تازہ ترین

Marquee xml rss feed

پاک افغان سرحدی علاقے میں ایک اور امریکی ڈرون حملہ، 2 خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کر دیے جانے کی اطلاعات-مستونگ کے مرکزی بازارمیں دھماکے کی اطلاع-آرمی چیف کا آرمی میڈیکل سنٹرایبٹ آباد کا دورہ،ڈاکٹرزاورمیڈیکل سٹاف کی تعریف یاد گارشہداء پرحاضری اور پھول بھی چڑھائے،دہشتگردکی جنگ میں آرمی میڈیکل کورنے قیمتی جانیں ... مزید-طارق فضل چوہدری کی طرف سے وفاقی دارالحکومت میں ایمبیسی روڈ پر درختوں کی کٹائی کا نوٹس لینے پر سی ڈی اے نے رپورٹ پیش کر دی-عمران خان سیاست میں اناڑی ہیں، انہیں آرام کی ضرورت ہے ،ْ دانیال عزیز فرد جرم عائد ہونے کے بعد نیب ٹیم کون سے ثبوت تلاش کرنے کے لئے لندن گئی ہوئی ہے ،ْ میڈیا سے گفتگو ... مزید-وزیر اعظم کی قندھار میں افغان سکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملہ کی سخت مذمت-ایف آئی اے کی جدید بنیادوں پر تنظیم کی جائے،نئی ٹیکنالوجی سے جرائم پر قابو پانے کی صلاحیت حاصل کی جائے، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے موثر اور عملی اقدامات اٹھائے ... مزید-وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے نیب کو کرپٹ ترین ادارہ قراردے دیا نیب کرپشن ختم کرنے کی بجائے کرپشن کا گڑھ بن چکا،مشرف اور بعد کے ادوارمیں نیب کو سیاسی مقاصدکیلئے استعمال ... مزید-سیکرٹری وزارتِ انسداد منشیات اقبال محمود کا اے این ایف ہیڈکوارٹر راولپنڈی کا دورہ-ن لیگ خیبرپختونخواہ دوست محمد خان نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا

GB News

سرکاری ملازمین کیلئے لائف اورہیلتھ انشورنس

Share Button

پارلیمانی سیکرٹری اورنگزیب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت کے ماتحت سرکاری محکموں کے اڑتالیس ہزار ملازمین کی انشورنس کے حوالے سے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے’کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس مسودے کی حتمی منظوری دے دی جائے گی’انشورنس پالیسی کے تحت سرکاری ملازمین کو لائف انشورنس’ہیلتھ انشورنس اور پنشن ملے گی’ملاممین فی زمانہ جس مشکل صورتحال سے دوچار ہیں اس تناظر میں ان کی انشورنس کا فیصلہ اہم قدم ہے’بنیادی بات ملازم کی فلاح و بہبود ہے جس تیزی سے علاج مہنگا ہوتا جا رہا ہے عام آدمی کے بس میں یہ نہیں رہا کہ وہ اپنی آمدن میں علاج کرا سکے یہ حکم دیا گیا ہے کہ مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری ادا کردی جائے یہ صرف ایک حکم نہیں تھا معشیت اور سوسائٹی کی بقا کا مکمل کلیہ اسی ایک جملہ میں1400 سال قبل سمیٹ دیا گیا تھا ۔پسینہ خشک ہونے سے قبل مزدور کی مزدوری ادا کرنے میں ورکر کی ویلفیئر کا جو پیغام چھپا ہے اسے ملٹی نیشنل کمپنیاں بھانپ چکی ہیں ۔آج ہم کرینوں سے لٹک کر بلند و بالا عمارتوں کے شیشے صاف کرنے والوں کی مسکراتی تصاویر انٹرنیٹ پر دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ آخر کیوں یہ لوگ چند پیسوں کے لئے اپنی جانیں دائو پر لگا رہے ہیں ۔ یہ الگ بات کہ ہماری نگاہ میں وسعت نہیں رہی ۔ہم یہ نہیں جان پاتے کہ ہزاروں فٹ بلندی پر لٹکتے ملاز م کے چہرے پر مسکراہٹ کہاں سے در آتی ہے ۔ یہ وہ اعتماد ہے جو کمپنی کے سربراہ نے اسے دیا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ کمپنی اس کی ویلفیئر کے سلسلے میں کتنی حساس ہے ۔ اسے اپنی حفاظت کے انتظامات پر مکمل بھروسہ ہوتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگر تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود کسی لمحے کی غلطی اسے موت کے منہ میں دھکیل دے تو کمپنی اس کے خاندان کی قسمت بدل دے گی۔اس کے بچوں کی تعلیم ، روزگار اورماہانہ اخراجات یہی کمپنی ادا کرتی رہے گی ۔ تقریباصوبوں میں اس جانب پیشرفت کی جا چکی ہے یا کی جا رہی ہے کچھ عرصہ قبل خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے تمام سول ملازمین اورانکے اہلخانہ کومفت علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کیلئے میڈیکل اٹینڈنٹس رولز 2016کی منظوری دی تھی، نئے رولز سول سرونٹ ایکٹ 1973خیبرپختونخوا کے سیکشن 26کے تحت ترتیب دیئے گئے جس میں تجویز کیا گیاتھا کہ صوبے کے تمام سرکاری ملازمین کو موذی امراض سمیت ہرقسم کی بیماری کی صورت میں علاج معالجہ کی مفت سہولیات فراہم کی جائیںگی۔رولز کے تحت تمام سول ملازمین ،ریٹائرڈ سول ملازمین، انکے بیوی یا بیویاں، بچے اوروالدین کے علاوہ ان کے غیرشادی شدہ بہن اور بھائی جو ان پر انحصار کرتے ہیں بھی تشخیصی،سرجیکل اوردیگرطبی سہولیات سے مستفید ہوسکیں گے جو سرکاری ہسپتالوں، بی ایچ یوز، آرایچ سی،ڈینٹل ہسپتال، سول ہسپتال، تحصیل ہیڈ کوارٹرزہسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں بھی علاج کراسکیں گے۔رولز کے مطابق مہلک بیماری میں مبتلا کسی سرکاری ملازم کاعلاج سرکاری ہسپتال میں ممکن نہ ہو تو وہ ڈاکٹر کے ریفرنس پر پرائیویٹ ہسپتال سے بھی علاج کراسکیں گے اوراس صورت میں اسے سفری الائونس بھی فراہم کیا جائے گا۔اس سلسلے میں فنانس ڈیپارٹمنٹ تمام ملازمین اور ریٹائرڈملازمین کو کمپیوٹرائزڈ میڈیکل اٹینڈنٹس کارڈجاری کرے گا۔ رولز کے مطابق اگر کوئی ملازم بیرون ملک ڈیوٹی کے دوران بیمارپڑجائے تو اسکے علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔دوران علاج ملازم کی موت کی صورت میں اسکے میڈیکل اخراجات لواحقین کو اداکیے جائیں گے۔اسی طرح حکومت ملازمین کو موذی بیماریوں کے علاج کی سہولت فراہم کرنے کیلئے سرکاری وغیرسرکاری ہسپتالوں کے ساتھ معاہدہ کرے گی ۔تاہم سرکاری ملازمین ہسپتالوں میں معمول چیک اپ نہیں کراسکیں گے ۔اسی طرح جھوٹے میڈیکل کلیمز بنانے والے ملازمین کو چھ ماہ تک قید یا پھر ایک لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں تجویز کی جاسکتی ہیں۔ پروگرام کے تحت ایک ملازم سالانہ تین سے چارلاکھ روپے تک علاج کی سہولت حاصل کرسکے گا۔اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہے کہسرکاری ملازمین کے لیے کم تنخواہوں کے باعث کاروبار مندگی چلانا مشکل ہو چکا ہے ‘کسی سرکاری ملازم کی وفات کی صورت میں اس کے اہل خانہ کی آمدن کا ذریعہ ہی ختم ہو جاتا ہے اور محض پنشن میں ان کا گزارا ناممکنات میں سے ہوتا ہے اس لیے انشورنس کے ذریعے انہیں کافی حد تک ریلیف ملے گا اور ان کی مشکلات میں کمی ہو گی’حال ہی میں پنجاب حکومت نے صوبہ بھر کے سرکاری ملازمین کے لیے لائف ہیلتھ انشورنس سکیم متعارف کرانیکا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ خزانہ نے حکومت کی ہدایات پر لائف ہیلتھ سکیم شروع کرنے کیلئے تمام ملازمین سے رائے طلب کی ہے۔ سکیم سے صرف ریگولر ملازمین ہی فائدہ اٹھاسکیں گے۔فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ سوال نامے میں عہدہ، سکیل اور محکمہ کے ساتھ مختلف سوالات پوچھے گئے ہیں۔ سکیم کے تحت ملازمین کے سکیل کے مطابق تنخواہ سے کٹوتی کی جائے گی اور صرف خواہشمند ملازمین ہی سکیم سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔ لائف ہیلتھ انشورنس سکیم کا حتمی فیصلہ ملازمین کی رائے طلب کرنے کے بعد کیا جائے گاعلاوہ ازیںوزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف رواں ماہ صوبے بھر میں موٹر بائیک ایمبولینس سروس کا آغاز کر رہے ہیں۔یہ موٹرسائیکل ایمبولینس سروس ایک ساتھلاہور سمیت پنجاب بھر میں شروع کی جائے گی، موٹرسائیکل ایمبولینس کو تنگ گلیوں میں پہنچنے میں آسانی ہوگی جہاں فوری ایمبولینس نہیں پہنچ پاتی وہاں موٹر سائیکل جائے گی جب کہ اس سروس کے عملے کو مکمل تربیت دی جائے گی۔اس طریقہ کار سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ‘بہر حال امید ہے کہ حکومت ملازمین کی فلاح و بہبود کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

Facebook Comments
Share Button