تازہ ترین

Marquee xml rss feed

پاک افغان سرحدی علاقے میں ایک اور امریکی ڈرون حملہ، 2 خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کر دیے جانے کی اطلاعات-مستونگ کے مرکزی بازارمیں دھماکے کی اطلاع-آرمی چیف کا آرمی میڈیکل سنٹرایبٹ آباد کا دورہ،ڈاکٹرزاورمیڈیکل سٹاف کی تعریف یاد گارشہداء پرحاضری اور پھول بھی چڑھائے،دہشتگردکی جنگ میں آرمی میڈیکل کورنے قیمتی جانیں ... مزید-طارق فضل چوہدری کی طرف سے وفاقی دارالحکومت میں ایمبیسی روڈ پر درختوں کی کٹائی کا نوٹس لینے پر سی ڈی اے نے رپورٹ پیش کر دی-عمران خان سیاست میں اناڑی ہیں، انہیں آرام کی ضرورت ہے ،ْ دانیال عزیز فرد جرم عائد ہونے کے بعد نیب ٹیم کون سے ثبوت تلاش کرنے کے لئے لندن گئی ہوئی ہے ،ْ میڈیا سے گفتگو ... مزید-وزیر اعظم کی قندھار میں افغان سکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملہ کی سخت مذمت-ایف آئی اے کی جدید بنیادوں پر تنظیم کی جائے،نئی ٹیکنالوجی سے جرائم پر قابو پانے کی صلاحیت حاصل کی جائے، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے موثر اور عملی اقدامات اٹھائے ... مزید-وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے نیب کو کرپٹ ترین ادارہ قراردے دیا نیب کرپشن ختم کرنے کی بجائے کرپشن کا گڑھ بن چکا،مشرف اور بعد کے ادوارمیں نیب کو سیاسی مقاصدکیلئے استعمال ... مزید-سیکرٹری وزارتِ انسداد منشیات اقبال محمود کا اے این ایف ہیڈکوارٹر راولپنڈی کا دورہ-ن لیگ خیبرپختونخواہ دوست محمد خان نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا

GB News

سکردو میں سود کا کاروبار تشویشناک حد تک عروج پرپہنچ گیا

Share Button

سکردو(خصوصی رپورٹر)سکردو میں سود کا کاروبار تشویشناک حد تک عروج پرپہنچ گیا ۔حکومت علماء اورسوسائیٹی کی خاموشی کافائدہ سودمافیا لے رہا ہے اور پورے بلتستان میں درجنوں لوگ اپنی جمع پونجی گھر اورجائیدادسے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔کے پی این نے سودی کاروبارکے بارے میں کھوج لگائی تو حیران کن انکشافات سامنے آئے۔بعض متاثرین جو سودی مافیا کے ہاتھوں اپناگھر اور جائیدارسے بھی ہاتھ دھوبیٹھے تھے نے سارے حقائق سامنے رکھ دیئے۔ایک متاثرہ شخص جس کاتعلق شگری کلاں سے بتایاجاتا ہے نے چندسال قبل سودپر4لاکھ روپے سود پرقرضہ لیا اورانہی کے ہاتھوں لٹ گیا۔گھر بیچ کرجان چھڑائی اور وہ اس وقت بے گھر ہے اور اسلام آباد منتقل ہوچکا ہے۔روندوسے تعلق رکھنے والے ایک اورمتاثرہ شخص بھی سامنے آگیا۔اس نے بتایا کہ دوسال قبل انہوں نے10لاکھ روپے سودپر قرضہ لیا۔سودی کاروبار والوں کو3لاکھ15فیصدکے حساب سے سوددیناپڑتا تھا۔ اس کے لئے اسٹامپ پیپرپرباقاعدہ دستخط کرائے گئے اورگھر کو بھی گروی رکھ دیا۔متاثرہ شخص نے2سال میں10کی بجائے20لاکھ روپے واپس کردیا لیکن قرضہ پھر بھی پورانہیں ہوا۔2ماہ قبل سودی مافیا نے ان کے مکان پر قبضہ کرلیا اور کرایہ پر چڑھادیا۔اب اس کے ذاتی گھرکاکرایہ بھی وہ لوگ وصول کررہے ہیں۔دوایسے متاثرین کے بارے میں بھی پتہ چلا ہے کہ انہوں نے4لاکھ قرضہ لیاتھا اب10لاکھ تک پہنچ گیا ہے اوران کی جائیدادپرقبضہ کیاجارہا ہے۔اسی طرح کے درجنوں لوگ ہیں جوسودی مافیا کے ہاتھوں لٹ چکے ہیں۔ کے پی این نے جب تحقیقات کی تو بڑے بڑے لوگوں کے نام سامنے آگئے جو اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔سودکے کاروبار سے وابستہ یہ مافیا کروڑوں میں کھیل رہا ہے۔ان لوگوں نے باقاعدہ طورپر غیراعلانیہ دفترکھول رکھے ہیں اورساتھ ہی پورانیٹ ورک ہے۔ ریکوری کے دوران یہ لوگ قرضہ لینے والوں کوہراساں کرتے ہیں ریکوری نہ ہونے کی صورت میں گھر،دکان یاجائیدادپرقبضہ کرنے کے لئے غنڈوں کی فوج بنارکھی ہے۔ درجنوں ایسے لوگوں کے بارے میں بتایاجارہا ہے کہ ان کے کاروبار،دکانیں اورجائیدادسودی مافیا کے ہاتھوں لٹاچکے ہیں۔ بتایاگیا کہ سودپرقرضہ لینے کے لئے ایجنٹوں سے ہوکر گزرناپڑتا ہے۔ اگر کوئی ایک لاکھ روپے سودپر قرضہ لیتا ہے توایجنٹ اپناکمیشن نکال کر80ہزار روپے آگے متعلقہ شخص کودیتا ہے۔ایک لاکھ روپے پر30ہزارتک ماہانہ سودوصول کیاجارہا ہے۔20سے25ہزارروپے فی لاکھ سودعام ہے جبکہ مجبوری کی صورت میں30ہزارروپے فی لاکھ ماہانہ پرسوددیاجاتا ہے۔سکردومیں سود کے اس نیٹ ورک میں بڑے بڑوں کے نام لیے جارہے ہیں۔پٹواری اورقانون گوکو بھی ساتھ ملاکررکھا ہوا ہے تاکہ زمین پرقبضہ کرنے کے بعدقانونی رکاوٹوں کو دورکیاجاسکے۔ حیران کن طورپرمعاشرے کی خاموشی نے مافیا کاحوصلہ بڑھادیا اور وہ آزادانہ طورپر یہ دھندہ جاری رکھا ہوا ہے۔سکردومیں سیاستدان،پولیس سے لیکرعلمااورعام شخص تک سب کومعلوم ہے کہ سودی کاروبار کی لعنت کس حد تک پھیل رہی ہے اورکون لوگ اس دھندے میں ملوث ہیں۔مگر ہرطرف سے خاموشی سے مافیا کوکھلی آزادی ملی۔واضح رہے کہ26اپریل2017کوقانون سازاسمبلی میں سود کے کاروبارکے خلاف باقاعدہ بل بھی پاس کیاگیا جس کے تحت سودکا کاروبار کرنے والوں کو3سے7سال قید اور5لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔قرض داروں کوہراساں کرنے کی صورت میں5سال قیداور3لاکھ جرمانے کی سزاہوگی۔تاہم اس قانون کواسمبلی سے منظورہوئے4مہینے پوراہونے کو ہیں لیکن عملی طورپرقانون کانفاذنہ ہوسکا نہ ہی بل کی منظوری سے سود کے کاروبار پرکوئی فرق پڑا۔

Facebook Comments
Share Button