تازہ ترین

Marquee xml rss feed

پاک افغان سرحدی علاقے میں ایک اور امریکی ڈرون حملہ، 2 خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کر دیے جانے کی اطلاعات-مستونگ کے مرکزی بازارمیں دھماکے کی اطلاع-آرمی چیف کا آرمی میڈیکل سنٹرایبٹ آباد کا دورہ،ڈاکٹرزاورمیڈیکل سٹاف کی تعریف یاد گارشہداء پرحاضری اور پھول بھی چڑھائے،دہشتگردکی جنگ میں آرمی میڈیکل کورنے قیمتی جانیں ... مزید-طارق فضل چوہدری کی طرف سے وفاقی دارالحکومت میں ایمبیسی روڈ پر درختوں کی کٹائی کا نوٹس لینے پر سی ڈی اے نے رپورٹ پیش کر دی-عمران خان سیاست میں اناڑی ہیں، انہیں آرام کی ضرورت ہے ،ْ دانیال عزیز فرد جرم عائد ہونے کے بعد نیب ٹیم کون سے ثبوت تلاش کرنے کے لئے لندن گئی ہوئی ہے ،ْ میڈیا سے گفتگو ... مزید-وزیر اعظم کی قندھار میں افغان سکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملہ کی سخت مذمت-ایف آئی اے کی جدید بنیادوں پر تنظیم کی جائے،نئی ٹیکنالوجی سے جرائم پر قابو پانے کی صلاحیت حاصل کی جائے، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے موثر اور عملی اقدامات اٹھائے ... مزید-وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے نیب کو کرپٹ ترین ادارہ قراردے دیا نیب کرپشن ختم کرنے کی بجائے کرپشن کا گڑھ بن چکا،مشرف اور بعد کے ادوارمیں نیب کو سیاسی مقاصدکیلئے استعمال ... مزید-سیکرٹری وزارتِ انسداد منشیات اقبال محمود کا اے این ایف ہیڈکوارٹر راولپنڈی کا دورہ-ن لیگ خیبرپختونخواہ دوست محمد خان نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا

GB News

گلگت بلتستان کی برفانی چوٹیوں پر درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے گلیشیئر بڑھ رہے ہیں

Share Button

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)موسمیاتی تبدیلی کے زیرِ اثر دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھنے کے باعث گلیشیئر پگھل رہے ہیں، لیکن پاکستان کے شمالی علاقوں (گلگت بلتستان)کی برفانی چوٹیوں پر درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے گلیشیئر بڑھ رہے ہیں۔عالمی سطح پر سائنس دانوں کے لیے تو یہ اچھی خبر ہو لیکن عام پاکستانیوں کے لیے یہ خبر اس لیے اچھی نہیں ہے کیونکہ گلیشیئر پگھلنے کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کم آ رہا ہے اور آنے والے برسوں میں پاکستانی دریاؤں میں پانی کی سات فیصد تک کمی دیکھی جا سکتی ہے۔یہ بات ایریزونا یونیورسٹی میں پاکستانی گلیشیئروں پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے ایک گروپ نے بدھ کے روز شائع ہونے والے اپنے تحقیقی مقالے میں بتائی ہے۔ایک پاکستانی اور تین امریکی سائنس دانوں نے پاکستان کے ہمالیہ، قراقرم اور ہندو کش پہاڑوں پر واقع گلیشیئروں میں پچھلے 50 برسوں کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کا ڈیٹا اکٹھا کر کے اس پر اپنی تحقیق کی بنیاد رکھی ہے۔ایریزونا یونیورسٹی میں پاکستانی گلیشیئروں پر ڈاکٹریٹ کرنے والے فرخ بشیر نے اپنے تین امریکی پروفیسروں شْوبِن زِنگ، ہوشن گپتا اور پیٹر ہیزنبرگ کے ساتھ مل کر یہ تحقیق کی ہے۔اس تحقیق پر مبنی فرخ بشیر کا مقالہ امریکی جیو فزیکل یونین نامی سائنسی جرنل میں شائع ہوا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ پاکستانی گلیشیئروں پر موسمیاتی تبدیلی کا اثر ذرا مختلف انداز میں ہو رہا ہے۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ پاکستانی پہاڑی چوٹیوں پر واقع گلیشیئر باقی دنیا کے گلیشیئروں کے برعکس بڑھ رہے ہیں۔یہ گلیشیئر دنیا بھر میں بر اعظم انٹارکٹیکا کے علاوہ دنیا بھر میں سب سے بڑے گلیشیئر مانے جاتے ہیں اور پاکستان کو پانی کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔اس وجہ سے اس امریکی تحقیق کا کہنا ہے کہ گلیشیئروں کے اپنی جگہ پر قائم رہنے یا بڑھنے کی وجہ سے ان گلیشیئروں سے نکلنے والے دریاؤں میں پانی کی مقدار بھی کم ہونے کا خطرہ ہے۔رپورٹ کے خالق اور پاکستانی محکمہ موسمیات کی جانب سے یونیورسٹی آف ایریزونا کے سکالر فرخ بشیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس غیر معمولی صورتحال کی وجہ سے پاکستانی دریاؤں میں پانی کی فراہمی سات فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔یاد رہے کہ یہ گلیشیئر پاکستان میں دریاؤں کے سب سے بڑے نظام سندھ کا منبع ہونے کے علاوہ بہت سے دیگر دریاؤں اور جھیلوں کے لیے بھی پانی فراہم کرتے ہیں۔سائنس دان پاکستانی گلیشیئروں کے ماحول میں پائی جانے والی اس غیر معمولی صورتحال کو ‘قراقرم ایناملی’ کا نام دیتے ہیں۔ یعنی عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی جو اثرات لا رہی ہے، پاکستان کے اس علاقے میں اس کے الٹ حالات دیکھے جا رہے ہیں۔پاکستانی گلیشیئروں پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گلیشیئروں بڑھنے کی وجہ درجہ حرارت میں کمی کے علاوہ اس علاقے میں بادلوں اور نمی کا ہونا اور تیز ہواؤں کا نہ چلنا ہے۔پاکستانی گلیشیئروں پر ہونے والی یہ سب سے بڑی اور منظم تحقیق ہے۔ اس دوران فرخ بشیر کی ٹیم کئی مرتبہ ان گلیشیئروں پر خود بھی گئی اور پاکستان کے محکمہ موسمیات کے 50 سالہ اعداد و شمار سے بھی مدد لی ہے

Facebook Comments
Share Button