تازہ ترین

Marquee xml rss feed

مشیرِوزیراعظم کا اختیارات سے تجاوز؛ اہل خانہ کا رعایتی ٹکٹوں پرمختلف ممالک کا مفت سفر-ہیواوے نے نیا چار کیمروں والا انتہائی سستا اسمارٹ فون متعارف کرا دیا-دوسری شادی کرنیوالے شوہر کو6ماہ قید و ایک لاکھ جرمانے کی سزا-گوجرخان، وارڈ نمبر 14صندل روڈ پر قتل کی واردات ، 36سالہ شخص کی لاش گھر سے بر آمد-گوجرخان، ہونہار طالب علم حسیب بٹ کا اعزاز-گوجرخان، گورنمنٹ امجد عنایت جنجوعہ شہید ہائی سکول بھاٹہ کا اعزاز-گورنمنٹ بوائز ہا ئی سکول زرعی فارم راولپنڈی کے ہونہار طالب علم حیان علی خان کی مقابلہ حسن قرائت میں راولپنڈی ڈویژن میں پہلی پوزیشن-مرکزی قبرستان کی سڑک کی تعمیر کیلئے فنڈزفراہم کرنے پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبر حافظ احمد رضا قادری ایڈووکیٹ کا شکریہ-ْلاہور کے احتجاجی جلسے میں عمران خان او رشیخ رشید نے جو پارلیمنٹ کیخلاف بازاری اور گھٹیا زبان استعمال کی،شدید مذمت کرتے ہیں،پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے وا لے اسی پارلیمنٹ ... مزید-سپریم کورٹ کے حکم پر میونسپل کارپوریشن مری نے آپریشن کیلئے تیاریوں کو حتمی شکل دے دی

GB News

گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے عملی طور پر کوئی کام نہ ہوسکا

Share Button

اسلام آباد(شبیر حسین سے )وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو سیاحتی مقامات پر بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے گلگت بلتستان کے تمام سیاحتی مقامات پر34 کروڈ 30 لاکھ روپے مالیت سے200 سے زائد ٹوارسٹ ہٹس بنانے کے منصوبہ پر 2 ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی تاحال عملی طور پر کوئی کام نہ ہوسکا ہے۔باوثوق زرائع نے منصوبہ پر عملی طور پر کام نہ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ سیاحت کا شعبہ اس وقت گلگت بلتستان کونسل کے پاس ہے اور ٹوارسٹ ہٹس بنانے کا منصوبہ گلگت بلتستان کونسل کے زریعے ہی شروع ہونا تھا تاہم اب گلگت بلتستان آئینی اصلاحات کے زریعے سیاحت، جنگلات اور معدنیات سمیت دیگر کچھ اہم شعبے کونسل سے نکال کر صوبائی حکومت کو تفویض کرنے کی تجویز زیر غور ہیں،اس تجویز کے پیش نظر مذکورہ منصوبہ پر عملدرآمد عارضی طور پر رک چکا ہے۔واضح رہے وفاقی حکومت نے گذشتہ سال2016 میں موسم گرما کے دوران گلگت بلتستان میں بے پناہ مقامی سیاحوں کی آمد کے بعد علاقے میں سیاحوں کو قیام و طعام کی سہولیات نہ ملنے اور سیاحوں کو درپیش مسائل کے پیش نظر2 ماہ قبل مذکورہ منصوبہ تیار کیا تھا جس کے تحت گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں واقع تمام سیاحتی مقامات پر200 سے زائد ٹوارسٹ ہٹس بنانے تھے جس پر مجموعی طور پر کل34 کروڈ 30 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھاجس میں سے 30 کروڈ روپے وفاقی حکومت نے ادا کرنا تھی ، 2 کروڈ 70 لاکھ گلگت بلتستان کی حکومت جبکہ 1 کروڈ 30 لاکھ روپے آغاخان فاونڈیشن نے فراہم کرنا تھا۔ ٹوارسٹ ہٹس کے قیام کے منصوبہ میں گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھ جس میں نوجوانوں کو حکومت کی جانب سے قرضہ فراہم کیا جانا تھا جس سے وہ مختص شدہ سیاحتی مقامات پر ٹوارسٹ ہٹس بنائے جانا تھا۔منصوبہ کے تحت ایک ٹوارسٹ ہٹس کم از کم 2 کمرے، 1 کچن اور 1 باتھ روم پر مشتمل ہوگا، اس پروگرام میں شامل نوجوانوں کو آغاخان فاونڈیشن نے تربیت بھی فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

 

Facebook Comments
Share Button