GB News

گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے عملی طور پر کوئی کام نہ ہوسکا

اسلام آباد(شبیر حسین سے )وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو سیاحتی مقامات پر بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے گلگت بلتستان کے تمام سیاحتی مقامات پر34 کروڈ 30 لاکھ روپے مالیت سے200 سے زائد ٹوارسٹ ہٹس بنانے کے منصوبہ پر 2 ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی تاحال عملی طور پر کوئی کام نہ ہوسکا ہے۔باوثوق زرائع نے منصوبہ پر عملی طور پر کام نہ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ سیاحت کا شعبہ اس وقت گلگت بلتستان کونسل کے پاس ہے اور ٹوارسٹ ہٹس بنانے کا منصوبہ گلگت بلتستان کونسل کے زریعے ہی شروع ہونا تھا تاہم اب گلگت بلتستان آئینی اصلاحات کے زریعے سیاحت، جنگلات اور معدنیات سمیت دیگر کچھ اہم شعبے کونسل سے نکال کر صوبائی حکومت کو تفویض کرنے کی تجویز زیر غور ہیں،اس تجویز کے پیش نظر مذکورہ منصوبہ پر عملدرآمد عارضی طور پر رک چکا ہے۔واضح رہے وفاقی حکومت نے گذشتہ سال2016 میں موسم گرما کے دوران گلگت بلتستان میں بے پناہ مقامی سیاحوں کی آمد کے بعد علاقے میں سیاحوں کو قیام و طعام کی سہولیات نہ ملنے اور سیاحوں کو درپیش مسائل کے پیش نظر2 ماہ قبل مذکورہ منصوبہ تیار کیا تھا جس کے تحت گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں واقع تمام سیاحتی مقامات پر200 سے زائد ٹوارسٹ ہٹس بنانے تھے جس پر مجموعی طور پر کل34 کروڈ 30 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھاجس میں سے 30 کروڈ روپے وفاقی حکومت نے ادا کرنا تھی ، 2 کروڈ 70 لاکھ گلگت بلتستان کی حکومت جبکہ 1 کروڈ 30 لاکھ روپے آغاخان فاونڈیشن نے فراہم کرنا تھا۔ ٹوارسٹ ہٹس کے قیام کے منصوبہ میں گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھ جس میں نوجوانوں کو حکومت کی جانب سے قرضہ فراہم کیا جانا تھا جس سے وہ مختص شدہ سیاحتی مقامات پر ٹوارسٹ ہٹس بنائے جانا تھا۔منصوبہ کے تحت ایک ٹوارسٹ ہٹس کم از کم 2 کمرے، 1 کچن اور 1 باتھ روم پر مشتمل ہوگا، اس پروگرام میں شامل نوجوانوں کو آغاخان فاونڈیشن نے تربیت بھی فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

 

Share Button