیق کے کاموں میں مزید اضافہ ہوگا ، وفاقی حکومت اعلیٰ تعلیم کے ... مزید

GB News

انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک میں جبری طور پر لاپتہ کئے گئے افراد کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ادارے کے مطابق 2016 میں مزید 728 افراد لاپتہ ہوئے اوریہ تعداد چھ سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔پاکستان میں حقوق انسانی کے کمیشن کاکہنا ہے کہ ملک میں لبرل نظریات رکھنے والے افراد کو ہدف بنایا جارہا ہے اور آہستہ آہستہ وہ پلیٹ فارمزمحدود ہوتے جارہے ہیں جہاں کھل کر اظہارِ رائے کیا جاسکتا تھا۔گزشتہ برس انسانی حقوق کے تین کارکنوں، چھ صحافیوں اور ایک بلاگر کے قتل اور بعض خبروں کی گردش نے ذرائع ابلاغ کے لیے خوف کی فضا میں اضافہ کیا اور اس سے ذرائع ابلاغ کی خودساختہ سنسر شپ کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا۔اقلیتوں کیخلاف حملوں میں اہم شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کو خصوصی طورپرنشانہ بنایا گیا۔2015کے مقابلے 2016میں دہشت گردی کے واقعات میں پنتالیس فیصد کمی واقع ہوئی تاہم 211 حملوں میںاڑتالیس فیصد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایاگیا۔ سندھ اور بلوچستان میں ہوئے زیادہ تر واقعات کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کی۔گزشتہ برس 487افراد کو موت کی سزاسنائی گئی جبکہ ستاسی کو پھانسی دی گئی۔توہینِ مذہب کے الزام میں پندرہ افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے جس میں دو مسلمانوں اور دو مسیحوں کو توہینِ مذہب کے جرم میں موت کی سزاسنائی گئی۔مشال قتل کیس سمیت توہینِ مذہب کے الزامات کے بعد ہجوم کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے واقعات پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیاکہ مذہب کا غلط استعمال مذہب کی خدمت نہیں ہے۔اس سلسلے میں وفاقی پارلیمان نے 2016میں اکیاون قوانین بنائے اوریہ تعداد گذشتہ برس کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔ 2015میں یہ تعداد بیس تھی۔مزید براں صوبوں نے اکیاسی معاملات پر قانون سازی کی جو گذشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں طورپر کم تھی۔ 2015میں ایک سو بیس قوانین بنائے گئے تھے۔انصاف کی صورتحال یہ ہے کہ ملکی عدالتوں میں تیس لاکھ کیسز اب بھی زیرِ التوا ہیں البتہ ججوں اور وکلا کیخلاف تشدد کے واقعات کے باعث شعبہ قانون سے وابستہ افراد میں عدم تحفظ بڑھ گیاہے۔رپورٹ میں بیان کردہ حقائق واقعتا تشویشناک ہیں جن پہ توجہ دیے جانا بہت ضروری ہے ہم دراصل صورتحال کو تو بیان کر دیتے ہیں یا کوئی ان پہ توجہ مبذول کراتا ہے لیکن اس کے حل کے لیے ہم اقدامات کرنے کی حکمت عملی کا تعین نہیں کرتے جس کے نتیجے میں مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھتے چلے جاتے ہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے جو امور بیان کیے گئے ہیں ان کے حل کو یقینی بنانے کے لیے پیشرفت کی جائے۔

Share Button