تازہ ترین

Marquee xml rss feed

خادم حسین رضوی کا دھرنا ختم نہ کرنے کا اعلان کردیا-پی ٹی ٓئی کی مشکلات میں اضافہ، باغی رہنماوں نے خاموشی سے بڑی چال چل دی-اسحاق ڈار وطن واپس نہیں آرہے ،معاملات جوں کے توں پڑے ہیں اسلئے ملک کو فل ٹائم وزیرخزانہ کی ضرورت ہے، ایم کیوایم پاکستان اور پی ایس پی کا اتحاد ٹوٹتے ہی دونوں جماعتوں ... مزید-شہباز شریف اور چوہدری نثار کی چھٹی جبکہ شاہد خاقان اور نواز شریف میں دوریاں بڑھنے کا وقت قریب آ گیا ہے ختم نبوت کا مسئلہ اٹھا کیوں، حکومت کو راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کو فی ... مزید-دنیا کے مشہور ترین یو سی براوزر کی گوگل پلے اسٹور سے چھٹی-سی پیک سے صوبہ بلوچستان کو سب سے زیادہ ترقی اور فائدہ ہو گا، توانائی انفراسٹرکچر کی فراہمی سے بلوچستان میں معاشی اور سماجی انقلاب آئے گا،نوجوانوں کو روزگار کے بھرپورمواقع ... مزید-پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے مابین غیر اعلانیہ ہاٹ لائن رابطہ بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں ، بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ ... مزید-مریم اورنگزیب کی سینئر صحافی مظہر اقبال کی ہمشیرہ اورسینئر صحافی ذوالفقار بیگ کے چچا کے انتقال پر تعزیت-شیخ رشید کی جانب سے عمران خان کو جمائما سے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ-دھرنا قائدین اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ، تحریک لبیک کے رہنمائوں نے شوریٰ سے مشاورت کیلئے حکومت سے وقت مانگ لیا ، حکومت کا دھرنے کے رہنمائوں کے خلاف مقدمات ... مزید

GB News

پاکستان ون چائنا پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے، خواجہ آصف

Share Button

بیجنگ( آن لائن)وزیر خارجہ خواجہ آصف نے چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کی جس میں پاک چین تعلقات سمیت خطے کی بدلتی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،دونوں رہنمائوں نے خطے میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تعاون بڑھانے سمیت مل جل کر آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے ۔ملاقات کے بعد وزیر خارجہ خواجہ آصف نے چینی ہم منصب کے ہمراہ مشترکہ پریس کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ افغان مسئلے کو صرف سیاسی انداز میں حل کیا جاسکتا ہے اور اس کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔ساتھ ہی انہوں نے چین کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی پاکستانی کوششوں کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔خواجہ آصف نے چینی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بطور وزیر خارجہ یہ ان کا چین کا پہلا دورہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکـچین دوستی بے مثال اور قابل تقلید ہے، جبکہ پاکستان ون چائنا پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں اور اپنے چینی ہم منصب سے ہونے والی ملاقات میں تجارت، سی پیک اور دفاع کے شعبوں پر بات ہوئی۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کے مثبت نتائج آئے ہیں جبکہ افغان مسئلے کا حل صرف بات چیت اور امن سے ممکن ہے، افغانستان میں امن خطے کے مفاد میں ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جامع فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا کیا ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئے جبکہ انسداد دہشت گردی کی ان کوششوں پر چینی حمایت کے شکرگزار ہیں۔اس موقع پر چینی وزیرخارجہ نے خواجہ آصف کے دورہ چین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف جنگ کی مکمل حمایت کرتاہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں اور بین الاقوامی برادری کو پاکستان کو ان کوششوں کے لیے مکمل کریڈٹ دینا چاہیے۔وانگ ژی نے کہا کہ بدلتی ہوئی علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں پاکستان اور چین ساتھ ساتھ کھڑے ہیں اور ہم پاکـچین اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہیں،سی پیک ایک عظیم منصوبہ ہے جو خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا،چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کرتا رہے گا جبکہ افغانستان میں امن چین اور پاکستان دونوں ممالک کے مفاد میں ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، افغان قیادت پر مشتمل مصالحتی عمل ہی افغانستان میں امن کا ضامن ہے جس کے لیے پاکستان اور چین مشترکہ کوششیں کرتے رہیں گے۔وانگ ژی کے مطابق افغانستان میں امن کی ضرورت کا احساس افغانستان سمیت پاکستان اور چین کی عوام کے لیے بھی نعمت سے کم نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چین نے افغانستان اور جنوبی ایشیا کے لیے نئی امریکی پالیسی پر بھی غور کیا جبکہ ہمیں امید ہے کہ نئی امریکی پالیسی افغانستان اور علاقائی امن و استحکام کی بحالی کے لیے سود مند ثابت ہوگی۔انہوں نے رواں سال کے آخر میں چین، پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی پہلی ملاقات اور اجلاس کا عندیہ بھی دیا جس میں تینوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک کمیونیکشن، سکیورٹی ڈائیلاگ اور مشترکہ تعاون کے فروغ پر غور کیا جائے گا۔

Facebook Comments
Share Button