GB News

گلگت میں کارڈیک ہسپتال کی تعمیر

Share Button

گلگت میں1513ملین کی لاگت سے اسٹیٹ آف دی آرٹ کارڈیک ہسپتال اگلے دو سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔اس ضمن میں محکمہ صحت گلگت بلتستان اور سی پیک کنسلٹنگ فرم کے مابین ایک معاہدے پردستخط کیے گئے ہیں’معاہدے کے تحت تین ماہ میں امراض قلب ہسپتال کے ماسٹرپلان’ڈیزائن’ ڈرائنگ اور ٹینڈر کے مراحل مکمل کر لیے جائیں گے مذکورہ کنسلٹنگ فرم ہسپتال کے تعمیراتی کا م کی مکمل نگرانی کرے گی ۔گلگت میں کارڈیک ہسپتال کی تعمیر اہم پیشرفت ہے جس تیزی سے مہلک بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے اوردل کے بڑھتے ہوئے امراض مستقل تشویش کا باعث بن رہے ہیںاس تناظر میں کارڈیک ہسپتال کی ضرورت دوچند ہو جاتی ہے ۔ ہمارے ہاں تیس سے چالیس فیصد اموات دل کی بیماری کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق کورونری ہارٹ ڈیزیز میں دو لاکھ افراد کی اموات ہر سال وقوع پذیر ہوتی ہے ۔دنیا کے کئی دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی دل کی بیماریاں انسانی ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے پاکستان میں آج پیدا ہونے والے ایک تہائی بچوں کو مستقبل میں امراض قلب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دل کی مختلف بیماریاں عام لوگوں کی ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ اس لیے بن چکی ہیں کہ لوگوں کی خوراک، عادات اور طرز زندگی مجموعی طور پر غیر صحت مند ہو چکے ہیں۔پاکستان میں قریب ساڑھے تین لاکھ افراد سالانہ دل کی بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ایک انٹرنیشنل میڈیکل سروے رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سترہ اعشاریہ پانچ ملین افراد ہر سال دل کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ اس حوالے سے حکومتوں کی توجہ بڑے شہروں کی طرف ہے اورتقریبا تمام بڑے شہروں میں امراض قلب کے ہسپتال بنائے گئے ہیں لیکن دیہی اور دوردراز کے علاقوں میں صورت حال تسلی بخش نہیں۔ شہروں میں ہسپتال تو ہیں لیکن علاج مہنگا ہے۔ مریضوں کو نوے فیصد علاج اپنی ہی جیب سے کرانا پڑتا ہے۔اگر دل کے عارضے میں مبتلا کسی مریض کا بائی پاس یاانجیوگرافی ہو،اس کیلئے کم از کم ایک سال کا وقت درکار ہوتا ہے لیکن اتنا طویل اور مہنگا علاج خود اپنی جیب سے ادائیگی کے ساتھ کرا سکنے والے مریضوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ اسی لیے جب متوسط طبقے کے کسی شہری کو دل کا عارضہ لاحق ہوتا ہے، تو اسی علاج کے باعث اس کا پورا خاندان غربت کی نچلی سطح تک پہنچ جاتا ہے۔امرض قلب کی بڑی وجوہات اور دل کی بیماریوں میں عمومی طرز زندگی کا عمل دخل زیادہ ہے کسی عام آدمی کی نسبت فربہ انسان کو ہارٹ اٹیک ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح تمباکو نوشی، ناقص اور غیر متوازن غذا اور ورزش کا فقدان بھی امراض قلب کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔دل کی بیماریاں بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جب ان کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں، تو لوگ انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔حالانکہ امراض قلب سے بچائو کیلئے باقاعدہ جسمانی ورزش پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔اس طرح نہ صرف عارضہ قلب بلکہ کئی دیگر بیماریوں سے بھی،جن میں بلند فشارخون،ذیابیطس اور موٹاپا بھی شامل ہیں، بچا جا سکتا ہے۔سب سے ضروری بات یہ ہے کہ درست خوراک مناسب مقدار میں کھائی جائے اور سالانہ بنیادوں پر دل کی کارکردگی کا معائنہ بھی کرایا جائے تاکہ امراض قلب سے بچا جا سکے غریب لوگ رقم نہ ہونے کے باعث اس جانب توجہ نہیں دے پاتے اور مرض بڑھتے بڑھتے نوبت بائی پاس تک پہنچ جاتی ہے علاج اتنا مہنگا ہے کہ منٹوں میں لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں جومالی استطاعت رکھتے ہیں وہ تو علاج کروا لیتے ہیں،لیکن غریب شہری کیا کرے، درحقیقت حکومت صحت عامہ کے شعبے پر جس تناسب سے سرکاری رقوم خرچ کرتی ہے وہ بہت کم ہے ۔دل کے امراض سے پوری دنیا کی آبادی متاثر ہے ۔برطانیہ میں تقریبا ہر سال تین لاکھ لوگ دل کے دورے سے ہلاک ہوجاتے ہیں ۔پاکستان میں دل کے امراض کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے شوگر ، کولیسٹرول کا بڑھ جانا موٹاپا اور سگریٹ نوشی کا کثرت سے استعمال ہے ۔ اس کے علاوہ اگر دل کا مرض والدین میں کسی کو پچاس سال کی عمر سے پہلے ہوچکا ہے توباقی افراد کے متاثر ہونے کے پچاس فیصد امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ جدید دور میں کھانے پینے کی عادات اوراوقات تبدیل ہوچکے ہیں ۔ سادہ غذا کی جگہ فاسٹ فوڈ غذائوں اور کولڈڈرنکس نے لے لی ہے اس کے علاوہ الکوحل کا استعمال بھی دل کے امراض کا باعث ہے’کولیسٹرول کا بڑھ جانا بھی دل کے امراض کا پیش خیمہ بنتا ہے ۔لیکن اگر مثبت انداز کو اپنا لیا جائے تو دل کے عارضے سے بچا جاسکتا ہے ۔اسی طرح فیٹی لیور کی بیماری دنیا میں کم لیکن ہمارے ہاں بہت زیادہ ہے۔ماہر ڈاکٹرز کے مطابق اس بیماری کی علامات ظاہر ہونے میں وقت لگتا ہے عام طور پر اس کی پہلی علامت جسمانی کمزوری کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے جو مستقل نہیں ہوتی اس صورت میں زیادہ تر افراد ڈاکٹر سے مشورہ نہیں کرتے اور اسی طرح ہی معمولات زندگی انجام دیتے رہتے ہیںاس کی دوسری علامت پیٹ کے دائیں جانب درد ہوتا ہے اس بیماری کے شکار لوگ جب ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں تو علامات جاننے کے بعد ڈاکٹر خون کے مختلف ٹیسٹ اور الٹراسائونڈ کروانے کا مشورہ دیتے ہیں ، جس کے بعد فیٹی لیور کی تشخیص ہوتی ہیں۔جگر کی بعض بیماریاں اسے آہستہ آہستہ ناکارہ بنا دیتی ہیں اور انسان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے’ان حالات میں ضروری ہے کہ تمام جگہوں پر مہلک بیماریوں کے علاج کا اہتمام کیا جائے اسی طرح بروقت تشخیص کی سہولت بھی حکومتوں کی طرف سے مفت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ غریب و متوسط طبقے کے لوگوں کو یہ بیماری اچانک نہ آ گھیرے۔

Facebook Comments
Share Button