GB News

جنگلی حیات کا تحفظ عملی اقدامات کا متقاضی ہے

وزیراعظم گرین پاکستان پروگرام کے تحت گلگت بلتستان میں مارخور’اڑیال’آئی بیکس سمیت معدومیت کے خطرے سے دوچار جنگلی حیات کے تحفظ’عالمی معیارات کے مطابق جنگلی حیات کے مسکن کی دیکھ بھال اور ان کی افزائش نسل کویقینی بنانے کے لیے آئندہ پانچ سالوں میں گلگت بلتستان کو مجموعی طور پہ سترہ کروڑ اسی لاکھ روپے فراہم کیے جائیںگے۔یہ حقیقت ہے کہ جنگلی حیات کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتی ہیں اور انکے تحفظ کے لئے کام کرنا ہم سب کا فرض ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ دنیا میں جنگلی حیات کم ہوتی جارہی ہیں اور ان کو بچانے کاکام کرنے والی تنظیمیںبھی سرگرم عمل ہیںپاکستان میں اس حوالے سے دیکھا جائے تو ہمارے ہاں زیادہ تر چرند پرند موسم سرما میں ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کرتے ہیں بعض سرحدی علاقوں میں ہرن اور نیل گائے کی زیادہ آمد سرد موسم ہی میں ہوتی ہے اسی طرح سائبریا سے اڑنے والے پرندے بھی گرم علاقوں یا نسبتا کم سرد جگہوں کا رخ کرتے ہیں اور یہی موقع ہوتا ہے جب ان پرندوں اور جانوروں کے شکاری بھی ان کو پکڑنے پرکمربستہ ہو جاتے ہیں سندھ اور چولستان میں اگرچہ نایاب جانوروں کے شکار پر پابندی ہے اور ان کو شکاریوں سے بچانے کے لئے حکومتی ادارے وقتا فوقتا اقدامات بھی کرتے ہیں مگر اسکے برعکس وہاں نایاب پرندوں اور جانوروں کی تعداد بتدریج کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے اور ان کو بچانے اور ان کی افرائش نسل کے لئے ان علاقوں میں مختلف جگہوں اور شاہراہوں پر بڑے بڑے بورڈ بھی لگا کر انتباہ کیا جاتا ہے کہ ان نایاب پرندوں کا شکار کرنا ظلم ہے ان کی نسل بچانے کے لئے ان کی حفاظت ضروری ہے مگر ان علاقوں میں جنگلی حیات پر عرصہ حیات تنگ ہی ہوتا چلا گیا ہے اور آج جتنا ان نایاب پرندوں اور جانوروں کو بچانے کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ جنگلی جانور نہ صرف ماحولیات کو متوازن رکھتے ہیں بلکہ ان سے ماحول اور بھی زیادہ خوبصورت ہو جاتا ہے اسی وجہ سے جنگلی جانوروں کے شکار پر پابندی لگائی جاتی ہے تاکہ ان کی نسل کو ختم ہونے سے بچایا جاسکے۔ اس کے باوجود غیر قانونی شکار کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر سال سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں جنگلی جانوروں کا گوشت کھالیا جاتا ہے۔ جن جنگلی جانوروں کا زیادہ غیر قانونی طور پر شکار کیا جاتا ہے۔ ان میں کالا اور سر مئی بڑا تیتر،مارخور’ نیل گائے، پاڑ اور دلدلی ہرن کے نام قابل ذکر ہیں۔دیکھا جائے تو نایاب چرند پرند کو حکومتی سطح پر بڑے پارکوں میں بھی رکھا گیا ہے ان میں سے ایک جلو پارک لاہور بھی ہے اس میں جنگلی جانوروں کو اچھی خوراک دی جاتی ہے ۔ صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جاتا ہے ۔ جس سے جانور نہ صرف صحت مند رہتے ہیں بلکہ خوش بھی رہتے ہیں۔ جنگلی حیات کسی پارک میں رکھے ہوں یا چڑیا گھر میں ہوں لوگ انہیں بہت شوق سے دیکھنے آتے ہیں۔ اس وجہ سے ایسی جگہوں پر ہر عمر کے افراد کا ہجوم لگا رہتا ہے۔ اس وجہ سے یہ کوششیں کی جاتی ہیں کہ جنگلی جانوروں کو صحت مند رکھا جائے۔ دلدلی ہرن یا سانبھر ایسا جانور ہے جو کبھی بھی قید کی زندگی پسند نہیں کرتا اور ہمیشہ آزاد ماحول میں ہی خوش رہتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ میں سانبھر کے جوڑے رکھے گئے جس سے ان کی افزائش نسل بھی ہو رہی ہے۔ سانبھر کی تعداد پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ کچھ عرصہ قبل میں بین الاقوامی سرحد سے ایک مادہ سانبھر بھی پاکستان میں داخل ہوئی تھی جسے محکمہ جنگلی حیات کے رضا کاروں نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا ‘بہرحال جنگلی حیات کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے’حیرت ہے کہ محکمہ جنگلی حیات مرغابیوں کے شکار پر پابندی ختم کردیتا ہے ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے ۔ حالانکہ شکاریوں کو لائسنس دینے ہی نہیں چاہیں تاکہ جنگلی حیات کی نشوونما ہو سکے ‘ہمارے ہاں ہر خوبصورت چیز کی اس بری طرح سے شکل بگاڑی گئی کہ یا تو وہ بالکل ناپید ہوگئی اور یا پھر اس کی شکل ہی نہیں پہچانی جاتی۔ہماری متنوع اور خوبصورت جنگلی حیات بھی اب تقریبا ناپید ہوچکی ہے۔ ٹائیگر تو بیچارہ اب انڈیا میں بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن ہمارے یہاں تو نیل گائے، ہرن، چکور، تیتر، بٹیر، مور، چیتے، تیندوے اور نجانے کیا کچھ کب کے غائب ہو چکے۔ کیا کبھی ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ کتنا بڑا اور خوبصورت خزانہ تھا جسے ہم نے برباد کردیا؟ اور کیا کوئی ایسی کوشش کی جاسکتی ہے کہ ان روٹھے ہوئے اپنوںکو منایا جائے اور واپس اپنے درمیان بسایا جائے حقیقت یہ ہے کہ تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، پرانے طرز حیات اور نئے انداز زندگی کے درمیان منقطع رابطے اور شاید سب سے زیادہ جدیدیت سے بڑھتا لگائو، جنگلی حیات کے تحفظ میں درپیش بڑے چیلنجز ہیں۔آج کے منظر نامے میں بہت ساروں کا خیال ہے کہ قدامت پسندی پھیلتی جارہی ہے لیکن پھر بھی جنگلی حیات کے تنوع کے بجائے فولاد اور کنکریٹ کی عمارات لوگوں کے دل و دماغ کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔پھر بھی، حکومت اور متعدد غیر سرکاری تنظیموں، دونوں کی کوششوں کے باوجود توقع کے مطابق جنگلی حیات کے تحفظ کا معاملہ اس طرح ایجنڈے پر نہیں لایا جاسکا، جس کی امید تھی اور ایسا نہ ہونے میں حیرانی کی کچھ خاص بات بھی نہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تیز رفتار کوششوں سے بھی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا سے آگاہی پروگرام کے ذریعے، مسئلے کو اجاگر کرنے اور طویل المدت تناظر میں جنگلی حیاتیاتی تنوع اور اس کے تحفظ کی اہمیت پر، عوامی سوجھ بوجھ بڑھانے میں مدد لی جاسکتی ہے۔اس سکے کا دوسرا رخ ان علاقوں میں مداخلت کی ضرورت ہے جہاں جنگلی حیات کا شکار ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ان باشندوں کو ترغیب دی جاسکتی ہے کہ وہ جنگلی حیات کے شکار یا ان کی تجارت کے بجائے آمدنی کے دیگر ذرائع تلاش کریں۔وزیر اعظم چین کے گریٹ گرین وال پروگرام کی طرز پر گرین پاکستان پروگرام کے تحت ملک میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران دس کروڑ نئے پودے لگائے جائیں گے’ نہروں اور سڑکوں کے اطراف ہزاروں میل میں شجر کاری کی جائے گی ‘وزیر اعظم نے جس گرین پاکستان پروگرام کی منظوری دی ہے ‘ یہ وقت کی آواز ہے محض ماحولیاتی بہتری کیلئے ہی نہیں قومی معیشت کی بہتری کیلئے بھی جنگلات اہم کردار ادا کرتے ہیں اگرچہ شروع سے ہی یہ معاملہ صوبائی حکومتوں کے دائرہ کار میں شامل ہے مگر ہمیں افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے صوبے وسائل کا بھی تقاضا کرتے ہیں لیکن مختلف شعبوں میں اپنی کارکردگی میں اضافے پر توجہ نہیں دیتے اگر انہوں نے جنگلات کے کٹائو کی روک تھام کی ہوتی اور سنجیدگی کے ساتھ شجر کاری کی جانب توجہ دی ہوتی تو آج ہمارے ہاں جنگلات کا رقبہ انتہائی کم نہ ہوتا صوبائی حکومتوں کی مایوس کن کارکردگی کے باعث ہی وفاقی حکومت کو اس طرف توجہ دے کر ایک قومی سطح کا پروگرام وضع کرنا پڑا’ ہم سمجھتے ہیں صوبے اپنی ذمہ داریوں کومحسوس کریں تو یہ ہدف محض ایک سال میں حاصل کیا جا سکتا ہے گرین پاکستان پروگرام کے تحت محض شجر کاری نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس امر کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ جو پودے لگائے جائیں وہ درخت بن کر قومی مقاصد کی تکمیل میں اپنا کردار ا دا کریں یوں تو ہر سال رسمی طور پر شجر کاری ہوتی ہے صوبوں کی طرف سے لاکھوں پودے لگانے کے دعوے ہوتے ہیں مگر ان اقدامات کے نتیجے میں درختوں کی تعداد میں اضافہ دکھائی نہیں دیتا اس کے برعکس پہلے سے موجود جنگلات میں درختوں کی کٹائی کا عمل واضح طور پر نظر آتا ہے گرین پاکستان پروگرام کو ر سمی پروگرام کے بجائے انقلابی پروگرام بنایا جانا چاہیے اور ہر قیمت پر اس کے اہداف حاصل ہونے چاہئیں ۔

Share Button