تازہ ترین

Marquee xml rss feed

سیاسی محاذ پر پاکستان تحریک انصاف کو بہت بڑی کامیابی مل گئی پاکستان تحریک انصاف کے نواب صلاح الدین عباسی کے ساتھ معاملات طے پا گئے،بہاولپور نیشل پارٹی کا تحریک انصاف ... مزید-میری نااہلی کو ختم کرنا ہے تو دھڑا دھڑ ووٹ دینے ہیں،نوازشریف مسلم لیگ ( ن ) کو ووٹ دینا ہے،عہد کرو کہ ووٹ کو بے عزت نہیں ہونے دو گے میں عوام کی خدمت کر رہاتھا،میری ذات کا ... مزید-آج میاں صاحب نے بتادیا کہ انہیں کس نے اور کیوں نکالا، مریم نواز-پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلی سے سرمایہ کاری پالیسی تبدیل نہیں ہو گی، تمام سیاسی جماعتوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نجی شعبہ اقتصادی ترقی میں انجن کی حیثیت رکھتا ہے، بیرونی ... مزید-متحدہ مجلس عمل جب سے بحال ہوئی ہے تو سیکولراور لادین طبقات پر لرزہ طاری ہے،سینیٹر سراج الحق مجلس عمل کے کامیاب مستقبل کو دیکھ کراب کرپٹ ٹولے کو اپنا انجام دکھائی دینے ... مزید-پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان کو تعلیمی لحاظ سے ترقی کی راہ پر گامزن کردیاہے ، بلیغ الرحمن-لاہور، وزیراعظم ا غزہ میں اسرائیلی بربریت کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کیلئے حمایت جاری رکھے گا،شاہد خاقان عباسی کا او آئی سی اجلاس سے خطاب-ہر ادارے کو آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،شاہد خاقان عباسی عدالت اور نیب کے کام سے حکومت مفلوج اورملک کے بے پناہ نقصان ہوا ،ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا ... مزید-دبائو ڈالتے ڈالتے نواز شریف خود دبائو میں آگئے،مولا بخش چانڈیو نواز شریف نے مجیب الرحمن بننے کی دھمکی دی اپنے بیٹوں سے بھی لاتعلقی اختیار کرلی نواز شریف خود چلے جاتے ... مزید-نواز شریف کے نزدیک ریاست اور اداروں کے بجائے صرف اپنی ذات کی اہمیت ہے،فو ادچوہدری نواز شریف منی ٹریل پر بات کرنے کے بجائے صرف جرنیلوں پر بات کرتے ہیں، کچھ عرصہ پہلے کتاب ... مزید

GB News

انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ

Share Button

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک میں جبری طور پر لاپتہ کئے گئے افراد کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ادارے کے مطابق 2016 میں مزید 728 افراد لاپتہ ہوئے اوریہ تعداد چھ سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔پاکستان میں حقوق انسانی کے کمیشن کاکہنا ہے کہ ملک میں لبرل نظریات رکھنے والے افراد کو ہدف بنایا جارہا ہے اور آہستہ آہستہ وہ پلیٹ فارمزمحدود ہوتے جارہے ہیں جہاں کھل کر اظہارِ رائے کیا جاسکتا تھا۔گزشتہ برس انسانی حقوق کے تین کارکنوں، چھ صحافیوں اور ایک بلاگر کے قتل اور بعض خبروں کی گردش نے ذرائع ابلاغ کے لیے خوف کی فضا میں اضافہ کیا اور اس سے ذرائع ابلاغ کی خودساختہ سنسر شپ کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا۔اقلیتوں کیخلاف حملوں میں اہم شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کو خصوصی طورپرنشانہ بنایا گیا۔2015کے مقابلے 2016میں دہشت گردی کے واقعات میں پنتالیس فیصد کمی واقع ہوئی تاہم 211 حملوں میںاڑتالیس فیصد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایاگیا۔ سندھ اور بلوچستان میں ہوئے زیادہ تر واقعات کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کی۔گزشتہ برس 487افراد کو موت کی سزاسنائی گئی جبکہ ستاسی کو پھانسی دی گئی۔توہینِ مذہب کے الزام میں پندرہ افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے جس میں دو مسلمانوں اور دو مسیحوں کو توہینِ مذہب کے جرم میں موت کی سزاسنائی گئی۔مشال قتل کیس سمیت توہینِ مذہب کے الزامات کے بعد ہجوم کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے واقعات پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیاکہ مذہب کا غلط استعمال مذہب کی خدمت نہیں ہے۔اس سلسلے میں وفاقی پارلیمان نے 2016میں اکیاون قوانین بنائے اوریہ تعداد گذشتہ برس کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔ 2015میں یہ تعداد بیس تھی۔مزید براں صوبوں نے اکیاسی معاملات پر قانون سازی کی جو گذشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں طورپر کم تھی۔ 2015میں ایک سو بیس قوانین بنائے گئے تھے۔انصاف کی صورتحال یہ ہے کہ ملکی عدالتوں میں تیس لاکھ کیسز اب بھی زیرِ التوا ہیں البتہ ججوں اور وکلا کیخلاف تشدد کے واقعات کے باعث شعبہ قانون سے وابستہ افراد میں عدم تحفظ بڑھ گیاہے۔رپورٹ میں بیان کردہ حقائق واقعتا تشویشناک ہیں جن پہ توجہ دیے جانا بہت ضروری ہے ہم دراصل صورتحال کو تو بیان کر دیتے ہیں یا کوئی ان پہ توجہ مبذول کراتا ہے لیکن اس کے حل کے لیے ہم اقدامات کرنے کی حکمت عملی کا تعین نہیں کرتے جس کے نتیجے میں مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھتے چلے جاتے ہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے جو امور بیان کیے گئے ہیں ان کے حل کو یقینی بنانے کے لیے پیشرفت کی جائے۔

Facebook Comments
Share Button