GB News

فاٹا اور مالاکنڈ میں ٹیکس نہیں ، گلگت بلتستان میں کیوں؟ جاوید حسین

Share Button

گلگت(خصوصی رپورٹ) پی پی کے رکن اسمبلی جاوید حسین نے کہا ہے کہ فاٹا اور مالاکنڈ ڈویژن پاکستان میں شامل ہیں ان علاقوں کی قومی اسمبلی اورسینیٹ میں نمائندگی ہے اس کے باوجود ان علاقوں میں ٹیکس نافذ نہیں ہے تو گلگت بلتستان کے عوام کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دئیے بغیر ٹیکسوں کا نفاذ کیوں کیاگیا ہے انہوں نے بدھ کے روز ٹیکسوں کے حوالے سے ایک تحریک التوا پر ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ لاگو کیا تو وہاں کے عوام نے احتجاج کیا جس کے بعد وفاقی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن سے کسٹم ایکٹ کے نفاذ کا فیصلہ واپس لیا اس کے علاوہ ملک میں کئی علاقے ایسے ہیں جو ٹیکس فری زون ہیں اس لئے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین تک ان علاقوں کو ٹیکس فری زون قرار دیا جائے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو گورننس آرڈر 2009ء کے تحت جو سسٹم ملا ہے وہ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے دیا ہے اس کی بھی تعریف ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ اگر سابق حکومت نے کوئی غلط فیصلہ کیا ہے تو ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اسے درست کریں اور گلگت بلتستان میں ٹیکسوں کے نفاذ کے فیصلے کو واپس تبدیل کرائیں انہوں نے کہا کہ وفاق نے سترسالوں سے ان علاقوں کو متنازعہ رکھا جس کی وجہ سے امریکی وزیر دفاع نے ان علاقوں کو متنازعہ قرار دے رہے ہیں اگر وفاق گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین کرتا تو آج دشمن کو بولنے کیلئے کچھ نہیں رہ جاتا۔

Facebook Comments
Share Button