تازہ ترین

Marquee xml rss feed

نگران وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری کی زمبابوے کے خلاف دوسرا ون ڈے میچ جیتنے پر قومی کرکٹ ٹیم کو مبارکباد-لیگی رہنما و سابق وفاقی وزیر برجیس طاہر مریم نواز کا ذکر کر کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے رات کو نیند نہیں آتی،میرا دل روتا ہے ،اتنا بڑا ظلم ہوا ہے،برجیس طاہر کارکنان سے خطاب ... مزید-انصاف پرمبنی معاشرہ ملک کی سماجی ، معاشرتی اور اقتصادی ترقی کیلئے ایک ناگزیر ستون ہے، نگران وزیر اعلی پنجاب جن معاشروں میں انصاف ناپید ہوجاتا ہے وہ معاشرے بالآخر دنیا ... مزید-نگران وزیراعلیٰ پنجاب کا ملتان کے ہوٹل میں سلنڈر دھماکے کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اورافسوس کا اظہار-نگران وزیراعلیٰ سے نگران صوبائی وزیر داخلہ کی ملاقات،ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد کیے جانیوالے اقدامات پر تبادلہ خیال ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پربلاتفریق کارروائی جاری ... مزید-نگران وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری سے نگران صوبائی وزیر ہائوسنگ سعیداللہ بابرکی ملاقات بارش کے پانی کو بعد میں استعمال کے قابل بنانے کیلئے تیزی سے درست سمت میں کام ... مزید-چینی صدر کی پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کی شدید مذمت ، قیمتی جانی نقصا ن پراظہار افسو س، متاثرہ خاندانوں سے گہری ہمدردی کااظہار چینی عوام اپنے پاکستانی بھائیوں ... مزید-سی پیک منصوبہ عوام کے معیار زندگی کو بہتر کرنے میں گیم چینجر منصوبہ ثابت ہوگا، منصوبہ سے مختلف خطوں کے مابین رابطہ سازی بہتر ہوگی ، پاکستان میں انفراسٹرکچرکی بہتری ... مزید-شہباز شریف نے نواز شریف کے ساتھ بہت بڑ ی گیم کھیلی ، بھائی سے کہا لاکھوں لوگ آپ کے استقبال کیلئے آئیں گے ، 5ہزار لوگ بھی نواز شریف کو لینے ائیر پورٹ نہ پہنچے ،ہم نے کے ... مزید-جہانگیر ترین نے عمران خان کیخلاف بغاوت کردی جہانگیر ترین خان ناراض کارکنوں کو منانے کبیروالا پہنچ گئے، نظریاتی کارکنوں کے کنونشن سے خطاب ،رضا حیات ہراج کو ٹکٹ دینے ... مزید

GB News

شاہراہِ قراقرم دنیا کا آٹھواں عجوبہ

Share Button

شاہراہ قراقرم -محض ایک سڑک نہیں !

اس عظیم الشان سڑک کی تعمیر کا آغاز 1966 میں ہوا اور تکمیل 1978 میں ہوئی۔ شاہراہ قراقرم کی کُل لمبائی 1,300 کلومیٹر ہے جسکا 887 کلو میٹر حصہ پاکستان میں ہے اور 413 کلومیٹر چین میں ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان میں حسن ابدال سے شروع ہوتی ہے اور ہری پور ہزارہ, ایبٹ آباد, مانسہرہ, بشام, داسو, چلاس, جگلوٹ, گلگت, ہنزہ نگر, سست اور خنجراب پاس سے ہوتی ہوئی چائنہ میں کاشغر کے مقام تک جاتی ہے۔

Rare Picture of Karakorum Highway During Construction : Source Internet

اس سڑک کی تعمیر نے دنیا کو حیران کر دیا کیونکہ ایک عرصے تک دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں یہ کام کرنے سے عاجز رہیں۔ ایک یورپ کی مشہور کمپنی نے تو فضائی سروے کے بعد اس کی تعمیر کو ناممکن قرار دے دیا تھا۔ موسموں کی شدت, شدید برف باری اور لینڈ سلائڈنگ جیسے خطرات کے باوجود اس سڑک کا بنایا جانا بہرحال ایک عجوبہ ہے جسے پاکستان اور چین نے مل کر ممکن بنایا۔

Rare Picture of Karakorum Highway During Construction : Source Internet

ایک سروے کے مطابق اس کی تعمیر میں 810 پاکستانی اور 82 چینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ کے مطابق شاہراہ قراقرم کے سخت اور پتھریلے سینے کو چیرنے کے لیے 8 ہزار ٹن ڈائنامائیٹ استعمال کیا گیا اور اسکی تکمیل تک 30 ملین کیوسک میٹر سنگلاخ پہاڑوں کو کاٹا گیا۔

ہم چار دوستوں نے کچھ دن قبل خنجراب پاس سے حسن ابدال تک اس شاہراہ کے پاکستانی 887 کلومیٹر والے حصے پر سفر کا شرف حاصل کیا جو کہ ہماری زندگی کا بہترین سفر تھا۔
یہ شاہراہ کیا ہے؟ بس عجوبہ ہی عجوبہ!
کہیں دلکش تو کہیں پُراسرار, کہیں پُرسکون تو کہیں بل کھاتی شور مچاتی, کہیں سوال کرتی تو کہیں جواب دیتی۔۔۔۔۔

یہ سڑک اپنے اندر سینکڑوں داستانیں سموئے ہوئے ہے, محبت, نفرت, خوف, پسماندگی اور ترقی کی داستانیں!!
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ
“انقلاب فکر و شعور کے راستے آیا کرتے ہیں لیکن گلگت بلتستان کا انقلاب تو سڑک کے راستے آیا”

شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے آپ کا تجسس بڑھتا ہی جاتا ہے کبھی پہاڑوں کے پرے کیا ہے یہ دیکھنے کا تجسس تو کبھی یہ جاننے کا تجسس کہ جب یہ سڑک نہیں تھی تو کیا تھا؟ کیسے تھا؟ اسی سڑک کنارے صدیوں سے بسنے والے لوگوں کی کہانیاں سننے کا تجسس تو کبھی سڑک کے ساتھ ساتھ پتھروں پر سر پٹختے دریائے سندھ کی تاریخ جاننے کا تجسس !!

قراقرم ہائی وے سے دریا سندھ کا خوبصورت منظر: فوٹو سید مہدی بخاری

شاہراہ قراقرم کا نقطہ آغاز ضلع ہزارہ میں ہے جہاں کے ہرے بھرے نظارے اور بارونق وادیاں “تھاکوٹ” تک آپ کا ساتھ دیتی ہیں۔
تھاکوٹ سے دریائے سندھ بل کھاتا ہوا شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ جگلوٹ تک چلتا ہے پھر سکردو کی طرف مُڑ جاتا ہے۔
تھاکوٹ کے بعد کوہستان کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے جہاں جگہ جگہ دور بلندیوں سے اترتی پانی کی ندیاں سفر کو یادگار اور دلچسپ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔کوہستان کے بعد چلاس کا علاقہ شروع ہوتا ہے جوکہ سنگلاخ پہاڑوں پر مشتمل علاقہ ہے۔ چلاس ضلع دیا میر کا ایک اہم علاقہ ہے اسکو گلگت بلتستان کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ ناران سے بذریعہ بابو سر ٹاپ بھی چلاس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ چلاس کے بعد شاہراہ قراقرم نانگا پربت کے گرد گھومنے لگ جاتی ہے اور پھر رائے کوٹ کا پُل آجاتا ہے یہ وہی مقام ہے جہاں سے فیری میڈوز اور نانگا پربت بیس کیمپ جانے کے لیے جیپیں کرائے پر ملتی ہیں۔

قراقرم ہائی وے سے نانگا پربت کا خوبصورت منظر : تصویر: زیارت پاکستان

رائے کوٹ کے بعد نانگا پربت, دریائے سندھ اور شاہراہ قراقرم کا ایک ایسا حسین امتزاج بنتا ہے کہ جو سیاحوں کو کچھ وقت کے لیے خاموش ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔

اس کے بعد گلگت ڈویژن کا آغاز ہوجاتا ہے جس کے بعد پہلا اہم مقام جگلوٹ آتا ہے جگلوٹ سے استور, دیوسائی اور سکردو بلتستان کا راستہ جاتا ہے۔ جگلوٹ کے نمایاں ہونے میں ایک اور بات بھی ہے کہ یہاں پر دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلے کوہ ہمالیہ, کوہ ہندوکش اور قراقرم اکھٹے ہوتے ہیں اور دنیا میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تین بڑے سلسلے اکھٹے ہوتے ہوں۔

تین عظیم پہاڑی سلسلوں کا سنگم : تصویر: ٹور اینڈ ٹریول

جگلوٹ کے بعد شمالی علاقہ جات کے صدر مقام گلگت شہر کا آغاز ہوتا ہے جو تجارتی, سیاسی اور معاشرتی خصوصیات کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ نلتر, اشکومن, غذر اور شیندور وغیرہ بذریعہ جیپ یہیں سے جایا جاتا ہے۔
گلگت سے آگے نگر کا علاقہ شروع ہوتا ہے جس کی پہچان راکا پوشی چوٹی ہے۔ آپکو اس خوبصورت اور دیوہیکل چوٹی کا نظارہ شاہراہ قراقرم پر جگہ جگہ دیکھنے کو ملے گا۔
نگر اور ہنزہ شاہراہ قراقرم کے دونوں اطراف میں آباد ہیں۔ یہاں پر آکر شاہراہ قراقرم کا حُسن اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے میرا نہیں خیال کہ شاہراہ کے اس مقام پر پہنچ کر کوئی سیاح حیرت سے اپنی انگلیاں دانتوں میں نا دباتا ہو۔ “پاسو کونز” اس بات کی بہترین مثال ہیں۔
ہنزہ اور نگر کا علاقہ نہایت خوبصورتی کا حامل ہے۔ بلند چوٹیاں, گلیشیئرز, آبشاریں اور دریا اس علاقے کا خاصہ ہیں۔ اس علاقے کے راکاپوشی, التر, بتورہ, کنیانگ کش, دستگیل سر اور پسو نمایاں پہاڑ ہیں۔

(تصویر: باسط علی)       قراقرم ہائی وے اورراکاپوشی کا خوبصورت منظر    (تصویر: محمد اکرم اطاری)

عطاآباد کے نام سے 21 کلومیٹر لمبائی رکھنے والی ایک انتہائی دلکش جھیل بھی ہے جو کہ پہاڑ کے گرنے سے وجود میں آئی۔

قراقرم ہائی وے سےعطا آباد جھیل کا خوبصورت منظر تصویر: باسط علی

ہنزہ کا علاقہ “سست” پاک چین تجارت کے حوالے سے مشہور ہے اور یہ چائنہ سے درآمد اشیاء کی مارکیٹ ہے۔
سست کے بعد شاہراہ قراقرم کا پاکستان میں آخری مقام خنجراب پاس آتا ہے۔
سست سے خنجراب تک کا علاقہ بے آباد, دشوار پہاڑوں اور مسلسل چڑھائی پر مشتمل ہے۔ خنجراب پاس پر شاہراہ قراقرم کی اونچائی 4,693 میٹر ہے اسی بنا پر اسکو دنیا کے بلند ترین شاہراہ کہا جاتا ہے۔ خنجراب میں دنیا کے منفرد جانور پائے جاتے ہیں جس میں مارکوپولو بھیڑیں, برفانی چیتے, مارموٹ, ریچھ, یاک, مارخور اور نیل گائے وغیرہ شامل ہیں۔
اسی بنا پر خنجراب کو نیشنل پارک کا درجہ مل گیا ہے۔

Pak-China Border Khunjarab Pass (4,693 metre)

 

Khunjarab National Park (Photo: Suliman Sherani)

اس سڑک پر آپکو سرسبز پہاڑوں کے ساتھ ساتھ پتھریلے و بنجر پہاڑی سلسلے اور دیوقامت برفانی چوٹیوں, دریاؤں کی بہتات, آبشاریں, چراگاہیں اور گلیشیئر سمیت ہر طرح کے جغرافیائی نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں جو نا صرف آپکا سفر خوبصورت بناتے ہیں بلکہ آپ کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔

Passu Glacier from Karakorum Highway (Photo: SM Bukhari)

 

محض ایک سڑک نہیں ہے
بلکہ یہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے,
یہ تہذیب و تمدن کی امین ہے, یہ پسماندگی سے نکلنے کا زریعہ ہے, یہ ہر سال ہزاروں سیاحوں کی سیاحت کی پیاس بجھانے کا آلہ کار ہے, یہ محبت و دوستی کی علامت ہے, یہ سینکڑوں مزدوروں کے لہو سے سینچی وہ لکیر ہے جس نے پورے گلگت بلتستان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنیوں کے سفر پر ڈالا۔
بلاشبہ یہ شاہراہ ایک شاہکار ہے۔

تحریر

Facebook Comments
Share Button