تازہ ترین

Marquee xml rss feed

خادم حسین رضوی کا دھرنا ختم نہ کرنے کا اعلان کردیا-پی ٹی ٓئی کی مشکلات میں اضافہ، باغی رہنماوں نے خاموشی سے بڑی چال چل دی-اسحاق ڈار وطن واپس نہیں آرہے ،معاملات جوں کے توں پڑے ہیں اسلئے ملک کو فل ٹائم وزیرخزانہ کی ضرورت ہے، ایم کیوایم پاکستان اور پی ایس پی کا اتحاد ٹوٹتے ہی دونوں جماعتوں ... مزید-شہباز شریف اور چوہدری نثار کی چھٹی جبکہ شاہد خاقان اور نواز شریف میں دوریاں بڑھنے کا وقت قریب آ گیا ہے ختم نبوت کا مسئلہ اٹھا کیوں، حکومت کو راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کو فی ... مزید-دنیا کے مشہور ترین یو سی براوزر کی گوگل پلے اسٹور سے چھٹی-سی پیک سے صوبہ بلوچستان کو سب سے زیادہ ترقی اور فائدہ ہو گا، توانائی انفراسٹرکچر کی فراہمی سے بلوچستان میں معاشی اور سماجی انقلاب آئے گا،نوجوانوں کو روزگار کے بھرپورمواقع ... مزید-پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے مابین غیر اعلانیہ ہاٹ لائن رابطہ بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں ، بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ ... مزید-مریم اورنگزیب کی سینئر صحافی مظہر اقبال کی ہمشیرہ اورسینئر صحافی ذوالفقار بیگ کے چچا کے انتقال پر تعزیت-شیخ رشید کی جانب سے عمران خان کو جمائما سے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ-دھرنا قائدین اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ، تحریک لبیک کے رہنمائوں نے شوریٰ سے مشاورت کیلئے حکومت سے وقت مانگ لیا ، حکومت کا دھرنے کے رہنمائوں کے خلاف مقدمات ... مزید

GB News

حکومت مقامی زبانوں کی ترویج کیلئے عملی اقدامات کررہی ہے،تابان

Share Button

گلگت ( پ ر) صوبائی وزیر برقیات حاجی اکبر تابان نے کہا ہے کہ ادبی مید ان میں گلگت بلتستان کی سرزمین نہایت ہی زرخیز ہے۔ ادب ہماری میراث ہے اور اس کی ترقی و ترویج کے لیئے صوبائی حکومت کوشاں ہے۔ گلگت بلتستان میں ادبی میلے کے انعقاد کا مقصد اس خطے کی زبانوں ، ادب اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنا ہے ۔ ہمارے شعرا ء اور ادبی ورثہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس خطے نے کئے نامور سپوت پیدا کیئے ہیں جو کہ ہمارا اثاثہ ہیں۔ حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 5 کروڈ کی رقم ادب کے شعبے کی ترقی کے لیے مختص کی ہے۔ قراقرام انٹرنیشنل یونیورسٹی میں گلگت بلتستان کے اولین ادبی میلے کی تقریب میں محفل مشاعرہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برقیات اکبر تابان نے کہا کہ ادب کے شعبے کو ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے مگر موجودہ صوبائی حکومت مقامی زبانوں کی ترقی اور ادب کے فروغ کے لئے جامع اقدامات کر رہی ہے، ادبے میلے کے انعقاد کے بعد اس سمت میں حکومت کئی اور مثالی اقدامات کرے گی۔ شعرا ء اور ادیبوں کی کاوشوں کو حکومت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور قیام امن کے قیام کے لئے ان کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عبدالخالق تاج کا ادب کے شعبے میں ایک بڑا نام ہے اور اس اہم شعبے کی ترویج اور ترقی میں اہم اور کلید ی کردار ہے۔ اس سے قبل محفل مشاعرے کے میر محفل صوبائی وزیر سیاحت و ثقافت فدا خان فدا نے کہا کہ ملک بھر کے ددیگر صوبوں سے گلگت بلتستان میں منعقد ہونے والے اولین ادبی میلے میں کثیر تعداد میں ادبی شخصیات کی شرکت کرنے پر گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور عوام کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کو خوش آمدید کہا ۔انہوں نے مزید کہا کہ مقامی زبانوں کو ترقی دینے اور ان کی ترویج کے لیے صوبائی حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے اور مقامی زبانوں کو سلیبس کا حصہ بنانے کے لیے کام کررہی ہے۔ اس عمل سے مقامی زبانوں اور بولیوں کو محفوظ رکھنے میں انتہائی مدد ملے گی۔ ادبی میلے کے دوسرے سیشن میں محفل مشاعرہ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس میں ملک بھر سے آنے والے شعراء کرام ڈاکٹراباسین یوسفزئی ،صغریٰ صدف، پروفیسر اسحاق، شمس محمد مہمندکے علاوہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے شعراء ، محمد امین ضیائ، جمشید خان دکھی ، عبدالخالق تاج ، ن ظفر وقار تاج ، نظیم دیا ، عزیز الرحمن ملنگی ، لیلیٰ غازی ، عاشق حسین عاشق ، رضا عباس تابش ، نذیر حسین نذیر ، حور شاہ حور، لال جہان، نیت شاہ قلندری ، شیرباز علی گنشی ، اخونزادہ محمد ابراہیم ، غلام عباس صابر، شمس نوازش غذری ،رضا بیگ گھائل، عصمت اللہ مشفق نیازی جاوید حیات کاکا خیل، علی قربان، سیف سمیت جہانگیر بابر نے اپنا کلام پیش کرکے حاضرین سے خوب داد وصول کی ۔

Facebook Comments
Share Button