تازہ ترین

Marquee xml rss feed

خادم حسین رضوی کا دھرنا ختم نہ کرنے کا اعلان کردیا-پی ٹی ٓئی کی مشکلات میں اضافہ، باغی رہنماوں نے خاموشی سے بڑی چال چل دی-اسحاق ڈار وطن واپس نہیں آرہے ،معاملات جوں کے توں پڑے ہیں اسلئے ملک کو فل ٹائم وزیرخزانہ کی ضرورت ہے، ایم کیوایم پاکستان اور پی ایس پی کا اتحاد ٹوٹتے ہی دونوں جماعتوں ... مزید-شہباز شریف اور چوہدری نثار کی چھٹی جبکہ شاہد خاقان اور نواز شریف میں دوریاں بڑھنے کا وقت قریب آ گیا ہے ختم نبوت کا مسئلہ اٹھا کیوں، حکومت کو راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کو فی ... مزید-دنیا کے مشہور ترین یو سی براوزر کی گوگل پلے اسٹور سے چھٹی-سی پیک سے صوبہ بلوچستان کو سب سے زیادہ ترقی اور فائدہ ہو گا، توانائی انفراسٹرکچر کی فراہمی سے بلوچستان میں معاشی اور سماجی انقلاب آئے گا،نوجوانوں کو روزگار کے بھرپورمواقع ... مزید-پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے مابین غیر اعلانیہ ہاٹ لائن رابطہ بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں ، بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ ... مزید-مریم اورنگزیب کی سینئر صحافی مظہر اقبال کی ہمشیرہ اورسینئر صحافی ذوالفقار بیگ کے چچا کے انتقال پر تعزیت-شیخ رشید کی جانب سے عمران خان کو جمائما سے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ-دھرنا قائدین اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ، تحریک لبیک کے رہنمائوں نے شوریٰ سے مشاورت کیلئے حکومت سے وقت مانگ لیا ، حکومت کا دھرنے کے رہنمائوں کے خلاف مقدمات ... مزید

GB News

نشتند گفتند اور برخاستندسے کچھ نہیں ہو گا

Share Button

قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں او آئی سی کے سربراہ اجلاس نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو راکھائن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے کی اجازت دے اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔او آئی سی کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر میانمار کی حکومت پر شدید تنقید بھی کی گئی۔ شرکا نے میانمار کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے منظم تشدد، گھروں اور عبادت گاہوں کو نذرآتش کرنے پر خدشات کا اظہار کیا جس کی وجہ سے اب تک تقریبا تین لاکھ مسلمان بنگلا دیش ہجرت کر چکے ہیں۔او آئی سی نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مسائل کو ختم کرے جو اس مسئلے کی جڑ ہیں اور ان میں 1982کا شہریت ایکٹ بھی شامل ہے،اس قانون کی وجہ سے روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے سے انکار کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے روہنگیا مسلمان اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔او آئی سی کا حالیہ اجلاس نشتند گفتند اور برخاستند کے علاوہ کچھ نہیں مذمتی قراردادوں سے یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں جس طرح مغرب اور یورپ مسلمانوں کے خلاف اکھٹے ہیں اسی طرح مسلمانوں کو بھی ایک پلیٹ فارم پہ اکھٹا ہو کر جرات کا مظاہرہ کرنا ہو گا ہم جانتے ہیں کہ میانمار کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر عالمی اداروں کا طرزعمل منافقانہ ہے۔اس وقت اکثر مسلم ممالک میں اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں سینکڑوں افراد نے میانمار کے سفارتخانہ کے باہر مظاہرہ کیا۔روسی دارالحکومت ماسکو میں ہزاروں افراد نے میانمار کے سفارتخانے کے باہر روہنگیا مسلمانوں پر مظالم پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے اپنے ایک پیغام میں مطالبہ کیا ہے کہ روہنگیا میں تشدد کا خاتمہ کیا جائے۔مگردیگر ملکوں اور پاکستان کو بنگلہ دیش کی پیروی کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کو خوراک، گھر اور تعلیم تک رسائی فراہم کرنی چاہیے۔ پوپ فرانسس نے روہنگیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور ان کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو روہنگیا سے باہر نکال کر پھینک دیا گیا ہے۔ انہیں ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں دھکیل دیا گیالیکن وہ سب اچھے اور امن پسند لوگ ہیں۔ وہ ہمارے بھائی ہیں۔سال ہا سال سے روہنگیا کے مسلمان مصائب کا شکار ہیں۔ ان پر تشدد کیا گیا اور انہیں قتل کیا گیا اور اس کی وجہ صرف یہ ہے وہ اپنی روایات پر عمل کرتے ہیں، اپنے مسلم عقیدے پر عمل کرتے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مصنوعی سیارے سے لی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے آگ میانمار کی فوج نے لگائی ہے۔ گزشتہ دس دنوں میں میانمر کی فوج نے ایک ہزار روہنگیا مسلمانوں کو قتل کر دیا تھا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کی امداد کے ادارے یو این ایچ سی آر کے مطابق ایک لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچا کر بنگلا دیش جا چکے ہیں۔ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو دقت پیش آ رہی ہے۔ جہاں بھی کہیں مسلم کشی کی واردات ہو تو اس کے پیچھے بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ہمیشہ نظر آتا ہے۔ میانمار میں بھی جہاں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے اور ایسے وقت میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی یانگون پہنچ گئے ۔ بھارتی وزیراعظم نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے ملاقات کی اور انہیں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ ملاقات میں مسلمانوں پر مظالم کا تذکرہ گول کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے آنگ سان سوچی سے دہشت گردی کے خاتمے پر تعاون کی پیشکش کی ۔بھارتی وزیراعظم نے برما کے صوبہ راکھائن جہاں روہنگیا مسلمان آباد ہیں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق اسرائیل میانمار کی فوج کو اسلحہ اور تربیت فراہم کررہا ہے۔ صہیونی حکومت نے میانمار کو سرحدی نگرانی کے لیے 100 سے زائد ٹینکس، اسلحہ اور کشتیاں فروخت کی ہیں۔ متعدد اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیاں راکھائن ریاست میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والی برمی اسپیشل فورسز کو فوجی تربیت فراہم کررہی ہیں۔ادھرسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے میانمار سے تجارتی تعلقات اورمیانمار کے ساتھ فوجی سازوسامان سے متعلق بات چیت کا عمل موخر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔کمیٹی نے اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے بے گھر لوگوں کو سہارا دینے کے لیے فنڈز قائم کرنے کی بھی سفارش کی۔کمیٹی نے حکومت پاکستان سے مسلمانوں پر جاری مظالم پر واضح موقف اپنانے اور روہنگیا متاثرین کو خیمیں اور کھانے پینے کی اشیا سمیت دیگر ضروریات مہیا کرنے کا مطالبہ کیا۔کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف میانمار کی رہنما اور نوبیل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی خاموشی سے مایوسی ہوئی، حکومت پاکستان میانمار حکومت کے ساتھ اس معاملے پر جلد رابطہ کرے اور معاملے سے متعلق بین الاقوامی برادری سے بھی رابطہ کیا جائے۔کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی اجازت کے بعد میانمار کا دورہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔قبل ازیں سینیٹ میں روہنگیا مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کی گئی۔جس میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ برما میں مسلمانوں کی وسیع پیمانے انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لیا جائے۔ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کی زیر صدارت ایوان بالا کے اجلاس میں قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق نے یہ قرارداد پیش کی۔قرارداد میں روہنگیا مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر پامالی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ اس درندگی اور وحشت کو رکوانے کے لیے فوری طور پر سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے رابطہ کیا جائے۔ جبکہ بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لاما نے میانمار حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مظالم کے باعث نقل مکانی کرنے والے معصوم روہنگیا مسلمانوں کی مدد کی جائے کیوں کہ بدھ مت کی یہی تعلیم ہے۔دلائی لاما نے کہا جو لوگ مسلمانوں کو ڈرا دھمکا رہے ہیں، انہیں بدھا کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ ان حالات میں بدھا ہوتے تو وہ بھی یقینا ان بے چارے مسلمانوں کی مدد کر رہے ہوتے، میں اس حوالے سے بے انتہا دکھ محسوس کر رہا ہوں۔یہ وہ صورتحال ہے جو روہنگیا کے مسلمانوں کو درپیش ہے لیکن اس سارے تناظر میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم امہ اپنے اندر اتحاد پیدا کرے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے قتل عام کو رکوائے بصورت دیگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا اور ایک کے بعد دوسرے اسلامی ممالک کے مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا جاتا رہے گا۔قراردادیں ظلم کا راستہ نہیں روک سکتیں’یہ طاقت کی دنیا ہے اگر مسلم ممالک میانمار سے ہر قسم کے تعلقات مشترکہ طور پہ منقطع کر دیں تو روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے’ساٹھ سے زائد مسلم ممالک کو کشمیر’فلسطین’روہنگیا اور دیگر خطوں کے حوالے سے اپنی آواز کو توانا ومضبوط بنانا ہو گا تاکہ عالمی فورموں پہ ان کی سنی جا سکے اس کے لیے ان کا اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔

Facebook Comments
Share Button