تازہ ترین

Marquee xml rss feed

مشیرِوزیراعظم کا اختیارات سے تجاوز؛ اہل خانہ کا رعایتی ٹکٹوں پرمختلف ممالک کا مفت سفر-ہیواوے نے نیا چار کیمروں والا انتہائی سستا اسمارٹ فون متعارف کرا دیا-دوسری شادی کرنیوالے شوہر کو6ماہ قید و ایک لاکھ جرمانے کی سزا-گوجرخان، وارڈ نمبر 14صندل روڈ پر قتل کی واردات ، 36سالہ شخص کی لاش گھر سے بر آمد-گوجرخان، ہونہار طالب علم حسیب بٹ کا اعزاز-گوجرخان، گورنمنٹ امجد عنایت جنجوعہ شہید ہائی سکول بھاٹہ کا اعزاز-گورنمنٹ بوائز ہا ئی سکول زرعی فارم راولپنڈی کے ہونہار طالب علم حیان علی خان کی مقابلہ حسن قرائت میں راولپنڈی ڈویژن میں پہلی پوزیشن-مرکزی قبرستان کی سڑک کی تعمیر کیلئے فنڈزفراہم کرنے پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبر حافظ احمد رضا قادری ایڈووکیٹ کا شکریہ-ْلاہور کے احتجاجی جلسے میں عمران خان او رشیخ رشید نے جو پارلیمنٹ کیخلاف بازاری اور گھٹیا زبان استعمال کی،شدید مذمت کرتے ہیں،پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے وا لے اسی پارلیمنٹ ... مزید-سپریم کورٹ کے حکم پر میونسپل کارپوریشن مری نے آپریشن کیلئے تیاریوں کو حتمی شکل دے دی

GB News

پاکستان پر دبائو ڈالنے سے منفی اثرات مرتب ہوں گے، روس،چین

Share Button

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے حوالے سے چین کے بعد روس بھی پاکستان کی حمایت میں میدان میں آگیا، روسی صدر کے افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کی پاکستان کے حوالے سے حکمت عملی درست نہیں ،پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے اس پر دبائو بڑھانا خطے کو غیر مستحکم کرسکتا ہے،پاکستان کے تعاون اور مرضی کے بغیر خطے میں استحکام بہت مشکل ہوگا،دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بھی نئی افغان پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے مقاصد فوجی حل کے ہیں، نئی امریکی حکمت عملی آئی ایس آئی ایل کی افغان شاخ کے خطرے کی مناسب طریقے سے عکاسی نہیں کرتی جو افسوسناک ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر کی الزام تراشیوں کے بعد چین کے بعد روس بھی پاکستان کی حمایت میں بول اٹھا۔روسی صدر کے افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے امریکی پالیسی پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ کی پاکستان کے حوالے سے حکمت عملی درست نہیں ،پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے ،پاکستان پر دبائو بڑھانا خطے کو غیر مستحکم کرسکتا ہے ۔ضمیر کابلوف نے کہاکہ پاکستان کے خلاف اس طرح کے بیان سے افغانستان پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔پاکستان کے تعاون اور مرضی کے بغیر خطے میں استحکام بہت مشکل ہوگا۔ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروفا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے محسوس کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 21اگست کو اعلان کردہ نئی افغان پالیسی میں افغان مسئلے کے فوجی حل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے خاص طورپر غیر ملکی افواج کی تعداد میں اضافہ کرکے ۔ترجمان کا کہنا تھاکہ نئی امریکی حکمت عملی آئی ایس آئی ایل کی افغان شاخ کے خطرے کی مناسب طریقے سے عکاسی نہیں کرتی جو افسوسناک ہے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر کے بیان پر چینی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کو بہترین دوست سمجھتے ہیں اور دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی، معاشی اور سکیورٹی کے حوالے سے گہرے روابط ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول محاذ پر ڈٹا ہوا ہے، جس میں اس نے بے شمار قربانیاں دیں اور اہم کردار ادا کیا ہے۔ یادرہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کیلیے امریکی پالیسی میں پاکستان سے متعلق پالیسی بیان کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ پاکستان افراتفری پھیلانے والے افراد کو پناہ دیتا ہے۔

Facebook Comments
Share Button