GB News

جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولاناعبدالغفورحیدری پر مبینہ خودکش بم حملے کے نتیجے میں 25افراد جاں بحق

Share Button

مستونگ/کو ئٹہ/اسلام آباد/لاہور/بیجنگ (آئی این پی) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے 50کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع مستونگ کے علاقے کلی غلام پڑینز میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولاناعبدالغفورحیدری پر مبینہ خودکش بم حملے کے نتیجے میں 25افراد جاںبحق جبکہ 42زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ،جاںبحق ہونیوالوں میں مولاناعبدالغفورحیدری کے ڈائریکٹر سٹاف سینیٹ،ڈرائیور اورجمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے نائب امیر شامل ہیں ۔صدر،وزیراعظم ،گورنرووزیراعلیٰ بلوچستان سمیت دیگر سیاسی ،مذہبی جماعتوں کے سربراہان اور حکومتی حکام نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ پر بم حملے اور اس کے نتیجے میں ہونیوالے انسانی جانوں کی ضیاع پر افسوس کااظہار کیاہے جے یو آئی (ف) نے واقعہ پرملک بھر میں سوگ کااعلان کیاہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مستونگ کے کلی غلام پڑینز میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولاناعبدالغفورحیدری جامعة البنات حضرت عائشہمیں فارغ التحصیل طالبات کیلئے منعقد کئے گئے شال پوشی کے اتحاد بین المسلمین کانفرنس سے خطاب کے بعد وہاں سے روانہ ہونے کیلئے مدرسے کے باہر گاڑی میں بیٹھے ہی تھے کہ اس دوران زورداردھماکہ ہوا دھماکے کے نتیجے میں مولاناعبدالغفور حیدری کے ڈرائیور سمیت 17افراد موقع پر جاںبحق ہوگئے جبکہ مولاناعبدالغفورحیدری سمیت دیگردرجنوں زخمیوں کو فوری طورپر نواب غوث بخش میموریل ہسپتال سمیت دیگر منتقل کردیا گیا ،بعدازاں شدیدزخمیوں کو چھیپا اور ایدھی ایمبولینسز کے ذریعے کوئٹہ منتقل کردیاگیا جہاں بعض شدیدزخمی جانبر نہ ہوسکے ،دو افراد سی ایم ایچ ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ سول ہسپتال میں بھی 3زخمیوں نے دم توڑا ،جاںبحق ہونیوالوں میں مولاناعبدالغفورحیدری کے ڈائریکٹر سٹاف افتخار مغل ،ڈرائیور اورجمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے نائب امیر حافظ قدرت اللہ لہڑی بھی شامل ہیں ، ڈی پی او غضنفرعلی شاہ کے مطابق اتبدائی شواہد اور عینی شاہدین کے مطابق یہ حملہ خودکش تھا اور اس کا نشانہ مولانا عبدالغفور حیدری تھے تاہم اس بارے مے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر خودکش حملے کے بعد بلوچستان بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں عینی شاہدین کے مطابق جائے وقوعہ پر دھماکے کے فوراََ بعد زخمیوں کی چیخ وپکار جاری تھی جبکہ لوگ حواس باختہ ہوکر ادھر ادھر بھاگتے رہے ،بعدازاں لوگوں نے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں کو منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا تاہم اس موقع پر اکثر طلباء آبدیدہ اور چیخ چلاتے ہوئے یا پھر ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہوئے دکھائی دئیے تاہم جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولاناعبدالغفورحیدری خود گاڑی سے اترے ،ان کے کپڑے خون آلود تھے جس سے لوگوں نے سہارادیکر قریب کھڑی دوسری گاڑی میں ہسپتال لے جانے کیلئے سوار کیا ،عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے وقت مدرسے کے اندر سینکڑوں افراد سمیت طالبات کی بہت بڑی تعداد بھی موجود تھیں۔مولانا عبدالغفور حیدری نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ انتہائی شدید تھا۔ میں خیریت سے ہوں شیشہ لگنے سے چوٹیں آئی ہیں۔،ترجما ن بلوچستان حکومت انور الحق کا کڑ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ جمعہ کی نماز کے بعد مولانا مسجد سے باہر آئے اور اس دوران دھماکا ہوگیا۔انہوں نے بتایا کہ مولانا عبدالغفورحیدری کی حالت ٹھیک ہے اور انہیں کوئٹہ شفٹ کیا جارہا ہے۔ دھماکے کے بعد مستونگ سول اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولاناعبدالغفورحیدری پر بم حملے اور اس میں معصوم شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے ہسپتالوں میں فوری طورپر ایمرجنسی کے نفاذ اور طبی عملے کو حاضر ہونے کی ہدایت کی اور کہاکہ دہشت گرد وں کو ان ہر صورت ان کے انجام تک پہنچایاجائیگا۔صدر مملکت ممنون حسین نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری اور ان کے قافلے پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت ،حملے میں جاں بحق ہونے والے افرادکے بلند درجات کی دعا کی ہے اور ان کے خاندان سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدی اور دیگر زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ صدر مملکت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ حادثے میں زخمی ہونے والے افراد اور دیگر متاثرین کو ہر ممکن طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ پوری قوم نے دہشت گرد ی کا جواں مردی سے مقابلہ کر رہی ہے۔ سیکیورٹی فورسز پورے ملک میں دہشت گرد وں کا پیچھا کر رہی ہیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ان کے خلاف کاروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے دشمن پاکستان کی ترقی سے خائف ہو کرمعصوم شہریوں کو اپنی بزدلانہ کاروائیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن پور ی قوم ان سے نمٹنے کے لیے متحد ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے عبدالغفور حیدری کے قافلے پر حملے کی شدید مذمت کی ہے وزیراعظم نے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی۔ وزیراعظم نواز شریف نے حملے میں زخمی ہونے والوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور دھماکے کے شہداء کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔ محمد نواز شریف نے سوگوار خاندانوں سے اظہار ہمدردی و تعزیت بھی کی۔وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مستونگ دھماکے کی شدید مذمت کی اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری کی خیریت دریافت کی۔ وزیر داخلہ نے ایف سی اور بلوچستان پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ چوہدری نثار نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی ،سپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق ، ڈپٹی سپیکرقومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے بھی واقعے کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کی ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے ڈائریکٹر سٹاف افتخار مغل کی شہادت کی اطلاع دیتے ہوئے آواز رندھ گئی اور آنکھیں نم ہو گئیں ۔ مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر دہشت گردی کے حملے کے حوالے سے بلوچستان حکومت سے رابطہ کے بارے میں چیئرمین سینٹ نے اراکین سینٹ کو آگاہ کیا۔

Facebook Comments
Share Button