تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیراعلیٰ پنجاب ش�بازشری� کا سابق و�اقی وزیر میر نواز خان مروت کے انتقال پر اظ�ار تعزیت-وزیراعلیٰ کی ورکنگ بائونڈری پر بھارتی ا�واج کی بلااشتعال �ائرنگ سے ش�ید �ونیوالے ش�ریوں کے لواحقین کیلئے مالی امداد کا اعلان ش�داء کے لواحقین کو 5لاکھ �ی کس کے حساب ... مزید-وزیراعلیٰ پنجاب ش�بازشری� کا سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر پیغام-وزیراعلیٰ کی زیرصدارت اجلاس، پاک میڈیکل �یلتھ نمائش کے انعقاد کے انتظامات کا جائز� نمائش ما� رواں کے آخر میں منعقد �وگی،ترک وزارت صحت کے اعلیٰ حکام، ترک اور پاکستانی ... مزید-محرم الحرام ، عوام کے جان و مال کے تح�ظ اورامن و امان کے قیام کیلئے سکیورٹی کے �ول پرو� انتظامات کیے جائیں‘ش�بازشری� گزشت� برسوں سے بڑھ کر سکیورٹی انتظامات کئے جائیں ... مزید-وزیراعلیٰ پنجاب کی سیالکوٹ ورکنگ بائونڈری پر بھارتی �وج کی �ائرنگ و گول� باری کی شدید مذمت قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظ�ار ا�سوس، ش�داء کے لواحقین سے دلی �مدردی ... مزید-آئند� مالی سال کے بجٹ میں شعب� تعلیم میں مجموعی طور پر 345ارب روپے کی رقم مختص کی گئی �ے،رانا مش�ود احمد-چیئر مین سینیٹ کا ایوان بالا اجلاس میں وزیر مملکت داخل� کی عدم حاضری پر شدید اظ�اربر�می وزارت داخل� سے متعلق 33 سوالات �یں، وزیر مملکت داخل� ابھی تک ن�یں آئے، ی� سینیٹ ... مزید-پی آئی اے میں مالی بحران کے باعث کیبن کریو کو دو ما� کی ادائیگی ن�یں کی جاسکی ، جون 2017ء تک 3.2 ملین روپے �لائنگ الائونس کی مد میں دیئے گئے، دو ما� کے بقایا جات آئند� ایک ... مزید-پرویز مشر� کا بیان پیپلزپارٹی کے خلا� ساز ش �ے ،این اے 120 الیکشن میں ایک خاص �ضا بنائی گئی ،عوام بلاول بھٹو کے ساتھ �ے،جو ایم این اے بننے کا ا�ل ن�یں و� پارٹی صدارت کا بھی ... مزید

GB News

غیر فعال این جی اوز کیخلاف کریک ڈائون کامثبت فیصلہ

Share Button

ضلعی انتظامیہ نے گلگت میںغیر فعال این جی اوز کے خلاف کریک ڈائون کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیفالٹر اور آڈٹ رپورٹس جمع نہ کرانے والے این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی ۔کہا گیا ہے کہ سب ڈویژن گلگت میں رجسٹرڈ ہونی والی این جی اوز کا اگلے ایک ہفتے کے اندر ریکارڈ آڈٹ کیا جائے اور جانچ پڑتال کے بعد غیر فعال این جی اوز اور آڈٹ رپورٹس جمع نہ کرانے والے این جی اوز کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ۔اس مقصد کیلئے سوشل ویلفیئر آفیسر گلگت اور مجسٹریٹس پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو اگلے ایک ہفتے میں تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ اے سی گلگت کے پاس جمع کرائے گی جنکی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف باقاعدہ کارروائی کا آغاز کیا جائے گا ۔غیر فعال این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا فیصلے کو مستحسن قرار دیا جا سکتا ہے’کون نہیں جانتا کہ این جی اوز غیر سرکاری تنظیمیں ہوتی ہیں جو مخیر حضرات ذاتی خرچ یا ملکی و غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے چلاتے ہیں۔ ایسی تنظیموں کا مقصد لوگوں کی فلاح و بہبود ہوتا ہے اور یہ غیر منافع بخش ادارہ ہوتی ہیں لیکن اگر یہ اپنی تشکیل کے مقاصد پورے نہیں کرتیں تو ان کی رجسٹریشن کی منسوخی ہی واحد حل ہے ۔قانونی تقاضے پورے نہ کرنے، عرصہ دراز سے غیر فعال ہونے، سالانہ آڈٹ رپورٹ جمع نہ کروانے پر رجسٹریشن منسوخ کر دی جانی چاہیے ۔ابتدا میں انہیں شوکاز نوٹسز جاری کیے جائیں ان سے ان کی کارکردگی کی بابت پوچھا جائے ‘رجسٹریشن منسوخ کرنے کے بعد انہیں بحالی کی اپیل کا بھی کوئی حق نہ دیا جائے ۔یہ اطلاع بھی ہے کہ این جی اوز کی ایک بڑی تعداد درحقیقت کاروباری افراد کی جانب سے رجسٹرڈ کروائی گئی ہے۔ یہ تنظیمیں مبینہ طور پر ٹیکس سے نجات یا پھر غیر ملکی فنڈنگ کے حصول کے لیے کام کر رہی ہوتی ہیں۔ان کا موقف ہے کہ فلاحی کاموں کے لیے فنڈنگ رجسٹریشن کے فورا بعد ہی ملنا شروع نہیں ہو جاتی۔ اس کے لیے کارکردگی دکھانا ہوتی ہے۔ قومی و بین الاقوامی ادارے تنظیم کا کام دیکھ کر مذکورہ تنظیم کو فنڈنگ کرتے ہیں۔رجسٹریشن کے بعد فنڈنگ نہ ہونے اور محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے مالی امداد نہ ملنے کے باعث ان میں سے اکثر غیر فعال ہو جاتی ہیں اس لیے انہیں کچھ وقت ضرور دیا جانا چاہیے لیکن محض فنڈنگ کے انتظار میں فلاح و بہبود کی امید پہ چلنے والی این جی اوز کو کام کی اجازت بھی نہیں دی جانی چاہیے یہ کوئی جواز نہیں ہے کہ فنڈنگ ہو گی تو خدمت ہو گی اس کے لیے انہیں اپنے ذرائع بھی استعمال کرنا چاہیں تاکہ ان کے امور میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔اس نوع کی سکرونٹی کے بعد باقی بچ جانے والی تنظیموں کا کام اور کارکردگی جانچنے میں بھی آسانی ہو گی۔ہم جانتے ہیں کہ ملک بھر میں ہزاروں غیر فعال این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی ہے’کچھ عرصہ قبل وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے 350گھوسٹ غیر سرکاری تنظیموں این جی اوزکی رجسٹریشن منسوخ کی تھی۔ جن این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی،ان کی جانب سے جمع کرائے گئے کاغذات میں دفاتر کے جو پتے درج تھے وہاں سرے سے کوئی دفتر ہی موجود نہیں تھا۔جھوٹی اور بے بنیاد معلومات فراہم کی گئی تھیں اس لیے انہیںگھوسٹ قرار دے کر ان کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی۔قبل ازیں بھی اسلام آباد انتظامیہ قانونی تقاضے پوری نہ کرنے اور غیر فعال رہنے والی 121این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کر چکی ہے ۔دیگر صوبوں میں بھی بڑی تعداد میں رجسٹریشن منسوخ کی گئی’غیر ملکی اور ملکی این جی اوز کے مبینہ طور پر غیر قانونی کاموں میں ملوث ہونے، آڈٹ رپورٹس جمع نہ کرانے اور دیگر معاملات کی وجہ سے حکومت نے ان کی مانیٹرنگ کا آغاز کیا تھا اور مارچ 2016میں وزارت داخلہ نے 25بین الاقوامی تنظیموں کو رجسٹریشن کے نئے طریقہ کار سے کام کرنے کی اجازت دی تھی۔وزیر داخلہ چوہدری نثار نے رجسٹریشن کے نئے طریقہ کار سے متعلق بتایا تھا کہ بین الاقوامی این جی اوز حکومتی اجازت کے بغیر فنڈز جمع نہیں کرسکیں گی جبکہ ان کی آن لائن رجسٹریشن کی جائے گی۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت پنجاب حکومت نے بھی احکامات جاری کئے تھے کہ این جی اوز کی فنڈنگ، سرگرمیوں، مشن، اغراض و مقاصد اور سرگرمیوں کے دائرہ کار بارے رپورٹ تیار کی جائے اورغیرفعال این جی اوزکی رجسٹریشن منسوخ کی جائے ۔ صرف انہی رجسٹرڈ این جی اوز کو کام کرنے کی اجازت دی جائے جو انتظامیہ سے رابطہ میں رہتے ہوئے اپنی ماہانہ کارکردگی رپورٹ فراہم کریں اس سلسلے میں انتظامیہ اور این جی اوز کے مابین خوشگوار ورکنگ ریلیشن شپ قائم کیا جائے اور انتظامی افسران این جی اوز سے مکمل معاونت کو یقینی بنانے کے علاوہ ان کی کارکردگی پہ نگاہ رکھیں۔یہ درست ہے کہ عوامی فلاح وبہبود کیلئے جاری حکومتی اقدامات کی عوام تک رسائی میں این جی اوز کا کلیدی کردار ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تاہم این جی اوز کا سہارا لیکر دیگر غیر ضروری سرگرمیوں میں ملوث غیر فعال این جی اوز کو کام نہ کرنے دیا جائے۔پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد این جی اوز قائم ہیں۔ جو صوبا ئی اور ڈسٹرکٹ سطح پر غربت کے خاتمہ،تعلیم،صحت،ہنر مندی کی ٹریننگز اور دیگر منصوبوں پر کام کر رہی ہیں، پنجاب کی 7500 رجسٹر ڈ این جی اوز میں سے صرف 13 فی صدفعال ہیں،جبکہ باقی 6500 رجسٹرڈ این جی اوزکاکوئی ریکارڈ موجود نہیںہے ان این جی اوز کا کوئی آڈٹ اور کارکردگی کا ریکارڈ کہیں موجود نہیں، ان حالات میں ضروری ہے کہ این جی اوز کی ناقص کارکردگی اور غیر موثر مانیٹرنگ کے سسٹم کو بہتر بنانے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے۔گلگت بلتستان میں تو یہ اور بھی ضروری ہے کہ خطے کی حساسیت کی پیش نظر این جی اوز کے معاملے میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کیا جائے ان پہ کڑی نگاہ رکھی جائے اور ان کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کو تسلسل کے ساتھ یقینی بنایا جائے۔

Facebook Comments
Share Button