GB News

نیرنگی سیاست

Share Button

ملکی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ صورتحال میں قدرے بہتری آئی ہے’ قومی سیاست میں جارحانہ سیاست کی بانی تحریک انصاف کے رہنماعمران خان کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف کے بعد وہ آصف زرداری کو اپنے اقتدار کے راستے کا پتھر سمجھتے ہیں چنانچہ بتدریج انہوں نے آصف زرداری کو لٹیرا اور ڈاکو کہنا شروع کر دیا ہے سندھ کے ایک جلسے میں انہوں نے ببانگ دہل یہ الفاظ کہہ کر سندھ کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی اب وہ آصف زرداری کی کرپشن کو بے نقاب کرنے کا اعلان کر رہے ہیں تاہم ابھی تک اس ضمن میں ان کی طرف سے محض بیانات ہی سامنے آئے ہیں اپنے موقف کی حمایت میں ان کی طرف سے کوئی ٹھوس عملی قدم دکھائی نہیں دیا۔ البتہ اس سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ ان کا بڑا اگلا ہدف آصف زرداری ہیں لیکن شاید اس سوال کا جواب ان کی پارٹی کے کسی لیڈر کے پاس نہیں ہے کہ وزارت عظمیٰ سے نااہل کروانے کے بعد نواز شریف کو کیا انہوں نے کمزور کر دیا ہے؟ماضی میں یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت میں سزا کے بعد ایوان اقتدار سے فارغ کر دیا گیا تو راجہ پرویز اشرف قائد ایوان نامزد کئے گئے قومی اسمبلی میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنھالیں اور پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت آرام سے کام کرتی رہی کم و بیش یہی صورتحال اب مسلم لیگ (ن) کو درپیش ہے مسلم لیگ (ن) نے شاہد خاقان عباسی کو نامزد کیا انہوں نے وزارت عظمیٰ کے الیکشن میں کامیابی حاصل کی اور وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیں اگر دیکھا جائے تو ان کی کارکردگی پیپلزپارٹی دور کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور اپنے قائد میاں نواز شریف سے بھی بہتر ہے میاں نواز شریف دیگر مصروفیات کے باعث فائل ورک پر بہت کم توجہ دیتے تھے کئی کئی سمریاں کئی کئی ماہ تک ان کے دفتر کی فائلوں میں پڑی رہتیں مگر اب یہ صورتحال نہیں ہے اس وقت کابینہ کے اجلاس بھی تین تین ماہ تک نہیں ہوتے تھے اب ہفتہ وار ہو رہے ہیں اس وقت بہت سے وزراء کو شکایت تھی کہ کئی ماہ ہوئے ان کی وزیراعظم سے ملاقات نہیں ہوسکی مگر اب صورتحال ایسی نہیں ہے اس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اپنی ماضی کی بعض کوتاہیوں پر قابو پالیا ہے اور حکمرانی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسلام آباد سے لاہور تک کے سفر نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ نواز شریف کی مقبولیت میں کمی نہیں بلکہ نااہلی کے بعد اضافہ ہوا ہے جبکہ طاقت کے بڑے سرچشمہ پنجاب میں بھی مسلم لیگ (ن) کی جڑیں مضبوط ہیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی کابینہ میں پنجاب کے ان علاقوں کو بھی نمائندگی دی ہے جو پہلے نمائندگی سے محروم تھے یہ اقدام بھی 2018ء کے الیکشن کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔یہ منظرنامہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹوانے کے بعد بھی بادی النظر میں تحریک انصاف کو کچھ وصول نہیں ہوا’ یہ خواب ہی پورا نہ ہوسکا کہ نااہلی کے بعد پارٹی تتر بتر ہوگی اور بہت سے قد آور مسلم لیگی رہنما مستقبل کے اقتدار کے سامنے تحریک انصاف کی جھولی میں آگریں گے۔
مسلم لیگ (ن) پہلے کی طرح متحد اور مضبوط ہے سابق وزیراعظم کی نااہلی کے بعد اس میں زیادہ طاقت اور توانائی پیدا ہوئی ہے اب تحریک انصاف کا ہدف یہ ہے کہ شریف فیملی کو احتساب عدالتوں سے سزا ہوگی اس کے بعد پارٹی انتشار کا شکار ہوگی اگر اس حوالے سے خواب بھی تعبیر نہ دیکھ سکا تو پھر کیا ہوگا دوسری طرف پیپلزپارٹی کے بعض اعلیٰ حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ سابقہ آرمی چیف کے خلاف تقریر کرنے کے بعد آصف زرداری ملک سے باہر چلے گئے تھے جنرل قمر جاوید باجوہ کے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد واپس آئے ہیں فوج کے ساتھ ان کے معاملات درست ہوگئے ہیں ڈاکٹر عاصم حسین جیسے ان کے درست راست کو بھی ملک سے باہر جانے کی اجازت مل گئی ہے چنانچہ یہ اشارے واضح کرتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے اقتدار کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی اب عوام کو متوجہ کرنے کی ضرورت ہے’ پیپلزپارٹی کے اعلیٰ حلقوں کا یہ تاثر کس حد تک درست ہے اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔جہاں تک تحریک انصاف کا معاملہ ہے سرمائے کے زور پر اس کے قائد اگرچہ کامیاب جلسے کر لیتے ہیں لیکن پارٹی کے اندر گروہ بندی اور انتشار موجود ہے جو اس کے لئے نقصان دہ ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں اس کی کارکردگی بھی ایسی نہیں ہے کہ جسے عمران خان مثالی قرار دے کر وزارت عظمیٰ کے لئے اپنے آپ کو اہل قرار دے سکیں’ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور اے این پی دونوں کا اس امر پر اتفاق رائے ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو روزگار ملا ہے نہ بنیادی سہولتیں جبکہ پی ٹی آئی کے وزیروں نے کرپشن کی ہے اور صوبے میں احتساب کا موثر ادارہ موجود نہیں ہے پی ٹی آئی این اے 120کو ٹیسٹ کیس قرار دیتی ہے دوسری طرف اس حلقے میں سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگاتی ہے گویا اپنی شکست کے لئے ابھی سے گرائونڈ تیار کر رہی ہے مبصرین اور تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ اس حلقے سے تین بار نواز شریف منتخب ہوئے ہیں انہوں نے حلقے پر بھرپور توجہ دی ہے چنانچہ اب بھی مسلم لیگ (ن) کو کامیابی ملے گی اور کلثوم نواز جیت جائیں گی ان کی بیماری کے باعث اور ان کے شوہر کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے باعث اب انہیں ہمدردی کا ووٹ بھی ملے گا۔
اس امر کے امکانات موجود ہیں کہ 2013ء کے الیکشن کے مقابلے میں اس بار مسلم لیگ(ن) کے ووٹوں کی تعداد زیادہ ہو اگر ایسا ہوا تو کلثوم نواز کو میاں شریف پر سبقت حاصل ہو جائے گی۔ شریف فیملی کے خلاف چار ریفرنس دائر کر دئیے گئے ہیں اس سے قبل نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سابق وزیراعظم نواز شریف’ مریم نواز’ حسن اور حسین اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف چار ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی تمام ریفرنسز جے آئی ٹی اور نیب کی جانب سے اکٹھے کئے گئے مواد کی روشنی میں تیار کئے گئے ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تین ریفرنس میں نیب کی دفعہ 18جی جس کی سب سیکشن نو اے لگائی گئی ہے ‘ نو اے غیر قانونی رقوم اور تحائف کی ترسیل سے متعلق ہے اطلاعات کے مطابق نیب لاہور اور راولپنڈی نے دفعہ نو اے کی تمام ذیلی چودہ دفعات کو شامل کیا گیا ہے سیکشن نو اے کی دفعات کی سزا چودہ سال قید مقرر ہے جبکہ اسحاق ڈار کے خلاف سیکشن 14سی لگائی گئی ہے یہ سیکشن آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے سے متعلق ہے اس کی سزا بھی چودہ سال قید مقرر ہے عوامی نمائندوں کے لئے نااہلی کی سزا بھی شامل ہے مریم نواز پر جعلی دستاویزات دینے پر الگ سے شیڈول کا بھی حوالہ دیا گیا ہے مریم نواز کے خلاف تحقیقات کو نقصان پہنچانے کی دفعہ 31اے بھی شامل ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق احتساب عدالتوں کو ان ریفرنسز پر چھ ماہ کے اندر فیصلے کرنے ہیں گویا مارچ 2018ء میں فیصلے متوقع ہیں جبکہ جولائی کے اواخر یا جون کے اوائل میں عام انتخابات منعقد ہوں گے۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کرنے کے دن آنے والے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کے لیے ایک پلیٹ فارم پہ کھڑا ہونے کو اپنا وتیرہ بنائیں۔

Facebook Comments
Share Button