تازہ ترین

Marquee xml rss feed

خادم حسین رضوی کا دھرنا ختم نہ کرنے کا اعلان کردیا-پی ٹی ٓئی کی مشکلات میں اضافہ، باغی رہنماوں نے خاموشی سے بڑی چال چل دی-اسحاق ڈار وطن واپس نہیں آرہے ،معاملات جوں کے توں پڑے ہیں اسلئے ملک کو فل ٹائم وزیرخزانہ کی ضرورت ہے، ایم کیوایم پاکستان اور پی ایس پی کا اتحاد ٹوٹتے ہی دونوں جماعتوں ... مزید-شہباز شریف اور چوہدری نثار کی چھٹی جبکہ شاہد خاقان اور نواز شریف میں دوریاں بڑھنے کا وقت قریب آ گیا ہے ختم نبوت کا مسئلہ اٹھا کیوں، حکومت کو راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کو فی ... مزید-دنیا کے مشہور ترین یو سی براوزر کی گوگل پلے اسٹور سے چھٹی-سی پیک سے صوبہ بلوچستان کو سب سے زیادہ ترقی اور فائدہ ہو گا، توانائی انفراسٹرکچر کی فراہمی سے بلوچستان میں معاشی اور سماجی انقلاب آئے گا،نوجوانوں کو روزگار کے بھرپورمواقع ... مزید-پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے مابین غیر اعلانیہ ہاٹ لائن رابطہ بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں ، بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ ... مزید-مریم اورنگزیب کی سینئر صحافی مظہر اقبال کی ہمشیرہ اورسینئر صحافی ذوالفقار بیگ کے چچا کے انتقال پر تعزیت-شیخ رشید کی جانب سے عمران خان کو جمائما سے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ-دھرنا قائدین اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ، تحریک لبیک کے رہنمائوں نے شوریٰ سے مشاورت کیلئے حکومت سے وقت مانگ لیا ، حکومت کا دھرنے کے رہنمائوں کے خلاف مقدمات ... مزید

GB News

آرمی چیف کا دوٹوک موقف

Share Button

جنرل ہیڈ کوارٹرزراولپنڈی میں یوم دفاع کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں مگر کہا جارہا ہے ہم نے بلاتفریق کارروائی نہیں کی، لیکن ہم نے بہت ڈومور کر لیا اب دنیا کی باری ہے۔ اگر پاکستان نے اس جنگ میں کافی نہیں کیا تو پھر دنیا کے کسی بھی ملک نے کچھ نہیں کیا کیونکہ اتنے محدود وسائل کے ساتھ اتنی بڑی کامیابی صرف پاکستان کا ہی کمال ہے اور ہم اس مسلط کردہ جنگ کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری بقا کی جنگ ہے، عالمی طاقتیں اگر اس کام میں ہمارے ہاتھ مضبوط نہیں کر سکتیں تو اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار بھی ہمیں نہ ٹھہرائیں، ہم امداد نہیں عزت اور اعتماد چاہتے ہیں، ہماری قربانیوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے،آج کا پاکستان دہشت گردی کے خلاف کامیابی کی روشن مثال ہے،ان کا کہنا تھا کہ ہم دشمن کی ان تدابیر پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جہاں وہ بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن میں ان تمام ملک دشمن عناصر کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہم پوری توجہ کے ساتھ ان کے گھنائونے عزائم اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ دشمن کی ان کوششوں کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ پاک ۔ چین اقتصادی راہداری کو نشانہ بنایا جائے اور اس طرح پاکستان کے عوام کے مستقبل کے ساتھ ساتھ پاک، چین دوستی پر بھی ضرب لگائی جائے۔دشمن جان لے کہ ہم کٹ مریں گے مگر ملک کے ایک، ایک انچ کا دفاع کریں گے، ہم نے بہت نقصان اٹھالیا، اب دشمن کی پسپائی کا وقت ہے۔پاکستان کشمیر کے مسئلے کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے کے لیے اپنی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس حق سے محروم نہیں کر سکتی۔قبل ازیں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ یہ بات جان لیں کہ ان کے بارود اور گولیاں ختم ہوجائیں گی لیکن ہمارے جوانوں کی چھاتیاں ختم نہیں ہوں گی۔ملکی و بین الاقوامی حالات اور صورتحال پہ آرمی چیف نے جو ماہرانہ تجزیہ کرتے ہوئے اپنی پالیسی بیان کی ہے وہ اکیس کروڑ عوام کی امنگوں و خواہشات کی ترجمان ہے انہوں نے بڑے جرات مندانہ انداز میں عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ اب ڈومور نہیںچلے گا ہم بہت قربانیاں دے چکے اب دنیا ڈو مور کرے ‘دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے بڑی قربانیاں دی ہیں جن کو دنیا مانتی ہے ۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے برکس ممالک کے اجلاس کے دوران پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ قرار دینے کے باوجود چین نے اپنے قریبی دوست پاکستان کا دفاع کیا اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا بیان مسترد کردیا۔ مودی کی پاکستان مخالف مہم کے باوجود چین پاکستان کا حامی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چون ینگ سے جب مودی کے اس بیان پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انکا کہنا تھا چین ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے عالمی برادری کو انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں تعاون کو مزید فروغ دینا چاہئے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ دہشت گردی کو کسی مخصوص ملک، نسل یا مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے اور پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی کوششیں کیں اور عظیم قربانیاں دی ہیں، عالمی برادری کو اس کا احترام کرنا چاہئے، انہیں تسلیم کیا جائے۔ چین اور پاکستان ایک دوسرے کو قریبی دوست تسلیم کرتے ہیں دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط سفارتی، معاشی اور گہرے سکیورٹی روابط ہیں۔بھارت کا پاکستان مخالف پراپیگنڈاکام نہ آیا اور چین نے برکس اعلامیہ میں بھارت کی پاکستان مخالف کوششوں پر پانی پھیر دیا ۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی سازش نہ چلی اور برکس اعلامیہ میں بھی بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔ بھارتی میڈیا نے بھی مودی سرکار کی ناکامی کا اعتراف کرلیا ہے مگر پھر بھی مودی سرکار ہے کہ اپنی ڈرامہ بازیاں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی اہل قیادت میں پاکستانی فوج نے دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کررہی تھی کہ فوجی کمان تبدیل ہو گئی مگر جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی بھارت کی کئی سالوں کی دہشت گردی کی کوششیں بری طرح ناکام ہورہی ہیں۔پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے، پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں بھارتی ناکامی کے چرچے بھارتی میڈیا اور بھارت کے سیاسی حلقوں میں جس شدت کے ساتھ جاری ہیں اس کا یہی تقاضا ہے کہ بھارت سرکار اپنی روش میں مثبت تبدیلی لائے اور کشیدگی کو بڑھاوا دینے کی کوششیں ترک کرے ۔پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے جو عظیم قربانیاں دی ہیں پوری قوم کو اس پر فخر ہے۔ وہ گزشتہ دس سال سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اس جنگ میں اب تک اس کے سیکڑوں جوان شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ پاک فوج نے بڑی منصوبہ بندی اور مہارت سے شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا اور فضائی حملوں کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کر دیا جس سے دہشت گردوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچااسی طرح ضرب عضب ، کراچی آپریشن میں بھی پاک افواج اور پاکستانی قوم نے بہت قربانیاں دی ہیں ۔جب پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا تو اسے نہ صرف پوری قوم بلکہ قبائلی عوام کی بھی حمایت حاصل ہوئی اور قبائلی عوام نے آنے والے بہتر دنوں کی امید میں ہر طرح کی قربانیاں دیں۔سابق جنرل راحیل شریف نے بھی اس امر کی تعریف کی کہ پوری قوم کے تعاون سے آپریشن ضرب عضب کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔دہشت گردوں نے سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنا کر پورے ملک میں جو خوف و ہراس کی فضا قائم کر رکھی تھی وہ بھی اب چھٹ چکی ہے۔ دہشت گردی کے باعث پورے ملک کی معیشت شدید متاثر ہو رہی تھی اور سرمایہ دار مایوس ہو کر بیرون ملک فرار ہو رہا تھا۔ مگر اب ضرب عضب ، کراچی آپریشن ، بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن اور ایف سی کی کاروائیوں کے ذریعے ملک میں اب امن و امان کی فضا بحال ہوئی ہے ۔ان آپریشنز میں آرمی کے متعدد جوان شہید ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے خطرات کمزور پڑنے سے کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے نہ صرف ملکی سرمایہ کار بلکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے راغب ہو رہا ہے ۔جب قوم متحد اور پرعزم ہو تو بڑے سے بڑے دشمن کو بھی شکست دینا ممکن ہے۔ بس ہمیں اتحاد اور محبت کے ساتھ پاکستان کی تعمیر کرنی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں انکی قدر کرنی ہے اور انکی لاج رکھنی ہے اور دشمن کو اپنی صفوں میں نہیں داخل ہونے دینا انشااللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان پرامن ممالک کی نمائندگی کرے گا ۔اور معاشی حب بن کر دنیا کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے گا۔دہشت گردی کا خطرہ ہم سب کو یکساں ہے لیکن پاکستان نے دہشت گردی کے ظلم کو سب سے زیادہ برداشت کیا، دنیامیں کوئی بھی ملک پاکستان کی طرح دہشت گردی کاشکارنہیں ہوا اور یہ مایوس کن ہے کہ امریکی پالیسی میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کیا گیا لیکن پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر جنوبی ایشیا میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باعث پاکستان نے نہ صرف ان برسوں میں ہزاروں شہریوں اور فوجیوں کی جانوں کی قربانی دی بلکہ معاشی خستہ حالی کا شکار بھی ہوا ہے

Facebook Comments
Share Button