تازہ ترین

Marquee xml rss feed

بلاول، بختاور اور آصفہ کی یادگارِ شہدائے کارساز پر حاضری جائے حادثہ پر دن بھر رہنماں اور کارکنوں کی آمد جاری رہی، سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے-سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارک باد-پاکستان میں بلیو وہیل جیسی ایک اور خطرناک گیم تیار کر لی گئی، کئی نوجوانوں کو نشانہ بنا دیے جانے کا انکشاف, امریکی ایجنسی کی اطلاع پر ایف آئی اے نے جوہر ٹاون سے نوجونواں ... مزید-وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی کی ملاقات آئندہ فروری میں کراچی میں پی ایس ایل کے 4 میچ کرانے پر اتفاق-ناگہانی صورتحال پر قابو پانے کیلئے بروقت ردعمل فیصلہ کن ہوتا ہے، شیخ انصر عزیز-اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے تحت آؤبدلیں پاکستان مہم کے دوسرے مرحلے تعلیم سے تعمیر پاکستان کے سلسلے میں (کل) تعلیمی ریفرنڈم ہوگا-امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق ہفتہ 26اکتوبر کو صوابی گرائونڈ میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کریں-مشال خان قتل کیس کا مرکزی گواہ اپنے بیان سے منحرف ہو گیا اگلی سماعت 25اکتوبر تک ملتوی گواہوں پر دبائو ڈالا جا رہا ہے وکیل کا الزام،معاملہ جلد ہائی کورٹ میں لے کر جائیں ... مزید-محنت کشوں کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کے مطابق اقدامات کررہے ہیں، صوبائی وزیر محنت سید ناصر حسین شاہ-پاکستان پیپلز پارٹی نے میڈیا کو ہمیشہ اہمیت دی اور صحافیوں کے مسائل حل کئے ہیں،وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ

GB News

گلگت بلتستان کیلئے اہم منصوبوں کی نوید

Share Button

وزیراعظم پاکستان شاہدخاقان عباسی نے سکردومیں گیس مکسنگ پلانٹ کے قیام کے لئے دوارب جبکہ سپیشل پولیس یونٹ کے لئے تین ارب روپے کی منظوری دی ہے یہ منظوری وزیراعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن اوروزیراعظم کی ملاقات میں دی گئی۔ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی سے ہونے والی پہلی ہی باضابطہ ملاقات میں وزیراعلی گلگت بلتستان کوتین اہم منصوبوں پرپیش رفت کی نوید ملی ہے۔ گلگت سکردوروڈپرکام کی رفتارکومزیدتیز کرنے کے لئے اقدامات کرنے کے لئے بھی وزیراعظم پاکستان نے احکامات جاری کئے ہیں۔ملاقات میں گلگت میں بننے والے پہلے کینسرہسپتال کی بابت سے بھی گفتگوہوئی۔وزیراعظم نے یقین دلایا کہ ہماری حکومت اس کینسرہسپتال کوبنانے کے لئے پرعزم ہے۔وزیراعلی نے مزید کہا کہ گلگت سکردوروڈکے تمام معاملات مکمل ہوچکے کام کاآغازبھی ہوچکا ہے مگروزیراعظم پاکستان اپنے دورے کے موقع پرنہ صرف کام کاجائزہ لیں گے بلکہ افتتاح بھی کریں گے۔وزیراعظم سے وزیراعلی کی حالیہ ملاقات میں گلگت بلتستان کیلئے جن منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے ان سے یقینا عوامی فلاح و بہبود اور امن وامان کے حالات میں بہتری آئے گی’امن وامان وقت کی اہم ترین ضرورت ہے سپیشل پولیس یونٹ کے قیام سے لامحالہ لوگوں میں تحفظ کا احساس بڑھے گا گلگت بلتستان سیاحتی اعتبار سے اہم ترین علاقہ ہے جہاں دنیا بھر کے سیاح آتے ہیں اس تناظر میں حفاظتی انتظامات کو موثر بنانے کی ضرورت کا احساس کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہماری سکیورٹی فورسز کاتحفظ میں بہت اہم کرداررہاہے۔پاکستانی فوج، نیوی ، ائرفورس، پولیس، رینجرز،ایف سی اورلیوی فورس وغیرہ نے ہر محاذ پر اپنی جانوں کانذرانہ پیش کرکے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایاہے۔کسی بھی ریاست کے لئے اندرونی اوربیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے سکیورٹی فورسز کابہت اہم کردارہوتاہے۔ یہ جان بازسپاہی قوم اورملک کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کرتے ہیں۔ یہ دن، رات، سردی،گرمی، بارش،طوفان،جنگ اورامن میں بہادری اورشجاعت کی داستانیں رقم کرتے ہیں۔قوم انکی خدمات کوقدرکی نگاہ سے دیکھتی ہے اورحکومت کی طرف سے انکی خدمات کے بدلے انہیں انعام واکرام اوردیگرمراعات سے نوازاجاتاہے۔ملک کے مختلف صوبوں میںدہشت گردی سے نمٹنے اوردہشت گردوں کے ممکنہ حملوں سے بچنے کے لئے سپیشل پولیس فورسز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے انکی ڈیوٹی کادورانیہ عام پولیس سے زیادہ رکھاگیااورتمام حساس مقامات پر انہیں تعینات کیاگیا۔شروع شروع میں سپیشل فورس پولیس اہلکاروں کی طرف حکومت کی عدم توجہ کایہ حال تھاکہ معاشرے میں عام لوگوں کے ہاتھوں انکی تضحیک ہوتی تھی اورانہیں مختلف ناموں سے پکاراجاتاتھا’ سپیشل فورس پولیس کے اہلکاراپنے فرائض خوب تندہی اوردیانت داری سے نبھاتے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے انکے لئے مراعات نہ ہونے کے برابرہیں۔حالیہ دہشت گردی کے تناظرمیں یہ وقت کی ضرورت ہے کہ زیادہ سے زیادہ سکیورٹی فورسز اہلکاروں کوبھرتی کیاجائے اورانہیں اچھی تنخواہیں اورپرکشش مراعات دی جائیں۔دوران حیات انکی خدمات کو سراہاجائے اورفرائض نبھاتے ہوئے وطن کی حفاظت کے لئے جام شہادت نوش کرنے کی صورت میں انکے بچوں کے مستقبل کے لئے انہیں شہیدپیکجز دئے جائیں۔اس طرح پولیس فورس کے بچوں کی تعلیم کے لئے خصوصی تعلیمی اداروں کاقیام اورسکالرشپ فراہم کرنابھی حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ تاہم یہ تمام مراعات ریگولربھرتی پولیس کے ساتھ ساتھ سپیشل فورس پولیس اہلکاروں کے لئے بھی مہیاکرنابہت زیادہ ضروری ہے۔مذکورہ فورس کی تربیت کے لیے فوج کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں علاوہ ازیں سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت عوامی شکایات کے ازالے کے نظام کو اولین ترجیح دینی چاہئے۔ تفتیش کے فرسودہ طریقہ کار کو چھوڑ کر سائئنسی بنیادوں پر تفتیش کے جدید طریقے اپنانے چاہئیں۔ جیو فینسنگ کی سہولیات اور ملزمان کے ڈیٹا تک فوری رسائی کے لئے تفتیشی افسران کے پاس جدید آلات کی موجودگی از حد ضروری ہے۔ ضلعی سطح پرکرائم سین یونٹ قائم ہونے چاہئیں۔تفتیش کاروں کیلئے ایسا ہدایت نامہ تیار کیا جائے جس میں ہر جرم کے پہلوئوں کی چیک لسٹ اور ان کیلئے مطلوبہ شہادتوں کو درج کیا جائے۔ ضلعی سطح پر ایسی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو بریت اور ضمانتوں کا جائزہ لیں تا کہ تفتیش کاروں کو عدالتوں کے بتائے جانے والے نقائص کا پتہ چل سکے ۔بد عنوان اور نا قابل اصلاح پولیس اہلکاروں سے نجات حاصل کی جائے ۔ پولیس اہلکاروں کیلئے بڑے پیمانے پر از سرنو تربیت اور رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ موزوں جائزے کے ذریعے تربیتی کورس کو از سرِ نو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس اہلکاروں کے گھر والوں کے لئے شہروں، ضلعوں اور سٹیشنوں میں جہاں کہیں ان کی تعیناتی ہو موزوں پولیس رہائش گاہیں قائم کی جانی چاہیں۔ اہلکاروں کے کام کے اوقات میں بہتری لائی جائے یعنی آٹھ گھنٹوں کی ایک شفٹ اور ہفتہ وار چھٹی’ نقل حرکت کی سہولیات اور دیگر فلاحی اقدامات اٹھائے جانے چاہیں تاکہ کارکردگی میں اضافہ ہو۔

Facebook Comments
Share Button