GB News

پولیو کے قطرے نہ پلانے والوں کو سخت نتائج بھگتنا ہوں گے، چیف سیکرٹری

Share Button

چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیاز نے کہا ہے کہ پولیو کے موزی مرض کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے پولیو مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت یا سستی نا قابل قبول ہو گی اور قطرے نہ پلانے کے سخت نتائج بھگتنا ہو ں گے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال گلگت میں انسداد پو لیو مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم کو موثر بنانے کے لئے بہت جلد ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد کیا جائے گاتاکہ پولیو مہم کے دوران کسی بھی کمی بیشی کو دور کرنے کے لئے حکمت عملی مرتب کی جاسکے ۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ سال 2017 ء میں پولیو کے دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے ایک کیس پنجاب اور دوسرا کیس گلگت بلتستان میں رپورٹ ہوا ہے ۔ اور پورے ملک میں سے پولیو کا آدھا کیس لوڈ گلگت بلتستان پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر حصوں کی نسبت یہاں پر پولیو مہم چلانا آسان ہے اور حالات موافق ہیں ایسے میں پولیو سے مکمل نجات حاصل کرنا ممکن ہے لہذا کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ناقابل بر داشت ہو گئی اور غفلت و سستی کی صورت میں سخت نتائج مرتب ہو ں گے ۔ انہوں نے کہاکہ تمام ادارے مل کر ٹیم ورک کی صورت میں کام کریں تاکہ مثبت نتائج بر آمد ہو سکیں انہوں نے کہا کہ یہاں سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے اور حکومت اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی تاکہ موزی امراض کا قلع قمع ہو سکے اس مو قع پر تو سیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے پرو گرام ڈائریکٹر ڈاکٹر شکیل احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں 15 سے 18 مئی تک انسداد پولیو مہم کے دوران گلگت بلتستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 2 لاکھ 36 ہزار 547 بچوں کو پولیو سے بچائو اور وٹامن اے کے قطرے پلائے جائیں گے ۔ انسداد پولیو مہم کے لئے 1011 موبائل ٹیمیں اور 395 سپر وائزری سٹاف تعینات کیا گیا ہے جبکہ 84 ٹرانزٹ پوائنٹس اور 317 فکس سائٹس قائم کی گئی ہیں پو لیو مہم کی مانیٹرنگ کے لئے ای پی آئی کے مر کزی دفتر میں صوبائی پولیو کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں سے سیکریٹری صحت ‘ ڈی جی ہیلتھ ‘ ڈائریکٹر ای پی آئی اور ڈبلیو ایچ او و وفاقی اداروں کے نمائند ے اس مہم کی مانیٹرنگ کریں گے افتتاحی تقریب کے دوران سیکریٹری صحت سعید اللہ خان نیازی ‘ سیکریٹری سروسز وقار علی خان سمیت دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے

Facebook Comments
Share Button