GB News

ن) لیگ ملکی قوانین میں تبدیلی کیلئے چیئر مین سینٹ کا مکمل ساتھ دیں گی ‘ نوازشر یف

Share Button

لاہور(آئی این پی) سابق وزیر اعظم نوازشر یف نے چیئر مین سیٹ رضا ربانی کی تجویز کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہاکہ(ن) لیگ ملکی قوانین میں تبدیلی کیلئے چیئر مین سینٹ کا مکمل ساتھ دیں گی ‘ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے ملک کے آئین اور نظام کو بدلنا ہوگا اسکے بغیر پاکستان دنیا میں تماشہ ہی بنا رہیگا ‘ میں ڈرتا نہیں ہوں ، مجھے اپنی جان اور اقتدارکی پرواہ نہیں ہے’ جب تک اس ملک کی تقدیر نہیں بل جاتی میں سکون سے نہیں بیٹھوں گا،مجھے لالچ ہے تو صرف ملک کی تقدیر بدلنے کی’عوام مجھ سے وعدہ کر یں وہ انقلاب بر پا کر نے کیلئے میرے ساتھ دیں گے ‘ پاکستان کی ترقی کا جو دشمن ہیں انکے خلاف جرات کے ساتھ پاکستان کے عوام کو سٹینڈلینا ہوگا پاکستان 1971میں دولخت ہو چکا ہے اللہ نہ کریں ایسادوبار ہوجائے’پاکستان کے 30سال فوجی ڈکیٹیرکھا گائے اس ملک میںو زراء اعظم کے کبھی مدت پوری نہیں کر نے دی گئی ‘جہاں ترقی ہوتی ہے وہاں ”وہ ”وزیر اعظم کو ہٹادیتے ہیں میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو بھی کہنا چاہتا ہوں بچو بچو’پاکستان میں معاشی ‘معاشرتی ‘سماجی اور عدالتی انصاف نہیں ہم ملک میں ایسا انصاف کا نظام لائیں گے جہاں لوگوں کو90روز میں ہی عدالتوں سے انصاف ملے گا ‘میرے خلاف بات پانامہ سے شروع ہوئی اور اقامے پر مجھے نااہل کر دیا ہے یہ بات کسی کو سمجھ نہیں آتی اور آج پاکستان کا بچہ بچہ اسکے خلاف سراپا احتجاج ہے ۔وہ ہفتے کی شام اپنی ریلی کے ہمراہ داتا دربار پہنچے پر جلسے سے خطاب کر رہے تھے جبکہ اس موقعہ پر وزیر اعلی شہبازشر یف ‘وفاقی وزراء خواجہ آصف ‘احسن اقبال ‘خواجہ سعد رفیق ‘پر ویز ملک ‘وزیر اعلی بلو چستان ثناء اللہ زہری ‘وزیر اعظم آزاد کشمیرسمیت لاکھوں کارکنان بھی موجود تھے ۔ میاں نوازشر یف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ سراپا احتجا ج ہے کہ نوازشریف کو کیسے نااہل کر دیا ہے وہ کہتے ہیں وہ کون سے لوگ ہیں جنہوں نے نوازشر یف کو اہل کیا ہے ؟کیا وہ اہل ہے جو ایک دن کہتے ہیں نوازشر یف نے کوئی کرپشن نہیں کی اور کک بیک او ر رشوت نہیں لی اور دوسرے دن ہی یہ کہہ کرنااہل کر دیتے ہیں کہ نوازشر یف نے اپنے بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی کیا آپ کو یہ سمجھ آتی ہے اگرتنخواہ نہیں لی تو نہیں لی آپ کیا ہے ؟قوم دیکھ لیں آپ کے وزیر اعظم کیساتھ یہ سلوک ہوتا ہے اور70سالوں سے ایسا ہورہا ہے کیا یہ پاکستان بدلے گا یا نہیں بدلے گا 2013میں عوام نے مجھے ووٹ دیئے اور کہا کہ نوازشر یف پنکھا اور لائٹ نہیں جلتی اور چولہا نہیں جلتا آج پوری قوم دیکھ لیں آج سب کچھ چل رہا ہے اور ملک میں گیس بھی آنا شروع ہو چکی ہے لاہور میںمیٹرو کے بعد اورنج ٹرین بھی آرہی ہے اور غریب کی بیٹی آرام سے میٹرو میں سفر کر کے سکول اور دفتر لوگ جاتے ہیں اور آج اللہ کے فضل کرم سے سڑکیں بن رہی ہے ترقی عروج ہے اور ملک میں امن قائم ہو چکا ہے عوام نے مجھے کہاں تھا امن قائم کر نا ہم نے امن قائم کر دیا ہے جب اتنے اچھے کام ہوتے ہیں تو وزیر اعظم کیساتھ یہ سلوک ہوتا ہے ہمیں یہ کسی صورت قبول نہیں ملک میں3ڈکٹیٹر ملک کے 30سال کھا گئے اور وزراعظم کو ڈیڑھ سال بعد ہی فارغ کردیا جاتا ہے یہ کسی صورت نہیں ملک میں چلنے دیا جائیگا اور لوگوں کا جو جذبہ دیکھ رہا ہے وہ انقلاب کا پیش خیمہ ہے اگر ملک میں یہ انقلاب نہ آیاتو غر بت ‘مہنگائی ‘بے روزگاری اور ترقی نہیں آئیگی پاکستان میں عوام کے ووٹ کی کوئی قدر نہیں عوام ووٹ دیتے ہے اور چند لوگ وزیر اعظم کے گھر بیج دیتے ہیں کیا پاکستان میں آنیوالے تمام وزراعظم ٹھیک نہیں تھے ؟یہ کون ہے جو پاکستان کے ساتھ اتنا بڑ اظلم کرتے ہیں انکا احتساب ہونا چاہیے یا نہیں ؟جنہوں نے پاکستان کے ساتھ70سالوں سے یہ کھیل کھیلا اور تماشہ کیا ہے انکا احتساب ہونا چاہیے یا نہیں انکو احتساب ضرور ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دن رات کام کیا ہے اور ملک میں بجلی آئی ہے بجلی ایسے ہی نہیں آئی بلکہ ہم نے اس کیلئے اپنا خود پیسنا دیا ہے پاکستان کی ترقی کا کون دشمن ہیں انکے خلاف جرات کے ساتھ پاکستان کے عوام کو سٹینڈلینا ہوگا پاکستان 1971میں دولخت ہو چکا ہے اللہ نہ کریں ایسا دوبار ہوجائے مجھ اس سے بہت ڈر لگتا ہے ۔ انہوں نے قوم سے سوال کر تا ہوں کہ یہ کون سا سال 2017اور ہم کب آئے تو2013تھا کیا آج کاپاکستان پہلے سے بہتر ہے یا نہیں اگر بہتر ہوتا ہے تو نوازشر یف کو شاباش ملنی چاہی تھی یا سزا ملنی چاہیے تھی یا مجھے نااہل کر دینا چاہیے چند افراد کی اجار اداری کو اس ملک سے ختم ہونا چاہیے ۔ نوازشر یف نے جلسے گاہ میں گو عمران گو کے نعروں پر کہا کہ آپ جو کہہ رہے ہیں وہ سن رہا ہے او ر جو آپ کہہ رہے ہے وہ ہی ہوگا ہم نے قوم سے تمام وعدے پورے کیے ہیں اور عوام سے کہتاہوں کہ عوام کے ووٹ کا تحفظ کروں گا مجھے اپنی جان کی پروا نہیں کیونکہ میری جان آپ عوام ہے نوازشر یف جو کہتا ہے وہ کر تا ہے میں نے کبھی آپ کو دھوکا نہیں دیا میں جو کہتاہوں وہ کر تا ہے اس ملک میں دھر نے ہوتے رہے ہیں مگر اس کے باوجود ملک میں ترقی وخوشحالی آجائے بجلی گیس اور ترقی آجاتی ہے تو ملک اگر دھرنوں کے تماشے نہ ہوتے تو نہ جانے پر ہم آج کہاں کے کہاں ہوتے مجھے اقتدار کی کوئی لالچ نہیں مجھے لالچ ملک کی عوام کی ترقی اور خوشحالی کی لالچ ہے اگر ملک میںیہی ترقی رہتی تو آئندہ چند سالوں میں ملک میں کوئی بے روزگار نہ ہوتا میں ڈرنے والا نہیں ہوں جبکہ تک ملک کی تقدیر نہیں بدل دیتا میں اس وقت تک گھر میں نہیں بیٹھوں گا ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے نظام کو بدلنا ہوگا اس ملک نظام میں وائر س آچکا ہے ہمیں اس کون ٹھیک کر نا ہوگا پھر ہی دنیا میں پاکستان کی عزت اور وقار نہیں رہیگا آج جو کچھ اس ملک میں ہورہا ہے ہم دنیا کو کہیں منہ دکھانے کے قبل نہیں ہیں اگر ملک میں تقدیر بدلے تو ملک میں ترقی خوشحالی آئیگی۔

Facebook Comments
Share Button