تازہ ترین

Marquee xml rss feed

خادم حسین رضوی کا دھرنا ختم نہ کرنے کا اعلان کردیا-پی ٹی ٓئی کی مشکلات میں اضافہ، باغی رہنماوں نے خاموشی سے بڑی چال چل دی-اسحاق ڈار وطن واپس نہیں آرہے ،معاملات جوں کے توں پڑے ہیں اسلئے ملک کو فل ٹائم وزیرخزانہ کی ضرورت ہے، ایم کیوایم پاکستان اور پی ایس پی کا اتحاد ٹوٹتے ہی دونوں جماعتوں ... مزید-شہباز شریف اور چوہدری نثار کی چھٹی جبکہ شاہد خاقان اور نواز شریف میں دوریاں بڑھنے کا وقت قریب آ گیا ہے ختم نبوت کا مسئلہ اٹھا کیوں، حکومت کو راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کو فی ... مزید-دنیا کے مشہور ترین یو سی براوزر کی گوگل پلے اسٹور سے چھٹی-سی پیک سے صوبہ بلوچستان کو سب سے زیادہ ترقی اور فائدہ ہو گا، توانائی انفراسٹرکچر کی فراہمی سے بلوچستان میں معاشی اور سماجی انقلاب آئے گا،نوجوانوں کو روزگار کے بھرپورمواقع ... مزید-پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے مابین غیر اعلانیہ ہاٹ لائن رابطہ بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں ، بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ ... مزید-مریم اورنگزیب کی سینئر صحافی مظہر اقبال کی ہمشیرہ اورسینئر صحافی ذوالفقار بیگ کے چچا کے انتقال پر تعزیت-شیخ رشید کی جانب سے عمران خان کو جمائما سے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ-دھرنا قائدین اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ، تحریک لبیک کے رہنمائوں نے شوریٰ سے مشاورت کیلئے حکومت سے وقت مانگ لیا ، حکومت کا دھرنے کے رہنمائوں کے خلاف مقدمات ... مزید

GB News

پاکستان پر دبائو ڈالنے سے منفی اثرات مرتب ہوں گے، روس،چین

Share Button

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے حوالے سے چین کے بعد روس بھی پاکستان کی حمایت میں میدان میں آگیا، روسی صدر کے افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کی پاکستان کے حوالے سے حکمت عملی درست نہیں ،پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے اس پر دبائو بڑھانا خطے کو غیر مستحکم کرسکتا ہے،پاکستان کے تعاون اور مرضی کے بغیر خطے میں استحکام بہت مشکل ہوگا،دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بھی نئی افغان پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے مقاصد فوجی حل کے ہیں، نئی امریکی حکمت عملی آئی ایس آئی ایل کی افغان شاخ کے خطرے کی مناسب طریقے سے عکاسی نہیں کرتی جو افسوسناک ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر کی الزام تراشیوں کے بعد چین کے بعد روس بھی پاکستان کی حمایت میں بول اٹھا۔روسی صدر کے افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے امریکی پالیسی پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ کی پاکستان کے حوالے سے حکمت عملی درست نہیں ،پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے ،پاکستان پر دبائو بڑھانا خطے کو غیر مستحکم کرسکتا ہے ۔ضمیر کابلوف نے کہاکہ پاکستان کے خلاف اس طرح کے بیان سے افغانستان پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔پاکستان کے تعاون اور مرضی کے بغیر خطے میں استحکام بہت مشکل ہوگا۔ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروفا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے محسوس کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 21اگست کو اعلان کردہ نئی افغان پالیسی میں افغان مسئلے کے فوجی حل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے خاص طورپر غیر ملکی افواج کی تعداد میں اضافہ کرکے ۔ترجمان کا کہنا تھاکہ نئی امریکی حکمت عملی آئی ایس آئی ایل کی افغان شاخ کے خطرے کی مناسب طریقے سے عکاسی نہیں کرتی جو افسوسناک ہے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر کے بیان پر چینی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کو بہترین دوست سمجھتے ہیں اور دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی، معاشی اور سکیورٹی کے حوالے سے گہرے روابط ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول محاذ پر ڈٹا ہوا ہے، جس میں اس نے بے شمار قربانیاں دیں اور اہم کردار ادا کیا ہے۔ یادرہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کیلیے امریکی پالیسی میں پاکستان سے متعلق پالیسی بیان کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ پاکستان افراتفری پھیلانے والے افراد کو پناہ دیتا ہے۔

Facebook Comments
Share Button