GB News

جے یوآئی فرقے کی بنیاد پر کی جانے والی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ،گلگت میں اجلاس

Share Button

گلگت ( پ ر)جمعیت علماء اسلام گلگت بلتستان کا ایک اہم اور غیر معمولی اجلاس گلگت میں منعقد ہوا، اجلاس کی صدارت جے یوآئی گلگت بلتستان کے امیر مولانا سید سرورشاہ نے کی۔اجلاس میں صوبائی مجلس عاملہ(کابینہ)کے اکثر اراکین سمیت جے یوآئی کے سینئر رہنمائوں نے شرکت کی۔ شرکت کرنے والوں میں خطیب جگلوٹ سینئرنائب امیر جے یوآئی جی بی مولانا سیدمحمد،سابق وزیرصحت حاجی گلبرخان، صوبائی جنرل سیکریٹری میربہادر اپوزیشن لیڈر حاجی شاہ بیگ ،صوبائی ڈپٹی سیکریٹری قاری امتیاز احمد میر،ضلعی امیر منہاج الدین،سابق ضلعی امیر حاجی جمعہ خان، ضلعی سیکریٹری اطلاعات مولانا رحمت اللہ سراجی، تحصیل گلگت کے جنرل سیکریٹری مولاناسعیدالرحمان ، سابق امیدوار حلقہ 2چلاس حاجی پرویز اقبال ،سینئر رہنما بھائی فیروز احمدبسین گلگت،حاجی عبدالصمد تانگیراور ضیاء الرحمان چلاس نے شرکت کی۔اجلاس میں جے یوآئی کی مجلس عاملہ نے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی غیر قانونی تبدیلی پر تفصیلی غور وخوض کے بعد اس کو غیر قانونی وغیر اخلاقی قراردیا ۔اجلاس میں صوبائی امیر نے جی بی اسمبلی کی حالیہ پاس کی جانے والی قرارداد کے حوالے سے صوبائی جماعت کی اب تک کی کوششوں پر بریفنگ دی جس پر شرکاء اجلاس نے نہ صرف کی ان کی تائید کی بلکہ ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے جی بی اسمبلی کی عجلت میں اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کیلئے غیر قانونی قرارداد پاس کرنے اور عجلت میں گزٹ آف پاکستان میں شائع کرانے کے خلاف ہر آپشن استعمال کرنے پر غورکرتے ہوئے درج ذیل فیصلے کئے:۔فیصلوںمیں گلگت بلتستان میں قیام امن اور مذہبی رواداری کے حوالے سے قائد حزب اختلاف حاجی شاہ بیگ کی خدمات قابل تحسین ہیں اورجے یوآئی فرقے کی بنیاد پر کی جانے والی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ، اگر ایسا ہوتا تو کروڑوں کی آفر ٹھکراکر جے یوآئی کے ممبر اسمبلی حاجی شاہ بیگ کونسل کے الیکشن میں تحریک اسلامی کے امیدوار کو ووٹ نہ دیتے۔جی بی اسمبلی میں بعض ممبران کی طرف سے اپوزیشن لیڈر کو تبدیل کرنے کے حوالے سے کی جانے والی غیر قانونی کوششوں سے علاقے میں موجود مذہبی ہم آہنگی کو سخت دھچکہ لگنے کا خدشہ ہے،جس کی کسی مفاد پرست کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جی بی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کیلئے بنائے جانے والے قانون میں غیر قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے گورنر ،سی ایس اور سیکریٹری قانون کو بائی پاس کرکے عجلت میں گزٹ آف پاکستان میں شائع کرایاگیا،جس کو جے یوآئی کسی صورت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ سپیکر قانون ساز اسمبلی ایوان میں مذہبی منافرت پھیلارہے ہیں جس کے جے یوآئی کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں ،ان شواہد کو وقت آنے پر جے یوآئی اسمبلی کے فلور پر پیش بھی کرے گی۔ بعض سیاسی جماعتیں جی بی میں مذہبی سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرکے اپنے لئے اقتدارکا راستہ ہموار کرکے اقتدار پرقابض رہنے کی ناکام کوششیں کررہی ہیں جو کسی صورت مذہبی سیاسی جماعتوں کو قابل قبول نہیں۔ جے یوآئی گلگت بلتستان پر کسی بھی قسم کے ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ہے اور ہم گلگت بلتستان کی تاجر برادری کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہیںاور میاں محمد نواز شریف نے گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دینے کے حوالے سے کمیٹی قائم کرکے یہاں کی عوام کے مطالبہ کو سنجیدگی سے لیا اور سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی نے آئینی حقوق سے متعلق جامع سفارشات وزیر اعظم کو بھیجی ہیں توقع ہے کہ بہت جلد گلگت بلتستان کوآئینی حقوق ملیں گے ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ٹیکس کا نفاذ پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا ہے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اُس وقت کی کونسل نے یہ قانون بنایا ہے ،لیکن اُس کے باوجود ہم گلگت بلتستان میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دیئے بغیر ٹیکس کا نفاذ مناسب اقدام نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کا دورہ سکردو کے موقع پر ہم نے وزیر اعظم سے ٹیکس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے ،مجھے اُمید ہے وزیر اعظم بہت جلد ٹیکس کے خاتمے کا اعلان کریں گے اور گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق کی نوید بھی سنائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگ ٹیکس کے ایشو پر سیاست کررہے ہیں ۔وہ اپنا شوق پورا کریں ،گلگت بلتستان حکومت ترقی کا سفر مسلسل جاری رکھتے ہوئے عوامی مسائل کو حل کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک سے سب سے زیادہ گلگت بلتستان کے لوگ مستفید ہونگے ،یہاں پر سی پیک کی وجہ سے اکنامک زون بنیں گے ،لوگوں کو روزگار ملے گا ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ثمرات سے یہاں کے لوگ مستفید ہونا شروع ہوئے ہیں گلگت بلتستان کے بڑے بڑے پراجیکسٹس کو سی پیک کا حصہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت گلگت بلتستان کے ہر شعبے میں انقلاب برپا کیا ہے ،بلتستان میں یونیورسٹی،چلاس ،ہنزہ اور غذر میں یونیورسٹی کیمپس ہماری حکومت کے کارنامے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے نئے بننے والے اضلاع کو فنگشنل کیا اور داریل تانگیر کو ضلع بنانے کیلئے کوشاں ہیں بہت جلد داریل تانگیر بھی ضلع بنے گا ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کو گلگت بلتستان سے خصوصی لگاو اور محبت ہے ،یہاں کے عوام مایوس نہ ہوں بہت جلد یہ خطہ معاشی حب بنے گا ۔

Facebook Comments
Share Button