تازہ ترین

Marquee xml rss feed

شہبازشریف بغیر پروٹوکول ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چنیوٹ پہنچے آپ کے دوروں سے ڈاکٹروں اورعملے کے روئیے میں مثبت تبدیلی آئی ہے مریضوں اوران کے لواحقین کی وزیراعلیٰ ... مزید-صوبائی حکومت نے اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کی جس سے اداروں کی کارکردگی میں نکھار آیا ،پرویزخٹک ادارے اب ڈیلیور کرنے لگے ہیںاور خواص کی تابع فرمانی کی بجائے عوام کی ... مزید-پاکستان گھومنے گئی تھی ،جب برا وقت آتا ہے تو دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے‘ عظمیٰ احمد ایسا کچھ تھا نہیں کہ ہم اتنی جلدی شاد ی کر لیں گے ، بس یہی خیال تھا پاکستان دیکھنا ہے ... مزید-وزیراعظم نواز شریف تلاوت قرآن پاک شروع ہوتے ہی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے ایوان میں پہنچ گئے-وفاقی بجٹ صرف الفاظ کا ہیر پھیر ہے جس سے عوام کو دھوکہ دیا گیا ہے‘اعجاز چوہدری نواز حکومت نے عوام دشمن بجٹ پیش کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہیں غریب اور عام آدمی کی کوئی ... مزید-وزیراعلیٰ پنجاب کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چنیوٹ کابغیر پیشگی اطلاع اور بغیر پروٹوکول اچانک دورہ، انتظامیہ لاعلم رہی ایمرجنسی اوردیگر وارڈکا معائنہ،مریضوں کی عیادت ... مزید-دیپیکا پڈوکون فلم ’’بدلاپور2 ‘‘ میں مرکزی کردار ادا کریں گی-ایشوریہ رائے بچن فلمساز مانی رتنم کی نئی فلم میں کام کریں گی-کراچی:کراچی ملک کا معاشی حب اور ترقی کا پیمانہ ہے ، شہر کی ترقی پورے ملک کی خوشحالی کی ضمانت ہے،محمد زبیر مجموعی قومی آمدنی میں سب سے زیادہ حصہ دینے والے کراچی کو عالمی ... مزید-کراچی:وفاقی حکومت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں مزید اضافہ کررہی ہے،محمد زبیر جس سے تعلیم کے فروغ اور تحقیق کے کاموں میں مزید اضافہ ہوگا ، وفاقی حکومت اعلیٰ تعلیم کے ... مزید

GB News

اداروں میں سیاسی مداخلت اور سرکاری ملازمین

سینئر صوبائی وزیر حاجی محمد اکبر تابان نے کہا ہے اداروں میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی سیاسی رکن کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بلاوجہ کسی بھی آفیسر پر سیاسی دبائو بڑھا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کرے ۔ سرکاری اداروں میں حاضری کویقینی بنانے کے لیے تمام ڈویژنل ہیڈز کردار ادا کریں ۔ آئیند ہ بلاتفریق مختلف محکمہ جات میں اچانک حاضر ی کی چیکنگ کی جائے گی اور غیر حاضری میں ملوث پائے گئے ملازمین کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ اچھی حکمرانی کا تقاضہ یہ ہے کہ سر کاری آفیسران اپنے فرائض دیانت داری اور ایماندار سے ادا کرکے لوگوں کو درپیش مسائل حل کرنے پر توجہ دیںاور سیاسی معاملات میں الجھنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کریں۔ بعض آفیسران کے بارے میں شکایات ہیں کہ وہ دفتری اوقات کا خیال نہیں رکھتے ہیں اور دس بجے تک بھی دفتروں میں ان کی حاضری نہیں ہوتی ایسے میں چھوٹے سٹاف بھی آفیسروں کے نقش قدم پر چل کر دفتروں سے غائب رہتے ہیں۔یہ درست ہے کہ اداروں میں سیاسی مداخلت نے ان کا بیڑہ غرق کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آج زیادہ تر ادارے تباہی کے کنارے پر ہیں اس پہ طرہ یہ کہ سرکاری ملازمین اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہیں’ عموماپورے ملک کے سرکاری دفاترکے سلسلہ میں عام خیال ہے کہ وہاں وقت کی پابندی کوئی معنی نہیں رکھتی لیکن تنخواہ لینے کے علاوہ شایدہی کوئی دوسراکام ہوجس میں پابندی اوردلچسپی کامظاہرہ کیاجاتاہو۔ڈیوٹی پردیرسے آنااوروقت سے پہلے ہی واپس چلے جانا،بسااوقات ڈیوٹی پرحاضرہی نہ رہنااوربغیرتاریخ ڈالے پہلے سے تیارشدہ درخواست اپنے رفیق کارکواس مقصدسے دے دیناکہ کسی ذمہ دارکے اچانک معائنہ کرنے پروہ اسے دکھلادی جائے بصورت دیگراسے ڈیوٹی پرہی شمارکیاجائے۔یہ اوقات کارکی پابندی کے تعلق سے ہمارے ملک کے سرکاری ملازمین کی وہ تصویرہے جوبعض علاقوں کوچھوڑکرملک کے پورے طول وعرض میں تقریبایکساں نظرآتی ہے۔اس کے علاوہ جوبے شمارخامیاں ،غفلت ،غیرذمہ داریاں اوربدعنوانیاں پائی جاتی ہیں وہ اس کے ماسواہیں۔غورکرنے کی بات یہ ہے کہ آخرکیاوجہ ہے کہ اس مسئلہ پرقابوپانے کی جگہ یہ مرض اس قدرعام ہوتاجارہاہے کہ ملک کے شہری اسے عام بات سمجھنے لگے ہیں اورایساکرنے والے بھی بلاتکان اس کاذکربھی بڑی آسانی سے کردیتے ہیں۔ایساکرتے وقت نہ توانہیں عارمحسوس ہوتی ہے اورنہ ہی اس بات کے عام ہونے اورکسی قسم کی کارروائی کاخوف ہوتاہے۔اس بے خوفی کاعالم یہ ہے کہ اگرکبھی کسی طرف سے کچھ اقدام کی بات بھی آتی ہے تواس کوروکنے اوربے اثرکرنے کی تدابیراوراقدامات پہلے ہی سوچ لئے جاتے ہیں۔ورنہ تکراراورتسلسل کی کیاضرورت ہے صرف ایک بارکی ہدایت ہی کافی ہونی چاہئے۔یہ غفلت کسی ایک شعبہ کے ملازمین سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ یہی ایک مرض کیااس جیسے اوراس سے بھی بڑے امراض سرکاری ملازمین کولاحق ہیں جومحض غفلت کی وجہ سے نہیں ہوسکتے ہیں ۔ان کی اصل وجہ کچھ اور ہی ہے اوروہ اس کے ماسوااورکچھ نہیں کہ پورے نظام میں جواب دہی کااحساس مفقودہے۔جب یہ احساس مفقودہوجاتاہے توسرکاری ملازمین ہی کیاسماج کاکوئی بھی فردہواس کے ہاتھ کوکسی برائی کے کرنے سے روکنے اورکسی دائرہ میں محدودکرنے میں ناکامی ہی حاصل ہوتی ہے۔پھرچاہے مینول حاضری نظام ہویا بائیومیٹرک ،اس طرح کے کسی بھی نظام سے برائیوں اورغفلت پرقابونہیں پایاجاسکتاہے۔اس لئے کہ کوئی بھی ضابطہ اورنظام کیوں نہ بنالیاجائے اس سے بچ نکلنے کے راستے شاطردماغ پہلے سے ہی تلاش کرلیتاہے۔اس کے برخلاف جب جواب دہی کااحساس بیدارہوتاہے توپھررات کااندھیراہویادن کااجالا،تنہائی کے لمحات ہوں یامجمع عام ہو،غربت کی مجبوری ہویافراوانی کے حصول کے مواقع کہیں پربھی نہ غفلت طاری ہوتی ہے اورنہ قدم لڑکھڑاتے ہیں۔اس لئے غفلت کی شناخت کے باوجودضرورت جواب دہی کے احساس کوبیدارکرنے اورایسے نظام کواختیارکرنے کی ہے جس میں یہ احساس پورے طورپرپایاجاتاہو۔ہمیںاس وقت اس نظام کی شدیدضرورت ہے توکیاان لوگوں کواسے متعارف نہیں کراناچاہئے جواس نظام کو برسوں سے اپنے پاس رکھتے ہیں۔انسان کی یہ فطرت بھی ہے اورعقل مندی بھی یہی ہے کہ کانٹے سے کانٹانکالنے کے بجائے سوئی سے کانٹانکالاجائے۔اس لئے جواب دہی کے احساس سے ٹھوس نظام کواختیارکرناہی مسئلہ کاصحیح اورپائیدارحل ہے۔

Share Button