GB News

معمولی ہدف کے باوجود ناکامی مایوس کن ہے:مکی آرتھر

Share Button

ابو ظبی:پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ ہدف کے تعاقب میںٹیم کا اس طرح ہارنا نا قابل قبول اور مایوس کن ہے۔
مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ اظہر علی کا صفر پر آوٹ ہونا ہمارے لئے سنگین ثابت ہوا اسی وقت میچ کا پانسہ بھی پلٹ گیا تھا۔ مکی آرتھر نے کہا کہ کھانے کے وقفے میں سب اس بات پر تبادلہ خیال کرچکے تھے کہ ابتدائی کھلاڑیوں کو اچھی شراکت قائم کرنی ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہوا اور ٹیم کا اس طرح ہارنا ناقابل قبول ہے، مجھے اس پر سخت مایوسی ہوئی ہے۔
انھو ںنے کہا کہ 136 رنز کے ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش میں ٹیم جس طرح دباو کا شکار ہو کر ناکام ہوئی اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ہم انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں ٹیم کے کھلاڑی نوجوان ہوں یا تجربہ کا ر سب کو دور حاضر کی کرکٹ کے تقاضوں سے آگاہ ہونا چاہئے۔
انھوں نے کہا کہ چھوٹے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کی ناکامی اس کی عادت بن چکی ہے اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا کیونکہ یہ صورت حال یقینا ہم سب کےلئے مایوس کن بنتی جارہی ہے۔ہیڈ کوچ نے کہا اس ہدف کو دیکھ کر میں ایک اچھی شراکت کے ذریعے اس تک رسائی کی امید کر رہا تھا لیکن بیٹسمینوں نے سب کی توقعات پر پانی پھیر دیا۔ ابتدائی وکٹیں گرنے سے ٹیم پر دباو بڑھتا چلا گیا اور سابق کپتان اظہرعلی کا دوسری ہی گیند پر آوٹ ہوجانا ایسا دھچکا تھا جس سے ٹیم سنبھل نہ سکی۔ صرف136رنز کے تعاقب میں ٹیم کا اس طرح ڈھیر ہوجانا ناقابل یقین ہے بدقسمتی سے ایسا ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دوسری اننگز میں ایک اچھی شراکت قائم ہو جاتی تو پاکستانی ٹیم یہ میچ جیت سکتی تھی۔ ٹیم کے بیٹنگ آرڈر پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بہترین بیٹسمین نمبر3 پر کھیلتے ہیں اور اس وقت ٹیم کے بہترین بیٹسمین اظہرعلی ہیں۔مکی آرتھر کے مطابق وہ اسد شفیق کے نمبر4 پر کھیلنے کے حق میں ہیں کیونکہ اس طرح اگلے نمبروں پر نئے بیٹسمینوں کو کھیلنے کا موقع ملتا ہے اور فی الوقت یہی ترتیب سب سے بہتر ہے۔مکی آرتھر کی کوچنگ میں ٹیم اب تک 16 میں سے 10 ٹیسٹ میچوں میں ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کو کل پہلے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا کے ہاتھو ں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ۔ قومی کرکٹ ٹیم 134رنز کے تعاقب میں114رنز بنا کر آﺅٹ پویلین لوٹ گئی۔

Facebook Comments
Share Button