GB News

پانامہ کا فیصلہ اورحقیقی صورتحال

Share Button

پانامہ فیصلے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی آراء کا سلسلہ جاری ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف کے جاتے ہی ملک میں نہ صرف ہر شخص خواہ وہ امیر ہو یا غریب، نادار ہو یا فقیر انصاف اس کی دہلیز پر پہنچے گا سڑکیں سونے کی جبکہ دودھ کی نہریں اور شہد کے آبشاریں بہہ جائیں گی 1947ء سے اب تک کے تمام حکمرانوں، وزرائ، بیورو کریٹ اور ہر اس فرد کا احتساب ہوگا جس نے ملک کو کسی بھی طرح لوٹا ہوگا۔ سابق صدر آصف علی زرداری، ڈاکٹر عاصم حسین، شرجیل انعام میمن، ڈاکٹر بابر اعوان سمیت دیگر کے خلاف تیز تر انکوائری کرتے ہوئے مقدمات قائم کئے جائیں گے ۔ یقینا ایسا نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے سیاست دانوں کا مشن صرف اور صرف اپنی مخالف حکومت کو گرانا ہوتا ہے۔پاکستان میں 70 برسوں میں 23 سویلین وزیراعظم آئے’ چھ وزراء اعظم نگران اور 17 باقاعدہ وزیراعظم بنے’ ان17 وزراء اعظم میں سے کوئی بھی اپنی مدت پوری نہیں کر سکا’ اور ان میں سے کچھ لوگ خوفناک انجام کا شکار بھی ہوئے’خان لیاقت علی خان چار سال وزیراعظم رہے ‘ راولپنڈی میں شہید کر دیے گئے’ خواجہ ناظم الدین دو سال وزیراعظم رہے’ ہٹا دیے گئے اور باقی زندگی مشرقی پاکستان میں گمنامی میں گزار دی ‘ محمد علی بوگرہ سال سال کے دو دورانیے میں دو سال وزیراعظم رہے’ ہٹا دیے گئے اور خاموشی سے ڈھاکا میں فوت ہوگئے ‘چوہدری محمد علی ایک سال وزیراعظم رہے ہٹا دیے گئے اور باقی زندگی حسرت میں گزار دی’ حسین شہید سہروردی ایک سال وزیراعظم رہے’ ہٹا دیے گئے’ مایوس ہو کر وطن چھوڑا اور لبنان میں انتقال کر گئے’اسماعیل احمد چندریگر دو ماہ وزیراعظم رہے’ ہٹا دیے گئے اور مایوسی میں لندن میں فوت ہوئے’ فیروز خان نون دس ماہ وزیراعظم رہے’ ہٹا دیے گئے’ سیاست سے کنارہ کش ہوئے اور اپنے گاؤں نورپور نون میں انتقال کر گئے’ نور الامین 13 دن کے لیے وزیراعظم رہے’ ہٹا دیے گئے اور راولپنڈی میں گمنامی میں انتقال کر گئے’ ذوالفقار علی بھٹو پہلے تین سال سات ماہ وزیراعظم رہے پھر چار ماہ کے لیے وزیراعظم بنے’ ہٹائے گئے اور پھانسی چڑھا دیے گئے’ محمد خان جونیجو اڑھائی سال وزیراعظم رہے’ ہٹا دیے گئے اور مایوسی میں انتقال ہوا’ بے نظیر بھٹو دو بار وزیراعظم بنیں دونوں بار اڑھائی اڑھائی سال بعد ہٹا دی گئیں’ جلا وطن رہیں اور آخر میں شہید ہو گئیں’ میاں نواز شریف دو بار وزیراعظم بنے’ دونوں بار اڑھائی اڑھائی سال بعد ہٹا دیے گئے’ جلاوطن ہوئے’ واپس آئے’ تیسری بار وزیراعظم بنے تقریباً چار سال مکمل کر پائے اور اب وہ بھی گھر کو بھیج دیئے گئے اس وقت بھی قوم کو سنہرے خواب دکھائے گئے پر حکومت کے جاتے ہی ٹائیں ٹائیں فش تاہم عوام نے خوب بھنگڑے ڈالے اور اب تک ڈالے ہی جارہے ہیں اور نہ جانے کب تک ڈالتے رہیں گے کیونکہ ان کو سیاست دانوں نے نہ تو کو ئی نظریہ دیا ہے اور نہ ہی کوئی منشور جس پر عمل پیرا رہتے ہوئے طویل تر جدوجہد کے بعد وطن عزیز کو دنیا کا بہترین ملک بنا پائیں’کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی ۔
واضح رہے کہ اس کامیابی کا سہرا جو اپنے سر لے رہا ہے اس نے کیلی فورنیا کی عدالت میں اپنی بیٹی کا انکار کیا بعدازاں وہ ناجائز اولاد ثابت ہوئی جو کہ آج کل لندن میں اس کے بیٹوں کے ساتھ قیام پذیر ہے اور جس نے نذر گوندل ، ظفر گوندل ، فردوس عاشق اعوان اور نندی پور فیم بابر اعوان کو اپنا ساتھی بنارکھا ہے جن پر بے شمار کرپشن کے الزامات ہیں کیا وہ ملک میں کوئی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے یہ ایک سوال ہے جس کا جواب شاید کبھی نہ مل پائے

Facebook Comments
Share Button