تازہ ترین

Marquee xml rss feed

عمران خان کے لیے راستہ صاف، سابق وفاقی وزیر نے این اے 131لاہور سے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے ہمایوں اختر نے عمران خان کے ... مزید-سندھ کے عوام کو وڈیروں نے اپنی طاقت کے زور سے نسل درنسل غلام بنائے رکھا، عائشہ گلالئی پیپلز پارٹی نے سندھ کو 10 میں بہتر بنانے کے بجائے مزید خراب کردیا، ضلع سجاول میں ... مزید-سندھ پولیس کی سطح پر شجرکاری مہم کا فوری طور پر آغاز کیا جائے ، آئی جی سندھ کی ہدایات-شاہ عبدالطیف بھٹائی انسائیکلوپیڈیا کی تین جلدیں شائع ہونا تھیں جن میں سے آج پہلی جلد شائع ہوگئی، نگراں وزیراعلیٰ سندھ شاہ عبداللطیف بھٹائی انسائیکلو پیڈیا سندھی ... مزید-پی پی پی کے حلقہ پی بی 25سے امیدوار شریف خلجی (کل) پریس کانفرنس کرینگے-سندھ کو پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے مل کر تباہ کردیا ہے، عوام بنیادی مسائل حل نہ ہونے سے پریشان ہیں، مصطفی کمال سندھ میں اگلا وزیر اعلیٰ پی ایس پی کا یا پھر ہمارا حمایت ... مزید-ایم ایم اے کے انتخابی دفتر پر پولیس کی فائرنگ پولیس اہلکار کو معطل کر کے واقعے کی مزید انکوائری کا حکم دے دیا گیا، پولیس-حکومت اور اس کے کارندوں نے 80 سالہ بزرگ پنشنرز کو عمر کے آخری دور میں بھی شدید عذاب میں مبتلا کررکھا ہے، جنرل سیکریٹری ایمپلائز ایسوسی ایشن چیف جسٹس کے ریمارکس عدالت ... مزید-عابد باکسر نے شہباز شریف کے لیے نئی مصیبت کھڑی کردی جائیداد ہتھیانے کے لیے مجھ سے قتل کروایا گیا،بعد میں مجھے ہی کیسسز میں ملوث کروا کر جعلی مقابلے میں قتل کروانے کی کوشش ... مزید-بلاول بھٹو زرداری انتخابات میں شفافیت پر بات کرنے سے قبل نواز شریف کا ساتھ دینے پر قوم سے معافی مانگیں ،ْفواد چوہدری بلاول کی جانب سے کسی نام نہاد سازش کی جانب اشارہ ... مزید

GB News

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے سپریم اپیلٹ کورٹ میں ججزکی تعیناتی کی قرار داد کی منظوری دیدی

Share Button

گلگت ( خصوصی رپورٹ) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے ایک قرار داد کی متفقہ طور پر منظوری دی ہے جس میں سپریم اپیلٹ کورٹ میں جج کی ایک اسامی اور چیف کورٹ میں ججوں کی دو آسامیوں پر میرٹ پر گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے وکلا اور ججز سے تعیناتی جلد عمل میں لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے قرارداد میں کہا گیا ہے گلگت بلتستان کا یہ مقتدار ایوان اس امر پر زور دیتا ہے کہ گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ میں جج کی خالی آسامی اور چیف کورٹ گلگت بلتستان میں ججز کی خالی دو آسامیوں پر گلگت بلتستان کے وکلا اور ججز سے ہی ان خالی آسامیوں پرتعیناتی جلد از جلد عمل میں لائی جائے یہ معزز ایوان سپریم اپیلٹ کورٹ میں جج کی خالی آسامی پر غیر مقامی شخص کی تعیناتی کی کوشش پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور ساتھ ساتھ گریڈ 1سے اوپر کی خالی آسامیوں پر سپریم اپیلٹ کورٹ اور چیف کورٹ میں اہلیت اور قابلیت رکھنے والے صرف گلگت بلتستان کے مقامی افراد کو بعداز تمام ضروری قانونی کارروائی تعیناتی عمل میں لائی جائے ،یہ قرار داد پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ نے ایوان میں پیش کیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اورنگزیب ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم اپیلٹ کورٹ میں ایک غیر مقامی شخص کو بحیثیت جج تقرری کی کوشش ہورہی ہے جس پر گلگت بلتستان کے وکلا احتجاجاً عدالت کی کارروائی کا بائیکاٹ کیاہے انہوں نے کہا کہ سپریم اپیلٹ کورٹ کی خالی آسامیوں پر چور دروازے سے گریڈ ایک سے سولہ تک غیر مقامی افراد کو بھرتی کیاگیا حتیٰ کہ خانساماں بھی غیر مقامی بھرتی کیاگیا اس زیادتی پر ہم خاموش رہے تو زیادتی اور ناانصافیوں میں مزید اضافہ ہوگا وزیر تعلیم حاجی ابراہیم ثنائی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں چیف کورٹ اور سپریم اپیلٹ کورٹ میں سفارش اور سیاسی بنیادوں پر تقرریاں کی گئی ہیں میرٹ کو نظرانداز کرکے من پسند افراد کو نوازا گیا ہے اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے اور ججوں کی تقرری خالصتاً میرٹ پر کیاجائے غلام حسین ایڈووکیٹ نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ چیف کورٹ اور سپریم اپیلٹ کورٹ میں فرقہ ورانہ بنیادوں پر تقرریاں کی جاتی ہیں شیعہ اور سنی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو چیف کورٹ اور سپریم اپیلٹ کورٹ میں جج لگادیا جاتا ہے جبکہ اسماعیلی برادری اور نوربخشی برادری کو مسلسل نظر انداز کیاجارہاہے حتیٰ کہ وفاق بجھوانے والی سمری میں بھی ان دونوں مکاتب فکر کے لوگوں کو شامل نہیں کیاجاتاہے جبکہ گانچھے اور سکردو میں نوربخشی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے کئی قابل وکلا موجود ہیں وزیر سیاحت فداخان نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کے اداروں میں ناانصافی ہورہی ہے اس سے قبل سپریم اپیلٹ کورٹ اور چیف کورٹ میں میرٹ کو نظرانداز کرکے سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر تقرریاں کی گئی ہیں اگر اسی طریقے سے بھرتیاں کرنا ہے تو پھر اسماعیلی اور نوربخشی حضرات کی بھی تقرری کی جائے قرار داد کی کسی بھی رکن اسمبلی نے مخالفت نہیں کی جس پر سپیکر فدا محمد ناشاد نے قرار داد کی متفقہ منظوری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سپریم اپیلٹ کورٹ اور چیف کورٹ میں تقرریاں میرٹ پر کی جائیں ۔

 

Facebook Comments
Share Button