تازہ ترین

Marquee xml rss feed

مشیرِوزیراعظم کا اختیارات سے تجاوز؛ اہل خانہ کا رعایتی ٹکٹوں پرمختلف ممالک کا مفت سفر-ہیواوے نے نیا چار کیمروں والا انتہائی سستا اسمارٹ فون متعارف کرا دیا-دوسری شادی کرنیوالے شوہر کو6ماہ قید و ایک لاکھ جرمانے کی سزا-گوجرخان، وارڈ نمبر 14صندل روڈ پر قتل کی واردات ، 36سالہ شخص کی لاش گھر سے بر آمد-گوجرخان، ہونہار طالب علم حسیب بٹ کا اعزاز-گوجرخان، گورنمنٹ امجد عنایت جنجوعہ شہید ہائی سکول بھاٹہ کا اعزاز-گورنمنٹ بوائز ہا ئی سکول زرعی فارم راولپنڈی کے ہونہار طالب علم حیان علی خان کی مقابلہ حسن قرائت میں راولپنڈی ڈویژن میں پہلی پوزیشن-مرکزی قبرستان کی سڑک کی تعمیر کیلئے فنڈزفراہم کرنے پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبر حافظ احمد رضا قادری ایڈووکیٹ کا شکریہ-ْلاہور کے احتجاجی جلسے میں عمران خان او رشیخ رشید نے جو پارلیمنٹ کیخلاف بازاری اور گھٹیا زبان استعمال کی،شدید مذمت کرتے ہیں،پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے وا لے اسی پارلیمنٹ ... مزید-سپریم کورٹ کے حکم پر میونسپل کارپوریشن مری نے آپریشن کیلئے تیاریوں کو حتمی شکل دے دی

GB News

جدید طریقہ تدریس کے تقاضے

Share Button

شگر کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کا کہنا ہے تعلیم ہمارے لیے زندگی و موت کا مسئلہ ہے’تعلیمی میدان میں پیشرفت کے بغیر ہم نہ صرف اقوام عالم میں پیچھے رہ جائیں گے بلکہ ہمارا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا’ہمیں روایتی طریقہ تدریس سے نکل کر جدید طریقہ تدریس اور ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر طریقہ تدریس کو موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ جب تک ہم جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم کو ہم آہنگ نہیں کریں گے عہد حاضر کا ساتھ نہیں دے سکیں گے۔تدریس ایک با کمال اور تخلیقی شعبہ ہے۔ درس و تدریس تخلیقی عمل سے گزر کر ہی تاثیر کا درجہ پاتے ہیں۔ موثر تدریس کے لئے استاد کواپنے مضمون پرمکمل لیاقت کے علاوہ تدریسی طریقوں اور مہارتوں سے بھی واقف ہونا ضروری ہوتا ہے۔اناتول فرانس کے مطابق فن تدریس کا اہم مقصد طلبہ میں فطری تجسس کی بیداری ہے تاکہ وہ اپنی آنے والی زندگی آسودگی اور اطمینان سے بسر کر سکیں۔ایک منصوبہ بند تدریس کے ذریعے جہاں فطری تجسس کے سوتے پھوٹتے ہیں وہیں تخلیقی فکر کی بنیادیں بھی استوار ہوتی ہیں۔بچوں میں تخلیقی فکر کو مہمیز کرنے میں نصاب سے زیادہ اساتذہ کا کردار اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔تعلیم ایک بہت ہی وسیع میدان ہے جہاں ہر دن نت نئے تجربات اور نظریات وجود میں آتے رہتے ہیں۔ہر دن مختلف مشورے اور جدید اصطلاحات سے اساتذہ کو روشناس کرنا گویا محکمہ تعلیم کے لئے اب ایک عام بات ہوچکی ہے۔تعلیمی میدان میں جدت طرازی سے کام لینے کے ساتھ ساتھ ہم عصر تعلیمی نظریات سے آگہی بھی اساتذہ کے لئے ضروری ہوتی ہے۔تخلیقی تدریس کی انجام دہی کے لئے اساتذہ کودنیا بھر کی تعلیمی اور تدریسی عمل کے ارتقا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے واقف ہونا ضروری ہوتا ہے۔آج تک کوئی بھی قوم اپنے تعلیمی ماہرین اور اساتذہ کی سوچ اور معیار سے زیادہ بلند نہیں ہوئی ہے ۔ اساتذہ کے معیار کے مطابق ہی معاشرے کی ترقی ہوتی ہے۔ سماج کی ترقی کے لئے ہر زمانے میں صاحب نظر اساتذہ اور تعلیمی ماہرین کی بے حد ضرورت ہوتی ہے۔اساتذہ کے لئے تخلیقی تدریس کا ادراک لازمی ہے تاکہ وہ اپنے علم کو بروقت تنقیدی اور تخلیقی انداز میں استعمال کر سکیں۔تدریس ایک دانشورانہ کام ہے۔ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل اساتذہ اکتساب کوبلندیوں تک پہنچادیتے ہیں۔کسی بھی جماعت میں پائے جانے والے طلبہ کے تجربات ،مشاہدات ،اہلیت،فہم و ادراک کبھی بھی ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں۔کمرہ جماعت کا یہ تنوع اکتسابی ماحول کے لئے رکاوٹ نہیں بلکہ ایک وسیلہ کا کام کرتا ہے۔ جہاں افکار و معلومات میں تنوع کے باعث طلبہ کے لئے اکتساب کا میدان وسیع ہوجاتا ہے وہیں اساتذہ کے لئے اکتسابی عمل کو مہمیز کرنے میں یہ تنوع نہایت معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے طلبہ کی خفتہ فطری تخلیقی صلاحیتوں کی بیداری،تخلیقی فکر کی تشکیل و استحکام منظم تخلیقی تدریس کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ہمارے اسکول طلبہ میں تخلیقی شعور و استدلال کے فروغ کے بجائے روایتی ساکت و جامد نظریات کی تبلیغ کو ہی تدریس سمجھ رہے ہیں۔ایسے تباہ کن نظریات پر تخلیقی تدریسی طریقوں سے ہی قابو پایا جاسکتا ہے۔طلبہ کی پوشیدہ فطری تخلیقی صلاحیتوں کو عیا ں کرنا ہی تعلیم کا اصل مقصد ہے۔کمرہ جماعت میں موجود ہر طالب علم پیدائشی طور پر اختراعی صلاحیتوں اور تخلیقی فکر کا حامل نہیں ہوتا لیکن اساتذہ اپنی کوشش اور جستجو سے ہر بچے میں تخلیقیت اور اختراعیت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ایک لائق استاد ہر بچے میں ہمہ وقت تخلیقی سوچ پیداکرنے میں مصروف رہتاہے۔بچوں میں تخلیقی شعور ،تجزیہ ،تدببر اور مشاہدے کی صلاحیتوں کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ کسی بھی سماج کا بے جان ساکت و جامد نصاب تعلیم ہوتا ہے ۔تخلیقی اظہار کے بہتر وسیلوں کی عدم فراہمی کے باعث طلبہ کی تخلیقی صلاحیتں ٹھٹھر کر رہ جاتی ہے۔ یہ نقص عام طور پر ہمارے تعلیمی نظام میں پایا جاتا ہے جسے دور کرتے ہوئے ہم تعلیم کو مزید مفید اور کارآمد بناسکتے ہیں۔اساتذہ طلبہ مرکوز طریقہ ہائے تدریس اپناتے ہوئے، فرسودہ روایتی تدریسی طریقوں سے اجتناب کرتے ہوئے اکتسابی عمل کو مزید پرکشش اور پرکیف بناسکتے ہیں۔اساتذہ تخلیقی تدریس کے مقاصد سے آشنائی اور مختلف طریقہ ہائے تدریس سے کماحقہ واقفیت حاصل کرتے ہوئے نہ صرف طلبہ میں تخلیقی اظہار کو اجاگر کرسکتے ہیں بلکہ تعلیمی عمل کو مزید دلچسپ ،رنگین،متحرک اور فعال بناسکتے ہیں۔استاد تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اگر کامیابی حاصل کر لیتا ہے تب باقی کردار ماحول خود اپنے آپ انجام دینے لگتا ہے۔اساتذہ بچوں میں معلومات کی ترسیل پر ہی اکتفا نہ کریں بلکہ ان میں شوق و ذوق پیدا کریں۔بچوں میں اگر شوق و ذوق پیدا ہوجائے تب وہ اپنی منزل خود تلاش کر لیتے ہیں۔موثر تدریسی اور تخلیقی فکر کے فروغ کے لئے سازگار ماحول کی تخلیق بے حد ضروری ہوتی ہے۔تخلیقی سوچ’طلبہ میں تخلیقی فکر کو کمرہ جماعت میں منتخب تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔طلبہ کو روشن لکیر پر چلنے اور روایتی فکر سے باز رکھتے ہوئے انہیں تخلیقی فکر کی جانب آمادہ کیا جاسکتا ہے۔معلوم و معروف نتائج سے آزادکر تے ہوئے طلبہ کو خول سے باہر جھانکنے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔طلبہ میں اکتسابی آسودگی اور تخلیقی فضا کو ہموار کرنے کیلئے اساتذہ اپنے تدریسی مواد اور طریقہ کار پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کریں۔

Facebook Comments
Share Button