تازہ ترین

Marquee xml rss feed

خادم حسین رضوی کا دھرنا ختم نہ کرنے کا اعلان کردیا-پی ٹی ٓئی کی مشکلات میں اضافہ، باغی رہنماوں نے خاموشی سے بڑی چال چل دی-اسحاق ڈار وطن واپس نہیں آرہے ،معاملات جوں کے توں پڑے ہیں اسلئے ملک کو فل ٹائم وزیرخزانہ کی ضرورت ہے، ایم کیوایم پاکستان اور پی ایس پی کا اتحاد ٹوٹتے ہی دونوں جماعتوں ... مزید-شہباز شریف اور چوہدری نثار کی چھٹی جبکہ شاہد خاقان اور نواز شریف میں دوریاں بڑھنے کا وقت قریب آ گیا ہے ختم نبوت کا مسئلہ اٹھا کیوں، حکومت کو راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کو فی ... مزید-دنیا کے مشہور ترین یو سی براوزر کی گوگل پلے اسٹور سے چھٹی-سی پیک سے صوبہ بلوچستان کو سب سے زیادہ ترقی اور فائدہ ہو گا، توانائی انفراسٹرکچر کی فراہمی سے بلوچستان میں معاشی اور سماجی انقلاب آئے گا،نوجوانوں کو روزگار کے بھرپورمواقع ... مزید-پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے مابین غیر اعلانیہ ہاٹ لائن رابطہ بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں ، بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ ... مزید-مریم اورنگزیب کی سینئر صحافی مظہر اقبال کی ہمشیرہ اورسینئر صحافی ذوالفقار بیگ کے چچا کے انتقال پر تعزیت-شیخ رشید کی جانب سے عمران خان کو جمائما سے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ-دھرنا قائدین اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ، تحریک لبیک کے رہنمائوں نے شوریٰ سے مشاورت کیلئے حکومت سے وقت مانگ لیا ، حکومت کا دھرنے کے رہنمائوں کے خلاف مقدمات ... مزید

GB News

سی پیک سے استفادے کیلئے جامع حکمت عملی کی ضرورت

Share Button

وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ ماضی میں سرمایہ کاروں کیلئے پلیٹ فارم نہ ہونے کی وجہ سے ڈونر کانفرنسز کرائی گئیں لیکن ان کانفرنسز کے مثبت نتائج برآمد نہ ہوئے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی اور ان کے سرمائے کے تحفظ کیلئے بورڈ آف انوسٹمنٹ کا قیام عمل میں لائی ہے بورڈ آف انوسٹمنٹ کے قیام سے گلگت بلتستان میں سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کیلئے پلیٹ فارم میسر آئے گا۔ وزیر اعلی نے کہاموجودہ تناظر میں گلگت بلتستان کی اہمیت بڑھ چکی ہے سی پیک سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کیلئے جامع پالیسی اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس پر کام کیا جارہاہے۔تجارت کے فروغ کیلئے حکومت نے مختلف اشیاء کی پروسسنگ کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ صوبے کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جاسکے۔گلگت بلتستان انوسٹمنٹ بورڈ کے قیام سے علاقے میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا’گلگت بلتستان ترقی کی منازل طے کریگا اور ملکی و غیرملکی سرمایہ کار گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لیں گے جبکہ بیروزگاری میں کمی آئے گی۔بلاشبہ اقتصادی راہداری سے استفادے کیلئے جامع پالیسی و منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں دیہی و مقامی سطح پر گھریلو صنعت کے طور پہ پراسیسنگ کی محدود سہولتوں کی وجہ سے یہاں پیدا ہو نے والے موسمی پھلوں اور سبزیوں کا تقریباپچاس فیصد حصہ ضائع ہو جاتا ہے جوانتہائی افسوسناک امر ہے۔اقتصادی راہداری کے ممکنہ پلان میں مارکیٹ سے سترہ خصوصی منصوبوں سمیت دس اہم منصوبوں کو واضح کیا گیا ہے، جن میں ابتدائی طور پر آٹھ لاکھ ٹن کے سالانہ پیداوار والے فرٹیلائزر پلانٹ کی تعمیربھی شامل ہے۔کمپنیوں کو،کھیتوں میں کام کرنے کیلئے ضروری ساز و سامان جیسے ٹریکٹر، پودوں کے موثر تحفظ کی مشینری، کم توانائی استعمال کرنے والے پمپ کے سازوسامان، ڈرپ آبپاشی کے ذریعے فصل اگانے کے نظام کا سازوسامان اور فصل کی بوائی اور کٹائی کی مشینری کرائے پر دینے کے لیے قائم کرنے کا کہا گیا’ہر سال دولاکھ ٹن دودھ پروسس کرنے والے دو نمائشی پلانٹس کی منصوبہ بندی کی گئی ۔زیادہ پیداوار دینے والے بیجوں اورآبپاشی کے نمائشی منصوبوں کیلئے زمین مختص کرنے کا اعلان کیا گیا’ اناج،سبزیوں اور پھلوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے تقسیم کاری کے نیٹ ورک میں توسیع کرنے کے بارے میں بتایا گیا۔گودام تعمیر کرنے کا کہا گیا’چینی سرمایہ کاری کی حامل کمپنیاں، مشترکہ منصوبوں، شراکت داری یا کثیر سرمایہ کاری کی صورت میں، گوداموں کی تین مرحلوں میں تعمیر میں پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کریں گی جن میں پرچیز اور اسٹوریج، ٹرانزٹ گودام اور پورٹ گودام شامل ہیںسبزیوں کے پراسسنگ پلانٹ بنانے کی حکمت عملی طے کی گئی’ جن کی سالانہ پیداواردوہزار ٹن ہوگی’دس ہزار ٹن کی پیداوار کے حامل پھلوں کے جوس اور جیم کے پلانٹ اوردس لاکھ ٹن پیداوار دینے والے اناج کے پراسسنگ پلانٹ بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔حاصل کردہ زمینوں کو چینی سرمایہ کاری کی حامل کمپنیوں کو کرائے پر دیئے جانے اور کاشتکاری اور بریڈنگ مراکز کی تعمیرات کے ذریعے کسانوں اور کاشتکاروں کو کاشتکاری اوربریڈنگ کے جدید طریقوں سے آراستہ کیا جائے گا۔زیادہ پیداواردینے والے اعلی معیار کے بیجوں کے حوالے سے پلان میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی زمین کو چینی سرمایہ کاری کی حامل کمپنیوں کو کرائے پر دینے اور کاشتکاری اور افزائش نسل کے حوالے سے تعمیر کردہ مراکز کو استعمال میں لاتے ہوئے جدید طریقوں سے آراستہ کریں گے۔پلان میں چین موجود سرمایہ کاروں سے ہم کلام ہوتا نظر آتا ہے گویاچینی کمپنیوں کو پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ مربوط تعاون اور شفاف دو طرفہ مقابلے اور باہمی تعاون کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی حکمت عملی کے حامل شراکت داروں کی تلاش کے لیے اقدام کریں۔زرعی سازو سامان کی پیداوار کے بارے میں کہا گیا،ہر شعبے میں چینی کمپنیاں مرکزی کردار ادا کریں گی۔ چینی سرمایہ کاری کی حامل کمپنیاں کھاد، کیڑے مار دوائوں اور مویشیوں کے چارے کی پیداوار کیلئے کارخانے قائم کریں گی۔مغربی اور شمال مغربی حصہ جو زیادہ تر بلوچستان اور خیبر پختونخوا پر مشتمل ہے ان علاقوں کو معدنیات نکالنے کے حوالے سے ظاہر کیا گیا خصوصا کروم کچ دھات، سونا اور ہیرے کے حصول کیلئے۔ایک اور معدنیات جس کے بارے میں یہ منصوبہ بتاتا ہے وہ سنگ مرمر ہے اور چین پاکستان سے سنگ مرمر خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے جو ہر سال 80ہزار ٹن سنگ مرمر خریدتا ہے۔منصوبے کے مطابق شمال میں گلگت اور کوہستان کے علاقے سے لے کر جنوب میں خضدار تک بارہ سنگ مر مر اور گرینائٹ کی پروسیسنگ کے کارخانے لگائے جائیں گے۔وسطی زون کو ٹیکسٹائل، گھریلو استعمال کی اشیاء اور سیمنٹ کی صنعتوں کے لیے مختص کیا گیا ہے ۔لائیو اسٹاک کی افزائش نسل اور دیگر جدید تقاضوں کو متعارف کرنے اور آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے مشینوں اور سائنسی طریقوں کو پاکستان میں لانے کیلئے ژن جیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کورس سے خدمات لینے کی تجویز دی گئی۔وہ اس اہم موقع کو کاشغر پریفیکچر کی مدد کی صورت میں دیکھتے ہیں، جو کہ ژن جیانگ کے بااختیار زون کے اندر کافی بڑے رقبے پر پھیلا ہے، جہاں پچاس فیصد غربت ہے اور طویل فاصلے ہونے کی وجہ سے بڑی منڈیوں تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے اور ترقی کی راہوں میں رکاوٹ آجاتی ہے۔ یہاں زراعت،جنگلات،جانوروں کی خانہ داری اور فشریز میں کل پیداوار کا حجم پانچ ارب ڈالر سے تھوڑا ہی زیادہ رہا جبکہ یہاں کی آبادی چالیس لاکھ سے بھی کم تھی،اس مارکیٹ سے پاکستان کو زبردست حد تک فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔چینیوں کیلئے پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے پیچھے بہت سے فوائد ہیں’ مقامی مارکیٹ سے وابستہ ہونے سے چینی کمپنیاں کئی منافع بخش فوائد حاصل کر سکتی ہیں۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے اقتصادی راہداری کے حوالے سے ٹھوس و جامع حکمت عملی مرتب کی جائے تاکہ اس منصوبے کے فوائد حاصل کیے جا سکیں۔

Facebook Comments
Share Button